بہار: سمراٹ حکومت نے جاری کی نئی گائیڈ لائن، ریاستی ملازمین کی جانچ سے قبل ’سی بی آئی‘ کو لینی ہوگی اجازت

محکمۂ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے بعد اب ریاستی حکومت کے ملازمین اور ریاست کے کنٹرول والے اداروں سے متعلق معاملات میں ’سی بی آئی‘ براہ راست جانچ شروع نہیں کر سکے گی۔

<div class="paragraphs"><p>بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری</p></div>
i

بہار حکومت نے ریاست میں ’مرکزی تفتیشی بیورو‘ (سی بی آئی) کی جانچ سے متعلق نئی گائیڈ لائن جاری کی ہے۔ محکمۂ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے بعد اب ریاستی حکومت کے ملازمین اور ریاست کے کنٹرول والے اداروں سے متعلق معاملات میں ’سی بی آئی‘ براہ راست جانچ شروع نہیں کر سکے گی۔ ایسے معاملوں میں جانچ سے قبل بہار حکومت کی پیشگی رضامندی لینا لازمی ہوگا۔ محکمۂ داخلہ (پولیس برانچ) کے پرنسپل سکریٹری پنکج کمار نے یہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس میں دہلی اسپیشل پولیس اسٹیبلشمنٹ ایکٹ، 1946 کی دفعہ 6 کے تحت ’سی بی آئی‘ کے تفتیشی اختیارات کے دائرۂ کار کو واضح کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کی نقل مرکزی حکومت کی وزارت پرسونل، سی بی آئی  ڈائریکٹر، بہار کے ڈی جی پی اور متعلقہ محکموں کو بھیج دی گئی ہے۔ حالانکہ مرکزی ملازمین، مرکزی سرکاری اداروں اور ان سے وابستہ نجی افراد کے معاملات میں سی بی آئی کو جانچ کی اجازت دی گئی ہے۔ نئے نوٹیفکیشن کے تحت بہار حکومت کے کام کاج سے متعلق سرکاری ملازمین کے خلاف ’سی بی آئی‘  یعنی دہلی اسپیشل پولیس اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے جانچ کے لیے ریاستی حکومت کی پیشگی رضامندی ضروری ہوگی۔ اسی طرح بہار حکومت کی ملکیت یا کنٹرول والے کارپوریشن، کمپنی، بینک اور ریاست سے مالی امداد حاصل کرنے والے اداروں سے متعلق معاملات میں بھی ’سی بی آئی‘ کو براہ راست جانچ کی اجازت نہیں ہوگی۔


اس نئے حکم کے بعد بہار کے انتظامی دائرے میں آنے والے ملازمین اور اداروں کے خلاف جانچ کا پورا طریقۂ کار تبدیل ہو گیا ہے۔ اب بہار حکومت سے متعلق کسی بھی معاملے کی جانچ کرنے سے قبل سی بی آئی کو ریاستی حکومت کے پاس ایک باضابطہ تجویز بھیجنی ہوگی۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ’سی بی آئی‘ کی جانب سے جانچ کی اجازت کے لیے تجویز موصول ہونے کے بعد ریاستی حکومت ہر معاملے پر غور کرے گی۔ اس کے بعد یہ طے کیا جائے گا کہ متعلقہ معاملے میں دہلی اسپیشل پولیس اسٹیبلشمنٹ کو جانچ کے اختیارات دیے جائیں یا نہیں۔ اجازت ملنے کے بعد ہی ’سی بی آئی‘ اپنی کارروائی آگے بڑھا سکے گی۔

اس فیصلے کا براہ راست اثر ریاست کے انتظامی مشینری پر پڑے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے ریاستی ملازمین کو براہ راست جانچ سے تحفظ ملے گا۔ وہیں مرکزی تفتیشی ایجنسی کے اختیارات کے استعمال کے لیے ریاست کی رضامندی ضروری ہو جائے گی۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس نظام سے جانچ کے عمل میں شفافیت برقرار رہے گی۔ حالانکہ نئے نظام میں مرکزی حکومت کے ملازمین اور ہندوستانی حکومت کے ماتحت سرکاری شعبے کے اداروں سے متعلق معاملات کو الگ رکھا گیا ہے۔ بہار کی حدود میں کام کرنے والے مرکزی حکومت یا اس کے ماتحت سرکاری شعبے کے اداروں کے ملازمین اور ایسے نجی افراد کے معاملات میں ریاستی حکومت کی الگ سے اجازت ضروری نہیں ہوگی، جو مرکز کے براہ راست کنٹرول سے متعلق جرائم میں ملوث ہوں۔