شمالی ہندوستان میں شدید گرمی، کئی علاقوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے پار

شمالی ہندوستان میں شدید گرمی اور لو نے حالات سنگین بنا دیے ہیں۔ دہلی، یوپی، راجستھان، پنجاب اور ہریانہ کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے اوپر پہنچ گیا، محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کیا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

نئی دہلی: شمالی ہندوستان میں شدید گرمی اور لو کا اثر مزید خطرناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ دہلی سمیت راجستھان، اتر پردیش، پنجاب، ہریانہ اور دیگر کئی علاقوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے اوپر پہنچ گیا ہے، جس کے بعد محکمہ موسمیات نے کئی ریاستوں کے لیے ریڈ اور اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔ محکمہ کے مطابق آئندہ چند دنوں تک گرمی سے فوری راحت ملنے کے امکانات کم ہیں، جس کے باعث عام زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

دہلی میں دوپہر کے وقت گرمی اور تیز گرم ہواؤں کے باعث لوگوں کا گھروں سے باہر نکلنا دشوار ہو گیا۔ کئی علاقوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے اوپر ریکارڈ کیا گیا۔ سڑکوں پر لوگوں کی آمد و رفت کم دیکھی گئی اور لوگ دھوپ سے بچنے کی تدابیر اختیار کرتے نظر آئے۔

اتر پردیش شدید گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ریاستوں میں شامل ہے۔ وارانسی میں درجہ حرارت 45 سے 46 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے سے حالات دشوار ہو گئے۔ مقامی لوگ دھوپ سے بچنے کے لیے چھتریوں، سر ڈھانپنے والے کپڑوں اور ہلکے لباس کا استعمال کر رہے ہیں۔ شہریوں نے باہر سے آنے والے زائرین اور سیاحوں کو دوپہر کے وقت غیر ضروری سفر سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔


ہمیرپور اور باندا سمیت کئی اضلاع میں لو کی شدت برقرار ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سال گرمی گزشتہ برسوں کے مقابلے زیادہ سخت محسوس ہو رہی ہے۔ نوئیڈا میں گرمی سے متعلق بیماریوں کے بڑھتے خدشات کے پیش نظر صحت انتظامیہ نے تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ضلع اسپتال میں لو سے متاثر مریضوں کے لیے خصوصی ٹھنڈا کمرہ قائم کیا گیا ہے جبکہ اضافی ڈاکٹروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔

غازی پور میں طبی حکام نے بتایا کہ گرمی اور لو کے پیش نظر خصوصی وارڈ بنایا گیا ہے تاکہ متاثر افراد کو فوری طبی سہولت فراہم کی جا سکے۔

راجستھان کے کوٹا میں شدید گرمی انسانوں کے ساتھ جانوروں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ شہری انتظامیہ کی جانب سے مویشیوں کو گرمی سے بچانے کے لیے پانی کے چھڑکاؤ اور ٹھنڈک کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ چنڈی گڑھ میں بھی آئندہ کم از کم 48 گھنٹوں تک لو جیسی صورت حال برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ہریانہ کے روہتک میں 46.9 ڈگری سیلسیس جبکہ پنجاب کے فرید کوٹ میں 47 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔

پہاڑی علاقوں میں بھی غیر معمولی گرمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ہماچل پردیش کے کانگڑا اور سولن اضلاع کے لیے گرمی اور لو کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ اونا 43.4 ڈگری سیلسیس کے ساتھ ریاست کا سب سے گرم مقام رہا جبکہ شملہ میں بھی موسم کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ شمالی ہندوستان میں بڑھتی گرمی نے لوگوں کی مشکلات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔