انٹرویو: شکستہ حال شعبۂ اردو میں روح پھونکنے والے جواں سال اُستاد آفتاب احمد منیری
آفتاب احمد منیری کا کہنا ہے کہ موجودہ دور کے طلبا جدید ٹیکنالوجی سے کافی حد تک ہم آہنگ ہو چکے ہیں۔ آن لائن موڈ آف ایجوکیشن نے انہیں جدید ٹیکنالوجی سے بہت قریب کر دیا ہے۔

آفتاب احمد منیری کا مختصر تعارف
آفتاب احمد منیری کی پیدائش بہار کے تاریخی شہر منیر شریف میں 16 جون 1986 کو ہوئی۔ ان کے والد کا نام محمد مقیم الدین منیری اور والدہ کا نام زبیدہ خاتون ہے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم ’مدرسہ اسلامیہ‘، منیر شریف، پٹنہ سے اور سیکنڈری و ہائر سیکنڈری تعلیم منیر شریف میں ہی ’پلس ٹو ہائی اسکول‘ سے حاصل کی۔ گریجویشن کی ڈگری ’بی ایس کالج‘، داناپور، پٹنہ سے حاصل کرنے کے بعد انھوں نے ملک کی راجدھانی دہلی کا رخ کیا، جہاں اردو میں ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سند تاریخی ’جواہر لعل نہرو یونیورسٹی‘ سے حاصل کی۔ ان کا رشتہ ’جامعہ ملیہ اسلامیہ‘ سے بھی رہا، جہاں سے انھوں نے بی ایڈ کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں انھوں نے تدریسی ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔ جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول میں بھی کچھ سال استاد رہے۔ ’ایچ ڈی جین کالج‘، آرہ میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر انھوں نے 11 ستمبر 2024 کو ذمہ داریاں سنبھالیں اور اب وہ شعبۂ اردو کے صدر ہیں۔ آفتاب احمد منیری کو لکھنے پڑھنے کا بے حد شوق ہے۔ ان کے کئی مقالات و مضامین مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی تصنیف ’تنقید حیات‘ کو لوگوں نے خوب پسند کیا ہے اور ’داستانِ جامعہ‘ و ’تعمیر پسند ادبی تحریک: ایک مطالعہ‘ زیر طبع ہیں۔
————————————————

آفتاب احمد منیری (بالکل دائیں) کی کتاب ’تنقید حیات‘ کے اجراء کا منظر
ایچ ڈی جین کالج کی تاریخ پر کچھ نظر ڈالیں، یہ ادارہ کن معنوں میں اہمیت کا حامل ہے؟
ایچ ڈی جین کالج، جس کا پورا نام ’ہرپرساد داس جین کالج‘ ہے، ضلع بھوجپور شاہ آباد کا سب سے قدیم تعلیمی ادارہ ہے۔ اس کی بنیاد 22 جنوری 1942ء کو رکھی گئی تھی۔ کالج کی ساری زمین بھوجپور کے مشہور سماجی رہنما اور مصلح راجہ ہرپرساد داس، جو کہ جین مذہب سے تعلق رکھتے تھے، کی عطیہ کردہ ہے۔ اپنے قیام کے ابتدائی دنوں میں یہ کالج بی آر امبیڈکر یونیورسٹی، مظفرپور سے منسلک تھا۔ بعد میں پٹنہ یونیورسٹی کی Constituent Unit بنا۔ پھر جب پٹنہ یونیورسٹی شہر پٹنہ تک محدود ہو گئی تو یہ ممتاز تعلیمی ادارہ مگدھ یونیورسٹی سے ملحق ہو گیا۔ 1992 میں جب ویر کنور سنگھ یونیورسٹی (آرہ) کا قیام عمل میں آیا، تب سے یہ کالج ویر کنور سنگھ یونیورسٹی کا حصہ ہے۔
زمانہ قدیم سے ہی جین کالج کا شمار بہار کے ٹاپ کالجز میں ہوتا ہے۔ ابھی حال ہی میں حکومت بہار نے اس کالج کو ’انسٹی ٹیوٹ آف ایکسیلنس‘کا درجہ دیا ہے۔
سننے میں آیا ہے کہ آپ نے جب ایچ ڈی جین کالج میں شعبۂ اردو جوائن کیا، تو شعبہ کی حالت ’ویران کھنڈر‘ جیسی تھی۔ اس میں کتنی سچائی ہے؟
جی ہاں، اس بات میں کافی حد تک سچائی ہے۔ ہمارے یہاں زیادہ تر کالجز میں شعبۂ اردو کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ جین کالج میں شعبۂ اردو و فارسی 1963ء میں قائم ہوا تھا۔ اس وقت پروفیسر طلحہ رضوی برق جیسی ممتاز علمی و ادبی شخصیت کی سربراہی میں یہ شعبہ علم و ادب کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ ان کے بعد پروفیسر علیم اللہ حالی اور پروفیسر جمیل اختر جیسے ذی علم اور فعال اساتذہ نے شعبہ اردو کو بلندی عطا کی۔ جب میں اس ادارہ میں داخل ہوا تو مجھے شعبۂ اردو کی شکل میں ایک بوسیدہ سی عمارت نظر آئی جس کے شکستہ در و دیوار اس شعبہ کی بدحالی کا پتہ دے رہے تھے۔ شعبہ کے اندر کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ ٹوٹے پلاسڑ اور کمرے میں گرد آلود پرانی ٹیبل، کرسی جس پر نہایت گندے غلاف لگے ہوئے تھے۔ اردو کے طلبا درس و تدریس نام کی شئے سے واقف نہیں تھے۔ کچھ دن تو شعبۂ اردو کا کمرہ درست کرنے میں گزر گئے، اور پھر درس و تدریس کا عمل شروع ہوا۔ آج الحمدللہ میری شبانہ روز کوششوں کے نتیجہ میں شعبہ اردو کا نقشہ بدل چکا ہے۔ اب یہ شعبہ تہذیبی قدروں کا امین نظر آتا ہے۔ یہاں اب کلاسز باقاعدگی کے ساتھ ہوتی ہیں اور ہمارے طلبا کالج سے لے کر یونیورسٹی تک اپنی نمایاں کارکردگی پیش کر رہے ہیں۔

شعبۂ اردو میں کتنے طلبا و طالبات ہیں، ان میں اُردو کے تئیں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے کیا آپ کسی خاص منصوبہ پر کام کرتے ہیں؟
فی الوقت بی اے اور ایم اے ملا کر شعبہ میں تقریباً 200 طلبا و طالبات ہیں۔ جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا کہ جب میں نے یہ کالج جوائن کیا تھا اس وقت یہاں کلاسز کا کوئی تصور نہیں تھا۔ طلبا داخلہ لے کر دوسرے کاموں میں مصروف رہا کرتے تھے۔ شعبہ سے ان کا رشتہ محض داخلہ اور امتحان فارم بھرنے تک ہی تھا۔ میں نے سب سے پہلے اس مکروہ روایت کو ختم کیا اور تمام طلبا کے لیے کلاسز میں شامل ہونا لازمی قرار دیا۔ میرے اس فیصلہ سے ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ مجھے کئی مہینے تو طلبا کو یہ بات سمجھانے میں صرف ہو گئے کہ یہاں کلاسز بھی ہوتی ہیں۔
بہرحال، کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ میری کوششیں رنگ لائیں اور شعبہ میں درس و تدریس کا از سر نو آغاز ہوا۔ کلاس روم ٹیچنگ کے علاوہ میں نے مختلف غیر نصابی سرگرمیوں کے ذریعہ اپنے طلبا کی پوشیدہ صلاحیتیں بیدار کیں۔ انہیں یہ ذہن نشیں کرایا کہ وہ ایک ہندوستان کی سب سے خوبصورت اور شیریں زبان کے طالب علم ہیں، جس کی ایک مہتم بالشان تاریخ ہے۔ اس زبان کے شاعر اور ادیبوں نے نہ صرف حب الوطنی اور انسان دوستی کے نغمے گائے بلکہ یہاں ایک عظیم مشترکہ تہذیب اور وراثت کی بنیاد رکھی۔ علاوہ ازیں میں نے کافی حد تک یہ بات ذہن نشیں کرانے میں کامیابی حاصل کی کہ اردو کے طلبا کا مستقبل بھی روشن و تابناک ہو سکتا ہے، اگر سلیقے سے تعلیمی مراحل طیے کیے جائیں۔ میں نے اردو مضمون کو طلبا میں مقبول بنانے کے لیے کچھ اہم اقدامات بھی کیے ہیں، مثلاً وقتاً فوقتاً اردو مضمون نویسی مقابلہ کا انعقاد، حمد-نعت و غزل سرائی مسابقہ، یوجی سی نیٹ اور بی ایڈ میں داخلہ کے لیے خصوصی کلاسز کا انعقاد وغیرہ۔
کورونا وبا کے دور میں آپ جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔ کورونا سے قبل اور اس کے بعد کیا تعلیمی شعبہ میں آپ نے کسی طرح کی تبدیلی محسوس کی؟
جی بالکل۔ کورونا وبا نے زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح تعلیم کو بھی متاثر کیا۔ اب تک ہم صرف آف لائن موڈ آف ایجوکیشن سے ہی واقف تھے۔ جب کووڈ-19 کا قہر برپا ہوا تو ایک طویل عرصہ تک تعلیمی ادارے بند رہے۔ ایسی صورتحال میں طلبا کی تعلیم کا نقصان نہ ہو، اس سوچ کے ساتھ آن لائن کلاسز شروع کی گئیں۔ میرے حساب سے یہ قدم وقتی طور پر تو مفید تھا، لیکن کسی طور پر بھی اسے آف لائن موڈ آپ ایجوکیشن کا نعم البدل نہیں کہا جا سکتا۔ مشکل وقت میں نصاب مکمل کرنے اور طلبا کو تعلیم کے نقصان سے بچانے کے لیے یہ ایک بہترین تجربہ ضرور تھا، لیکن معمول والے حالات میں اس سے تعلیم کا بہت نقصان ہوا ہے۔

آپ موجودہ دور میں اُردو طبا کو جدید ٹیکنالوجی سے کتنا ہم آہنگ دیکھتے ہیں؟
مجھے لگتا ہے موجودہ دور کے طلبا جدید ٹیکنالوجی سے کافی حد تک ہم آہنگ ہو چکے ہیں۔ اردو کے طلبا بھی اب اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ میرے بیشتر طالب علم کمپیوٹر کے مختلف پروگرامز کی کافی معلومات رکھتے ہیں۔ آن لائن موڈ آف ایجوکیشن نے انہیں کافی حد تک جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کر دیا ہے۔ ایک بار مجھے یہ دیکھ کر خوش گوار حیرانی ہوئی کہ جب میں نے طلبا کے ساتھ آن لائن میٹنگ کا پروگرام بنایا تو مجھے کوئی مشقت نہیں کرنی پڑی، کیونکہ سبھی طلبا کے موبائل میں گوگل میٹ ایپ موجود تھا اور سبھی اس کے استعمال سے بھی واقف تھے۔ میرے بہت سے طلبا تو ویب پیج ڈیزائننگ کی باریکیوں سے بھی واقف ہیں۔ کچھ نے تو اپنا یو ٹیوب چینل بھی بنا رکھا ہے۔ شعبہ میں ہونے والے ادبی پروگراموں کی ویڈیو ریکارڈنگ اور اس کی ایڈیٹنگ وہ خود ہی کرتے ہیں۔ لہٰذا مجھے تو یہ بالکل محسوس نہیں ہوا کہ اردو طلبا جدید ٹیکنالوجی کے معاملہ میں کسی طرح پیچھے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔