
ڈاکٹر محمد لعل چاند شیخ (بائیں) ’عالیہ یونیورسٹی‘ میں خصوصی لیکچر دیتے ہوئے
ڈاکٹر محمد لعل چاند شیخ کی پیدائش 25 جنوری 1995 کو مغربی بنگال کے مالدہ ضلع واقع جلنگا میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام محمد مصطفیٰ شیخ اور والدہ کا نام فورن بی بی ہے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم گاؤں کے ہی ایک مدرسہ ’معہد العلوم العزیزیہ‘ سے حاصل کی اور چند سال کٹیہار (بہار) کے ’مدرسہ اصلاح المسلمین، پھلکواڑی‘ میں بھی زیر تعلیم رہے۔ اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے ڈاکٹر محمد لعل نے تاریخی مدرسہ ’جامعہ امام ابن تیمیہ‘ کا رخ کیا جو بہار کے ضلع مشرقی چمپارن واقع ڈھاکہ میں ہے۔ عالمیت اور فضیلت کی سند انھوں نے یہیں سے حاصل کی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ فضیلت کا امتحان انھوں نے مغربی بنگال مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے بھی پاس کیا۔
ڈاکٹر محمد لعل چاند کے لیے سن 2014 ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جب اعلیٰ جدید تعلیم کے لیے انھوں نے راجدھانی دہلی کا رخ کیا۔ یہاں گریجویشن کے لیے ’شعبۂ اسلامک اسٹڈیز‘ میں رجسٹریشن کرایا اور اسلامی تاریخ کو باریکی و گہرائی کے ساتھ سمجھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اسلامک اسٹڈیز میں ہی پوسٹ گریجویشن اور پی ایچ ڈی بھی کی، اور اس دوران آبائی ریاست بنگال سے ان کا لگاؤ خوب دیکھنے کو ملا۔ اس کا ثبوت پی ایچ ڈی کا موضوع ’متحدہ بنگال کے مسلمانوں میں جدید تعلیم کا فروغ: نواب عبد اللطیف کے حوالے سے‘ ہے۔ بنگال سے لے کر دہلی تک انھوں نے ہمیشہ حصولِ تعلیم میں دلجمعی کا مظاہرہ کیا۔ ان کی تعلیمی صلاحیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دسمبر 2018 میں انھیں جے آر ایف اور اکتوبر 2021 میں ایس آر ایف بھی حاصل ہوا۔
بہرحال، بنگالی مسلمانوں کی تعلیمی صورت حال کے بارے میں مطالعہ کرنا ڈاکٹر محمد لعل چاند کے پسندیدہ مشاغل میں شامل ہے۔ انھیں تحقیق و تحریر کا بھی شوق ہے اور جلد ہی ایک کتاب ’مولانا آزاد اور بنگال‘ نام سے منظر عام پر آنے والی ہے۔ کتاب میں مولانا ابوالکلام آزاد کی حیات و خدمات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ بنگال میں قیام کے دوران ان کی علمی، سیاسی و سماجی سرگرمیوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ ڈاکٹر محمد لعل کی ایک تدوین کردہ کتاب ’اسلام: پرسیپشن اینڈ پرسپیکٹیو‘ 2024 میں شائع بھی ہو چکی ہے۔ علاوہ ازیں اردو، انگریزی و بنگلہ زبانوں میں وہ 2 درجن سے زائد تحقیقی و علمی مقالات تحریر کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر محمد لعل چاند کا تحقیقی سلسلہ جاری ہے، لیکن وہ اب دہلی سے واپس اپنے مادرِ وطن مغربی بنگال پہنچ چکے ہیں۔ ’عالیہ یونیورسٹی‘ (گورا چند روڈ، بینیاپوکر، پارک سرکس کیمپس) میں 28 جنوری 2026 کو انھیں بطور اسسٹنٹ پروفیسر مستقل تقرری حاصل ہوئی۔ اس یونیورسٹی کے ’شعبہ اسلامک اسٹڈیز‘ سے وہ فروری 2025 میں بطور مہمان استاد جڑے تھے، اور تب سے یہاں تدریسی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
——————————————————
’عالیہ یونیورسٹی، کولکاتا‘ کی مختصر تاریخ بتائیں۔ اس کی بنیاد کب پڑی اور نشو و نما میں کن شخصیات کا اہم کردار رہا؟
عالیہ یونیورسٹی کی تاریخی جڑیں 1780 میں قائم ہونے والے کلکتہ کے ایک مدرسہ سے ملتی ہیں، جسے بعد میں ’مدرسہ عالیہ‘ یا ’کلکتہ مدرسہ‘ کہا گیا۔ اس ادارے کا قیام گورنر جنرل وارن ہیسٹنگز نے کلکتہ کے بعض مسلم عمائدین کی درخواست پر کیا تھا۔ بنیادی مقصد عربی، فارسی اور اسلامی قانون کی تعلیم دینا تھا، تاکہ مسلم نوجوان عدالتی و انتظامی خدمات کے لیے تیار ہو سکیں۔ اس اعتبار سے یہ برطانوی ہندوستان میں حکومت کی جانب سے قائم کیے جانے والے اولین تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔
ابتدائی طور پر ادارے میں دینی و مشرقی علوم پر توجہ تھی، تاہم وقت کے ساتھ ریاضی، جیومیٹری، فلکیات اور دیگر جدید علوم بھی نصاب میں شامل کیے گئے۔ 1821 میں یہاں ہونے والا سالانہ امتحان برطانوی ہندوستان کے اولین عوامی امتحانات میں شمار ہوتا ہے، جبکہ 1826 میں طب کی تعلیم کے لیے میڈیکل کلاس قائم کی گئی اور انگریزی تعلیم بھی نصاب کا حصہ بنی۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد مدرسے کو ختم کرنے کی تجاویز سامنے آئیں، لیکن نواب عبد اللطیف کی کوششوں سے اسے بند ہونے سے بچایا گیا اور اصلاحات کا سلسلہ جاری رہا۔ بعد میں سید امیر علی سمیت دیگر اہل علم نے بھی اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
تقسیم ہند کے بعد 1947 میں ادارے کی کتابیں، مخطوطات اور دیگر اثاثے ڈھاکہ منتقل کر دیے گئے۔ لیکن مولانا ابوالکلام آزاد کی کوششوں سے کلکتہ میں ادارے کا تعلیمی و انتظامی سلسلہ دوبارہ بحال ہوا۔ بعد ازاں اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا۔ 2006 میں اسے ’کلکتہ مدرسہ کالج‘ کا درجہ ملا اور پھر ’عالیہ یونیورسٹی ایکٹ، 2007‘ کے ذریعہ یونیورسٹی قائم ہوئی، جس نے 09-2008 میں باقاعدہ کام شروع کیا۔آج عالیہ یونیورسٹی کے تالتلہ، پارک سرکس اور نیو ٹاؤن میں 3 کیمپس ہیں، جہاں اسلامی علوم، ہیومینٹیز، سوشل سائنسز، سائنس، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ کے مختلف شعبوں میں تعلیم و تحقیق جاری ہے۔
’اسلامک اسٹڈیز ڈپارٹمنٹ‘ میں اس وقت کتنے طلبا ہیں اور نصابی تعلیم کے علاوہ انھیں کن سرگرمیوں میں مصروف رکھا جاتا ہے؟
عالیہ یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز میں اس وقت تقریباً 100 طلبا اور 4 ریسرچ اسکالرز ہیں۔ یہ شعبہ دراصل 2018 میں قائم ہوا۔ ’شعبۂ اسلامک اسٹڈیز‘ میں اسلامی تاریخ، مسلمانوں کی تہذیب و تمدن اور ان کے فکری و علمی ورثے کا مطالعہ کرایا جاتا ہے۔ اس کے تحت مختلف ممالک کی سیاسی، سماجی اور علمی تاریخ کے ساتھ ان کی تہذیبی و تمدنی شناخت کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔
نصابی تعلیم کے علاوہ طلبا کو مختلف علمی اور تخلیقی سرگرمیوں میں بھی مصروف رکھا جاتا ہے۔ انہیں بنگلہ، انگریزی اور اردو زبانوں میں مضامین لکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے شعبے کی جانب سے ’افکار عالیہ‘ کے نام سے ایک ماہانہ حائطیہ بھی شائع کیا جاتا ہے، جس میں طلبا اپنی تحریری صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہیں۔ اسی طرح طلبا کو فن تعمیر، فنون لطیفہ اور تاریخی ورثے سے عملی طور پر روشناس کرانے کے لیے کولکاتا اور اس کے مضافات کے مطالعاتی و تعلیمی دورے کرائے جاتے ہیں۔ طلبا کے درمیان سالانہ ثقافتی پروگرام بھی منعقد کیے جاتے ہیں، تاکہ ان کے اندر موجود مختلف صلاحیتوں کو اجاگر کر کے انہیں مثبت اور تعمیری سمت دی جا سکے۔ اس کے علاوہ ہندوستان اور بیرون ملک کے ممتاز علما اور ماہرین کو مدعو کر کے طلبا کے لیے خصوصی لیکچرز کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس سے انہیں مختلف علمی و فکری موضوعات پر ماہرین کے خیالات سے براہ راست استفادہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔
آپ نے ’جامعہ ملیہ اسلامیہ‘ سے اسلامک اسٹڈیز میں گریجویشن، پوسٹ گریجویشن اور پی ایچ ڈی کی ہے۔ عالیہ یونیورسٹی کا تعلیمی ماحول وہاں سے کتنا مختلف ہے؟
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک ترقی یافتہ اور وسیع تعلیمی روایت رکھنے والا ادارہ ہے، جبکہ عالیہ یونیورسٹی اپنی قدیم اور شاندار تاریخی وراثت کے باوجود اس وقت ترقی کے مرحلے میں ہے۔ اس فرق کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں، جن میں ادارہ جاتی وسائل، تعلیمی ماحول اور دیگر انتظامی عوامل شامل ہیں۔
بہرحال، جب میں عالیہ یونیورسٹی سے وابستہ ہوا تو مجھے یہاں طلبا میں ذاتی مطالعے کے رجحان کی کمی کا احساس ہوا۔ اس کے باوجود یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہاں کے طلبا محنتی ہیں اور اساتذہ بھی پوری محنت اور ذمہ داری کے ساتھ انہیں پڑھاتے ہیں۔ البتہ ایک مسئلہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ بعض طلبا اپنے تعلیمی و پیشہ ورانہ مستقبل کے بارے میں نسبتاً دیر سے فیصلہ کرتے ہیں اور پھر اس سمت میں مطلوبہ محنت شروع کرتے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے کم وقت مل پاتا ہے۔
ایک اور فرق تعلیمی ماحول اور سہولیات کے حوالے سے ہے۔ یہاں ریڈنگ ہال کے اوقات کار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مقابلے میں نسبتاً محدود ہیں۔ اسی طرح ہاسٹلز کی کمی اور بعض ہاسٹلز کا کیمپس سے نسبتاً دور واقع ہونا بھی طلبا کی کیمپس میں طویل وقت تک موجودگی کو متاثر کرتا ہے۔ نتیجتاً شام 6 بجے کے بعد کیمپس میں طلبا کی سرگرمیاں بہت محدود ہو جاتی ہیں اور ماحول نسبتاً سنسان محسوس ہوتا ہے۔
کورونا کے بعد تعلیمی شعبہ میں ٹیکنالوجی کا استعمال کافی بڑھا ہے، لیکن کئی طلبا اس معاملہ میں بہت پیچھے ہیں۔ اس تعلق سے عالیہ یونیورسٹی کے ’اسلامک اسٹڈیز ڈپارٹمنٹ‘ میں طلبا کی کیا صورت حال ہے؟
کورونا کے بعد تعلیمی میدان میں ٹیکنالوجی اور آن لائن ذرائع کا استعمال یقینی طور پر بہت بڑھا ہے۔ عالیہ یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے طلبہ بھی اس سے مستفید ہو رہے ہیں، اگرچہ تمام طلبا کی صورت حال یکساں نہیں ہے۔ بعض طلبا جدید ٹیکنالوجی، آن لائن جرائد، ڈیجیٹل لائبریریوں اور دیگر علمی ذرائع سے کافی اچھی طرح واقف ہیں، جبکہ بعض طلبا اب بھی ان وسائل کے مؤثر استعمال میں پیچھے ہیں۔ ہم اساتذہ کو شیخ الجامعہ کی جانب سے ہدایت ہے کہ اگر کسی میٹنگ وغیرہ کے سبب کوئی کلاس چھوٹ جائے تو کسی وقت آن لائن کلاس لے لیا کریں، نیز بعض پروگرام اور لیکچرز بھی آن لائن ہی کرایا جاتا ہے۔
کورونا کے بعد طلبا میں ایک تبدیلی یہ بھی آئی ہے کہ کسی موضوع پر مطالعہ شروع کرنے سے پہلے ہی آن لائن ذرائع سے ابتدائی معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔ موجودہ دور میں اے آئی (مصنوعی ذہانت) کا استعمال بہت ہو رہا ہے۔ اس کے بارے میں میری رائے ہے کہ اسے علم کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ علم تک رسائی کے معاون ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ کسی موضوع کے بارے میں ابتدائی معلومات حاصل کرنے، متعلقہ کتابوں اور تحقیقی مواد کا سراغ لگانے، کسی نظریے کو سمجھنے یا اپنی تحریر کی زبان و اسلوب کی اصلاح کے لیے اے آئی سے مدد لی جا سکتی ہے، لیکن پوری کتاب پڑھے بغیر اس کے خلاصہ کو ہی علم سمجھ لینا، یا مضمون و اسائنمنٹ مکمل طور پر اے آئی سے تیار کرا لینا طلبا کی فکری صلاحیت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
کچھ اُردو زبان سے متعلق اپنی آراء پیش کریں، مغربی بنگال میں اس کی کیا صورت حال ہے؟
مغربی بنگال میں اردو کی ایک مضبوط اور قدیم روایت موجود ہے۔ یہاں اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، خصوصاً کولکاتا اور اس کے مضافات میں۔ بہار کی سرحد سے متصل اضلاع میں بھی اردو عام طور پر بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مغربی بنگال کی بعض علاقائی زبانوں میں بھی اردو کے متعدد الفاظ (بعض اوقات مختلف تلفظ کے ساتھ) استعمال ہوتے ہیں۔ اردو اور بنگلہ کے باہمی تعلق کی ایک دلچسپ مثال مسلمانی بنگلہ بھی ہے۔ انیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں مسلمانوں کی جانب سے ایک ایسی ادبی روایت کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی جس میں بنگلہ زبان کے ساتھ عربی، فارسی اور اردو الفاظ کی آمیزش تھی۔ مسلمانی بنگلہ کی یہ روایت آج بھی بعض اخبارات اور کتابوں میں کسی نہ کسی صورت میں نظر آتی ہے۔
تعلیمی سطح پر بھی اردو کی صورت حال قابل ذکر ہے۔ مغربی بنگال میں متعدد سرکاری اسکول ایسے ہیں جہاں ذریعۂ تعلیم اردو ہے۔ اس کے علاوہ کئی کالجوں اور جامعات میں اردو کی باقاعدہ تعلیم و تحقیق کا انتظام ہے۔ ’مغربی بنگال اردو اکادمی‘ سمیت متعدد ادارے اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ عالیہ یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کی صورت حال بھی اس حوالے سے خاصی حوصلہ افزا ہے۔ ہمارے شعبے کے تقریباً تمام اساتذہ اور بعض طلبا اردو سمجھتے ہیں، جبکہ کئی طلبا اردو بول بھی لیتے ہیں۔
میرے خیال میں کولکاتا کی تہذیبی تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہاں اردو کی موجودگی کوئی حیرت کی بات نہیں۔ جس شہر اور خطے میں ٹیپو سلطان، متعدد نوابین، مولانا ابوالکلام آزاد، واجد علی شاہ اور مولانا محمد علی جوہر جیسی شخصیات کی علمی، سیاسی یا سماجی نسبتیں رہی ہوں، وہاں اردو کی جڑیں بھی فطری طور پر مضبوط ہونی ہی چاہئیں۔ میرے نزدیک مغربی بنگال میں اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ یہاں کی کثیر تہذیبی اور مشترکہ تاریخی روایت کا ایک اہم حصہ ہے، اور اس کے فروغ کے لیے تعلیمی و ادبی سطح پر مزید منظم کوششوں کی ضرورت ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔