شہد کی مکھیوں کا عالمی دن: اگر شہد کی مکھیاں ناپید ہو گئیں تو کیا ہوگا؟ آئیے جانتے ہیں

ہر شخص شہد کی مکھیوں کو بچانے میں اپنا تعاون دے سکتا ہے۔ گھر کی بالکونی یا باغیچے میں پھولوں کے پودے لگائیں۔ کیڑے مار ادویات کا استعمال بالکل نہ کریں۔

<div class="paragraphs"><p>شہد کی مکھی، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

پھلوں اور پھولوں پر بیٹھنے والی چھوٹی چھوٹی شہد کی مکھیاں فطرت کا ایک بہت اہم حصہ ہیں، جو فصلوں کے لیے بارآوری (پولینیشن) کا کام کرتی ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ شہد کی مکھیوں کے بغیر دنیا کے تحفظ غذا اور غذائیت پر شدید بحران آ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ہر سال 20 مئی کو شہد کی مکھیوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن 2018 سے منایا جا رہا ہے۔ سلووینیا حکومت اور ایپیمونڈیا کی کوششوں سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 20 مئی کو یہ دن منانے کا اعلان کیا تھا۔

آج کی تاریخ یعنی 20 مئی کا انتخاب جدید شہد کی مکھیوں کے پالنے کے علمبردار اینٹون جانشا کے یوم پیدائش کی مناسبت سے کیا گیا۔ سلووینیا میں شہد کی مکھیوں کو پالنے کی ایک طویل روایت رہی ہے۔ آج کے دور میں شہد کی مکھیوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے، اسی لیے یہ دن ان کے تحفظ کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ایسے میں ان کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے ہر سال 20 مئی کو شہد کی مکھی کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جو شہد کی مکھیوں اور پولینیشن کرنے والے کیڑے مکوڑوں کے گھروں کی حفاظت، ان کی تعداد بڑھانے اور شہد کی مکھیوں کے پالنے کو فروغ دینے کے لیے بیداری پھیلانے کا ایک بہترین موقع ہے۔


اقوام متحدہ (یو این) کے مطابق اگر دنیا سے شہد کی مکھیاں اور پولینیشن کرنے والے دیگر جاندار (پولینیٹرز) ناپید ہو گئے تو ہمارے کھانے پینے کی کئی ضروری چیزیں بھی ختم ہو جائیں گی۔ صرف شہد ہی نہیں، بلکہ سیب، چیری، مرچ، ناشپاتی، کدو، تربوز، ایوکاڈو، کافی اور چاکلیٹ تک متاثر ہوں گے۔ اقوام متحدہ نے وارننگ دی ہے کہ بڑے پیمانے پر زراعت، مونو کلچر یعنی ایک ہی قسم کی فصل، کیڑے مار ادویات کا حد سے زیادہ استعمال اور ماحولیاتی تبدیلی شہد کی مکھیوں سمیت پولینیشن کرنے والے جانداروں کو تیزی سے خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ان کی تعداد کم ہونے سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہوگی، جس کا براہ راست اثر تحفظ غذا اور انسانی صحت پر پڑے گا۔

قابل ذکر ہے کہ شہد کی مکھیاں نہ صرف شہد بناتی ہیں بلکہ پھلوں، سبزیوں اور پھولوں کی پولینیشن میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی تقریباً 75 فیصد فصلوں کی پولینیشن شہد کی مکھیوں اور دیگر کیڑے مکوڑوں پر منحصر ہے۔ اگر ان کی تعداد مزید تیزی سے کم ہوئی تو کئی مقبول غذائی اشیاء مہنگی ہو جائیں گی یا مارکیٹ سے غائب ہو سکتی ہیں۔


حالانکہ ہر شخص شہد کی مکھیوں کو بچانے میں اپنا تعاون دے سکتا ہے۔ گھر کی بالکونی یا باغیچے میں پھولوں کے پودے لگائیں۔ کیڑے مار ادویات کا استعمال بالکل نہ کریں۔ شہد کی مکھیوں کے لیے صاف پانی کا برتن رکھیں، جس میں پتھر یا تنکے ڈال دیں تاکہ وہ پانی پیتے وقت ڈوب نہ جائیں۔ بچوں اور اگلی نسل کو شہد کی مکھیوں کی اہمیت کے بارے میں بتائیں۔ کسان پھولوں اور پھلوں کے پودے کھیتوں میں لگائیں، جس سے شہد کی مکھیوں کو غذا ملے گی اور فصل کی پیداوار بھی بڑھے گی۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔