انٹرویو: مساجد میں اوقات الصلوٰۃ اور اعلانات دیوناگری میں دیکھ کر فکرمند ہیں رامپور واقع گورنمنٹ اسکول کے استاذ محمد فضل

محمد فضل کہتے ہیں کہ ’’اردو کی زبوں حالی کے لیے سیاسی، سماجی و اقتصادی صورت حال ذمہ دار ہیں۔ آزادی کے بعد اردو کو ایک خاص مذہب کی زبان سمجھا جانے لگا، جبکہ یہ شمالی ہند کی مشترکہ تہذیب کی زبان ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>کلاس میں طلبا و طالبات کے ساتھ استاد محمد فضل</p></div>
i

محمد فضل کا مختصر تعارف:

محمد فضل اتر پردیش واقع ’گورنمنٹ ہائی اسکول، چمروا، رامپور‘ 3 نومبر 2020 سے تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی پیدائش 17 ستمبر 1985 کو اتر پردیش واقع ضلع مئو کے صدر مقام مئوناتھ بھنجن میں ہوئی۔ والد فیض احمد اور والدہ قدسیہ خاتون نے مشکل حالات میں ان کی پرورش و پرداخت کی۔ اپنی ذہانت کی وجہ سے محمد فضل نے تعلیمی شعبہ میں بہتر کارکردگی پیش کی اور ابتدائی تعلیم مدرسہ عالیہ عربیہ (مئو) سے حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے دہلی کا رخ کیا۔ انھوں نے بی اے اور بی ایڈ اردو زبان میں تاریخی ’جامعہ ملیہ اسلامیہ‘ سے مکمل کیا۔ بعد ازاں جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے اردو زبان میں ہی ایم اے کیا، اور پھر ایم فل کی سند دہلی یونیورسٹی سے حاصل کی۔ گویا کہ محمد فضل نے دہلی میں موجود 3 سنٹرل یونیورسٹیوں میں وقت گزارا اور اردو سے اپنی دلچسپی کے سبب کچھ اسکولوں میں بچوں کو تعلیم بھی دی۔ اب وہ رامپور میں زبوں حالی کی شکار اُردو کی ترویج و اشاعت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

انٹرویو: مساجد میں اوقات الصلوٰۃ اور اعلانات دیوناگری میں دیکھ کر فکرمند ہیں رامپور واقع گورنمنٹ اسکول کے استاذ محمد فضل

گورنمنٹ ہائی اسکول، چمروا، رامپور کی عمارت، اسکول احاطہ میں موجود محمد فضل

کچھ اپنے اسکول کے بارے میں بتائیں۔ یہاں صرف نویں اور دسویں درجہ کی تعلیم دی جاتی ہے، کیا قبل کے درجات شروع کرنے کی کوشش کبھی ہوئی ہے؟

ہمارے اسکول کا نام ’گورنمنٹ ہائی اسکول، چمروا، رام پور‘ ہے۔ اس اسکول کا قیام 2012ء میں عمل میں آیا۔ اس کی بنیاد گزار محترمہ جمال فاطمہ صاحبہ (سابق پرنسپل) رہی ہیں۔ قرب و جوار کے بچے اسکول میں داخلہ لیں، اس کے لیے انہوں نے سخت محنت کی۔ وہ گاؤں گاؤں گھوم کر بچوں کو اسکول میں داخلہ کے لیے ترغیب دیتی تھیں، ان کے سرپرستوں کو سمجھاتی تھیں۔ اس سے اسکول میں طلبا و طالبات کی تعداد دھیرے دھیرے بڑھنے لگی۔ ان کے بعد دوسرے اساتذہ اور پرنسپل نے بھی اسکول کی ترقی میں اپنا اہم کردار نبھایا۔ اس اسکول میں مخلوط تعلیم رائج ہے، اس لیے ابتدا میں کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلم اکثریتی اس گاؤں کے مسلم گھرانے یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی بچیاں ایسے ادارہ میں تعلیم حاصل کریں جہاں مخلوط نظام ہو۔ کافی کوششوں کے بعد صورت حال بہتر ہوئی اور گزشتہ کئی سالوں سے لڑکیوں کی تعداد متواتر بڑھ رہی ہے۔ رواں سال اس اسکول میں 80 فیصد سے زیادہ تعداد طالبات کی ہے۔

’گورنمنٹ ہائی اسکول، چمروا‘ میں صرف نویں اور دسویں درجہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ قبل کے درجات نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اسکول سے متصل ’کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ‘ اور تھوڑی دور پر ’کمپوزٹ اسکول‘ (درجہ1 تا 8) واقع ہے۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ اس اسکول کو ’انٹر کالج‘ بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس کے لیے فائل محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران تک بھیجی جا چکی ہے۔ ان شاء اللہ جلد یہ ہائی اسکول انٹر کالج کی شکل اختیار کر لے گا۔

انٹرویو: مساجد میں اوقات الصلوٰۃ اور اعلانات دیوناگری میں دیکھ کر فکرمند ہیں رامپور واقع گورنمنٹ اسکول کے استاذ محمد فضل

فیئرویل تقریب کا منظر (سامنے بیٹھے دائیں سے بائیں) راہل کمار موریہ، ہری ناتھ سنگھ یادو (پرنسپل)، محمد فضل اور شائمہ پروین


اسکول میں آپ طلبا کو کئی سبجیکٹ پڑھاتے ہوں گے، اردو سے متعلق طلبا کی رجحان کیسا ہے؟

گورنمنٹ اسکول میں اساتذہ کی کمی کے باعث اپنے مضمون کے علاوہ دیگر مضامین بھی پڑھانا عام بات ہے۔ جہاں تک میری بات ہے، انگریزی اور سماجی علوم ملازمت کے ابتدائی دنوں سے ہی پڑھاتا رہا ہوں۔ وقتاً فوقتاً دیگر مضامین بھی پڑھانے ہوتے ہیں۔ میرا اصل مضمون اردو ضرور ہے، لیکن مقامی طلبا کا رجحان اردو کے تئیں انتہائی مایوس کن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ثانوی درجات میں اردو ’لازمی‘ مضامین کا حصہ نہیں ہے۔ ’انتخابی مضمون‘ ہونے کی وجہ سے ابتدائی تعلیم کے دوران طلبا اردو زبان کو بہتر طریقے سے نہیں سیکھ پاتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ ہائی اسکول میں پہنچتے ہیں تو اردو کی جگہ ڈرائنگ (آرٹس) کا انتخاب کر لیتے ہیں۔ دراصل طلبا کو لگتا ہے کہ وہ ڈرائنگ میں آسانی سے اچھے نمبرات حاصل کر سکتے ہیں۔

افسوسناک یہ ہے کہ نویں درجہ میں داخلہ لینے والے اکثر طلبا اردو قاعدہ اور حروف سے بھی نا واقف ہوتے ہیں۔ کچھ طلبا اردو پڑھنا تو جانتے ہیں، لیکن انھیں لکھنا نہیں آتا۔ چند ہی طلبا ایسے ملتے ہیں جن کو اردو پڑھنا اور لکھنا دونوں آتا ہے، لیکن املا کی غلطیاں بہت ہوتی ہیں۔ ان بچوں کے ساتھ بہت محنت کرنے کے بعد بھی نمبرات آرٹس کے مقابلے میں بہت اچھے نہیں آتے۔ میں اس بات کی برابر کوشش کر رہا ہوں کہ اردو کے طلبا پر محنت کر انھیں اس لائق بنایا جا سکے کہ وہ اردو میں بھی اچھے نمبرات حاصل کر سکیں۔ گزشتہ 2 سالوں میں اردو مضمون میں طلبا کا ریزلٹ کافی خوش کن رہا ہے۔

انٹرویو: مساجد میں اوقات الصلوٰۃ اور اعلانات دیوناگری میں دیکھ کر فکرمند ہیں رامپور واقع گورنمنٹ اسکول کے استاذ محمد فضل

ایک تقریب میں اعزاز حاصل کرتے ہوئے محمد فضل

آپ نے بتایا کہ مسلم طلبا بھی اردو کی جگہ آرٹس کا انتخاب کرتے ہیں، کیا آپ ان کی رہنمائی نہیں کرتے؟

اسکول میں مسلم طلبا کی تعداد تقریباً نصف ہوتی ہے، لیکن ان میں سے بیشتر طلبا اردو کی جگہ ڈرائنگ یا آرٹس کا انتخاب کرتے ہیں۔ میں اسکول میں داخلہ کے وقت بچوں کو اردو مضمون منتخب کرنے کی طرف راغب کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں۔ میری طلبا کے ساتھ ساتھ ان کے والدین سے بھی بات ہوتی ہے۔ والدین اردو کے لیے حامی ضرور بھر لیتے ہیں، لیکن بچوں کی عدم دلچسپی سے مایوسی ہوتی ہے۔ طلبا کے ذہن میں یہی ہوتا ہے کہ اردو میں سخت محنت کی ضرورت ہوگی اور آرٹس میں کم محنت سے ہی اچھے نمبرات حاصل ہو جائیں گے۔ اگر کسی طالب علم کو اردو حروف تہجی اور اسکرپٹ سے ہی ناواقفیت ہو، تو ظاہر ہے محنت زیادہ کرنی ہی ہوگی۔ بہت سمجھانے کے بعد کوئی طالب علم اردو کا انتخاب کر بھی لیتا ہے، تو نویں اور دسویں جماعت (2 سال) میں اردو حروف سے اردو زبان و ادب تک کا تعلیمی سفر آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لیے طلبا کے ساتھ ساتھ مجھے بھی سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔

انٹرویو: مساجد میں اوقات الصلوٰۃ اور اعلانات دیوناگری میں دیکھ کر فکرمند ہیں رامپور واقع گورنمنٹ اسکول کے استاذ محمد فضل

اسکولی طلبا و طالبات کی ایک پریڈ کی قیادت کرتے ہوئے استاد محمد فضل


مقامی سطح پر اردو کی صورت حال کیا ہے؟ سننے میں آیا ہے کہ چمروا (رامپور) کی مساجد میں نماز کے اوقات اور اعلانات وغیرہ ہندی میں لکھے ہوتے ہیں؟

مقامی سطح پر اردو کی صورت حال یقیناً اچھی نہیں ہے۔ رامپور کا نام سنتے ہی ’رضا لائبریری‘ کا تصور ذہن میں آتا ہے، جو کہ اردو، فارسی، عربی اور ترکی زبان کی نادر کتابوں اور قلمی نسخوں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ نواب فیض اللہ خان نے اس کی بنیاد رکھی تھی اور نواب رضا علی خان کے نام پر منسوب ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ رامپور اردو ادب و شاعری کا ایک اہم مرکز رہا ہے، لیکن اب حالات بہت بدل چکے ہیں۔ ممتاز شاعر، لغت نویس اور داستان گو امیر مینائی کا تعلق رامپور سے ہی ہے۔ مشہور محقق اور غالب شناش امتیاز علی عرشی کی جائے پیدائش بھی رامپور ہے۔ لیکن یہ سب گزرے زمانے کی باتیں ہیں۔

جب میں ملازمت کے سلسلے میں رامپور آیا اور یہاں سکونت اختیار کی، تو نماز کے لیے مسجدوں میں جانا ہوا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ اوقات الصلوٰۃ اور اعلان نامے وغیرہ دیو ناگری میں لکھے ہوئے ہیں۔ مسجد میں کچھ دینی کتب بھی دیکھیں جن میں بیشتر دیوناگری رسم الخط میں ہیں۔ یہاں شادی کے کئی دعوت نامے بھی میں نے دیوناگری میں ہی دیکھے۔ یہ سب واقعی انتہائی افسوسناک ہے۔

مئی جون کے مہینے میں جب مردم شماری میں میری ڈیوٹی لگی، تو یہاں کئی لوگوں کے دروازے پر جانا اور ملنا ہوا۔ اپنی عادت کے مطابق صاحب خانہ کا نام، موبائل نمبر وغیرہ اپنی نوٹ بک میں اردو میں تحریر کرتا تھا۔ کئی لوگ یہ دیکھ کر پوچھتے تھے کہ ’کیا آپ اردو جانتے ہیں؟‘ کچھ لوگ یہ جان کر خوش ہوتے تھے کہ مجھے اردو زبان آتی ہے، اور کچھ کے رویے سے محسوس ہوتا تھا جیسے میں کوئی غیر مانوس اور فرسودہ زبان لکھ رہا ہوں۔

انٹرویو: مساجد میں اوقات الصلوٰۃ اور اعلانات دیوناگری میں دیکھ کر فکرمند ہیں رامپور واقع گورنمنٹ اسکول کے استاذ محمد فضل

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہندوستان کے کئی علاقوں میں اردو زبان زبوں حالی کا شکار ہے۔ آپ کی نظر میں اس کی کیا وجوہات ہیں؟

میری نظر میں اردو زبان کی زبوں حالی کے لیے سیاسی، سماجی و اقتصادی صورت حال ذمہ دار ہیں۔ آزادی کے بعد اردو زبان کو ایک خاص مذہب کی زبان سمجھا جانے لگا، جبکہ یہ شمالی ہند کی مشترکہ تہذیب کی زبان ہے۔ مذہبی لیبل کی وجہ سے ملک کی ایک بڑی آبادی نے اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ آئین میں اردو 22 سرکاری زبان میں شامل ہے ، اور کچھ ریاستوں میں اسے دوسری سرکاری زبان کا درجہ بھی حاصل ہے۔ اس کے باوجود اُردو کے لیے حالت سازگار نہیں ہیں۔ اردو زبان کی زبوں حالی کی ایک بڑی وجہ معیشت یا روزگار سے اس زبان کا رشتہ ختم ہو جانا بھی ہے۔ سرکاری ملازمت ہو یا پرائیویٹ سیکٹر، سبھی جگہ اردو کے لیے مواقع کم ہیں۔ اردو میڈیم اسکولوں کا بند ہونا اور سرکاری اسکولوں میں اردو اساتذہ کی کمی بھی اردو کی زبوں حالی کے اسباب میں شامل ہیں۔ میڈیا اور فلم انڈسٹری میں ہندی اور انگریزی کا بہت بڑا بازار ہے، جبکہ اردو نیوز چینل اور اردو فلمیں نہ کے برابر نظر آتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اردو مواد بہت کم ہے۔ کیا یہ کم فکر انگیز ہے کہ بہت سے شعرا اپنا کلام اردو کی جگہ دیوناگری میں پوسٹ کرتے ہیں؟ شاعری اگرچہ اردو زبان میں ہوتی ہے، لیکن دیو ناگری رسم الخط کی وجہ سے ہندی کا لیبل لگ جاتا ہے۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ اردو زبان کی خوبصورتی اور شناخت اس کے رسم الخط کے ساتھ قائم ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔