دنیا کی ٹاپ 100 کمپنیوں میں ہندوستان کی ایک بھی کمپنی نہیں، اپوزیشن نے معاشی پالیسیوں پر حکومت کو بنایا ہدف تنقید
کانگریس اور سماجوادی پارٹی نے کہا کہ خراب معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ہندوستان کی ایک بھی کمپنی دنیا کی 100 بڑی کمپنیوں میں شامل نہیں رہی اور حکومت نے سرمایہ کاری، روزگار اور معیشت کو نقصان پہنچایا

ہندوستان کی معاشی صورتحال کو لے کر اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھر مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ کانگریس اور سماجوادی پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی معیشت دباؤ میں ہے اور اس کے اثرات صنعت، روزگار اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں صاف نظر آ رہے ہیں۔
کانگریس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دنیا کی ٹاپ 100 کمپنیوں میں اب ہندوستان کی ایک بھی کمپنی شامل نہیں ہے۔ پارٹی کے مطابق ہندوستانی شیئر بازار سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوا ہے اور بڑے بیرونی سرمایہ کار مسلسل اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اگر سرمایہ کاروں کا بھروسہ کم ہوتا رہا تو اس کا اثر روزگار، صنعت اور معاشی سرگرمیوں پر پڑ سکتا ہے۔
پارٹی نے حکومت کی معاشی اور خارجہ پالیسیوں پر بھی سوال اٹھائے۔ کانگریس کے مطابق اگر وقت رہتے ضروری اقدامات کیے جاتے تو معیشت کو موجودہ چیلنجز کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ پارٹی نے خبردار کیا کہ بے روزگاری میں اضافہ، صنعتوں کی مشکلات اور کاروباری سرگرمیوں میں سستی ملک کے لیے تشویش کا سبب بن سکتی ہے۔
اسی معاملے پر سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ معاشی پالیسیوں کا منفی اثر مختلف شعبوں پر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق مینوفیکچرنگ، تجارت، ٹیکسٹائل، صحت، نقل و حمل، سروس سیکٹر اور چھوٹے کاروبار متعدد مسائل سے دوچار ہیں۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور بازار میں مانگ میں کمی نے عام لوگوں اور کاروباری طبقے کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چھوٹے دکانداروں اور مقامی کاروباروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزگار کے مواقع بڑھانے اور کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے مؤثر معاشی اقدامات ضروری ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کے ان الزامات کے درمیان حکومت کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم معاشی پالیسیوں، سرمایہ کاری، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کو لے کر سیاسی بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔
