انٹرویو: ڈاکٹر عبدالباسط نے رانچی واقع گوسنر کالج کے شعبۂ اردو میں پھونکی نئی روح

ڈاکٹر عبدالباسط کے مطابق گوسنر کالج میں وہاب دانش صاحب کے بعد شعبۂ اردو کی حالت بتدریج کمزور ہوتی گئی۔ طلبا کی تعداد مسلسل گھٹتی رہی، حتیٰ کہ ایک وقت اس شعبۂ میں داخلہ لینے والا کوئی طالب علم نہیں تھا

<div class="paragraphs"><p>ڈاکٹر عبدالباسط</p></div>
i

ڈاکٹر عبدالباسط کا مختصر تعارف:

ڈاکٹر عبدالباسط کا تعلق جھارکھنڈ میں اردو اساتذہ کی نئی نسل سے ہے، اور یہ اردو ادب سے گہرا شغف رکھتے ہیں۔ ان کی پیدائش یکم جنوری 1988 کو جھارکھنڈ کے لاتیہار ضلع میں ہوئی۔ والد عبدالرزاق اردو کے استاد تھے، اس لیے گھر میں اردو کتابوں کی ایک بڑی تعداد موجود رہتی تھی۔ ان کتابوں نے گھر میں ایک ادبی ماحول قائم کیا تھا، جس کی وجہ سے ڈاکٹر عبدالباسط کا رجحان بھی اردو ادب کی طرف بچپن سے ہی راغب ہوا۔ ڈاکٹر عبدالباسط نے ابتدائی تعلیم آبائی ضلع میں ہی حاصل کی اور والدہ شاہجہاں خاتون کی بہتر پرورش کا نتیجہ رہا کہ وہ ایک ذہین طالب علم ثابت ہوئے۔

انٹرویو: ڈاکٹر عبدالباسط نے رانچی واقع گوسنر کالج کے شعبۂ اردو میں پھونکی نئی روح

ڈاکٹر عبدالباسط ایک بین الاقوامی کانفرنس کے دوران

ڈاکٹر عبدالباسط نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے بعد ’رانچی کالج، رانچی‘ سے گریجویشن مکمل کیا۔ بعد ازاں ’رانچی یونیورسٹی، رانچی‘ سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ دسمبر 2010 میں انھوں نے یو جی سی نیٹ (جے آر ایف) کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا، اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا، جہاں سے انھوں نے 2014 میں ایم فل (موضوع: انتظار حسین کے ناولوں کا تنقیدی مطالعہ) اور 2019 میں پی ایچ ڈی (موضوع: انتظار حسین کی غیر افسانوی تحریروں کا تنقیدی مطالعہ) کی سند حاصل کی۔

انٹرویو: ڈاکٹر عبدالباسط نے رانچی واقع گوسنر کالج کے شعبۂ اردو میں پھونکی نئی روح

ڈاکٹر عبدالباسط (درمیان میں)


ڈاکٹر عبدالباسط کے پسندیدہ مشاغل میں ’افسانہ نگاری‘ سب سے پہلے مقام پر ہے۔ ان کے کئی افسانے ’پیش رفت‘ (دہلی)، ’صدف‘ (پٹنہ)، ’سب رس‘ (حیدر آباد)، ’فکر و تحریر‘ (کولکاتا) جیسے اہم رسائل و جرائد میں شائع ہو کر پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔ حالانکہ ان کی پہلی شائع کتاب کا تعلق فکشن سے نہیں ہے۔ 2019 میں ڈاکٹر عبدالباسط کی پہلی کتاب ’انتظار حسین کا تنقیدی شعور‘ منظر عام پر آئی۔ قوی امید ہے کہ ان کی اگلی کاوش افسانوی مجموعہ کی شکل میں جلد ہی شائقین ادب کے ہاتھوں میں ہوگی۔ انھیں 2020 میں ’اتر پردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ‘ سے بھی نوازا گیا، اور اب وہ تدریسی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ادبی دنیا میں ایک خاص مقام بنانے کی طرف گامزن ہیں۔ جہاں تک تدریس کا سوال ہے، ان کی پہلی تقرری 2020 میں عارضی طور پر ’بی ایس کالج، لوہردگا‘ میں ہوئی۔ بعد ازاں جنوری 2021 میں وہ ’شیاما پرساد مکھرجی یونیورسٹی، رانچی‘ کے شعبۂ اردو میں عارضی استاد کی حیثیت سے منسلک ہوئے۔ جولائی 2023 میں ان کی مستقل تقرری ’گوسنر کالج، رانچی‘ میں ہوئی جو ’رانچی یونیورسٹی‘ سے ملحق ایک ممتاز عیسائی اقلیتی کالج ہے۔ فی الوقت وہ شعبۂ اردو کے صدر ہیں۔

——————————————————————

انٹرویو: ڈاکٹر عبدالباسط نے رانچی واقع گوسنر کالج کے شعبۂ اردو میں پھونکی نئی روح

’گوسنر کالج، رانچی‘ کب قائم ہوا؟ یہاں شعبۂ اردو کی بنیاد کب پڑی اور اس سے کون کون سی اہم شخصیات منسلک رہیں؟

گوسنر کالج، رانچی کا قیام 1971ء میں عمل میں آیا۔ یہ ایک عیسائی اقلیتی کالج ہے۔ ابتدا میں کالج چند کمروں پر مشتمل تھا، تاہم شعبۂ اردو روزِ اول ہی سے اس کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ شعبۂ اردو کے پہلے استاد ملک کے معروف شاعر جناب وہاب دانش تھے۔ ان کے دور میں شعبۂ اردو اپنی علمی و ادبی سرگرمیوں کی وجہ سے خاصہ معروف تھا۔ انہوں نے طلبا کی بڑی جانفشانی سے تربیت کی۔ انہی کے شاگردوں میں ڈاکٹر سرور ساجد، انور ایرج، مرحوم ڈاکٹر راشد انور راشد اور مرحوم اظفر جمیل جیسے اہل قلم شامل ہیں، جنہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ علم و ادب کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔

انٹرویو: ڈاکٹر عبدالباسط نے رانچی واقع گوسنر کالج کے شعبۂ اردو میں پھونکی نئی روح

گوسنر کالج کے شعبۂ اردو میں درس و تدریس کا منظر


موجودہ وقت میں آپ شعبۂ اردو کے صدر ہیں۔ اپنی مدتِ کار میں آپ نے اس شعبہ کو بہتر بنانے کے لیے کون سے اقدامات کیے، اور آئندہ کیا منصوبے ہیں؟

وہاب دانش صاحب کے بعد شعبۂ اردو کی صورتِ حال بتدریج کمزور ہوتی گئی۔ طلبا کی تعداد مسلسل گھٹتی رہی، یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا جب شعبۂ اردو میں داخلہ لینے والا کوئی طالب علم نہیں تھا۔ اگرچہ گوسنر کالج شہر کے ممتاز تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے، لیکن شعبۂ اردو گزشتہ تقریباً 20 برس سے زبوں حالی کا شکار تھا۔ جولائی 2023ء میں جب یہاں میری تقرری ہوئی، تو پہلی کوشش شعبہ میں داخلوں کی تعداد بڑھانا تھی۔ میں نے ایسا کرنا اہم سمجھا کیونکہ کالج کے اطراف مسلمانوں کی بڑی آبادی موجود ہے۔ اس مقصد کے لیے میں نے تشہیر کے مختلف ذرائع اختیار کیے۔ مثلاً مساجد میں اعلانات کرائے اور خود مختلف علاقوں میں جا کر طلبا اور ان کے سرپرستوں سے ملاقات کی۔

الحمد للہ، ان کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آئے اور 2023ء سے لے کر اب تک شعبۂ اردو کا کوئی بھی سیشن خالی نہیں رہا۔ اب طلبا خود داخلے کے لیے اس شعبہ سے رجوع کرتے ہیں۔ اس دوران میری یہ بھی کوشش رہی کہ تدریسی ماحول کو مزید فعال، معیاری اور طلبا دوست بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے قومی سیمینار، ادبی نشستیں، مشاعرے اور مطالعاتی پروگرام باقاعدگی سے منعقد کیے گئے۔ طلبا کو صرف نصابی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے تحقیق، تنقید، تخلیقی ادب اور عصری تقاضوں سے بھی روشناس کرانے کی کوشش کی گئی۔ 2023ء میں ’جھارکھنڈ میں اردو افسانہ‘ کے موضوع پر ایک قومی سیمینار کامیابی سے منعقد کیا گیا، جبکہ رواں سال (2026) اکتوبر میں ’یادِ رفتگانِ جھارکھنڈ'‘ کے عنوان سے ایک اور قومی سیمینار منعقد کیا جا رہا ہے۔

میری خواہش ہے کہ مستقبل میں شعبۂ اردو میں ایک جدید لائبریری، ڈیجیٹل ریسرچ سینٹر، لینگویج لیب اور ای لرننگ کی سہولتوں دستیاب ہوں۔ اس سے ہمارے طلبا قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کر سکیں گے۔

انٹرویو: ڈاکٹر عبدالباسط نے رانچی واقع گوسنر کالج کے شعبۂ اردو میں پھونکی نئی روح

گوسنر کالج، رانچی کی جانب سے منعقدہ ایک سیمینار کا منظر

کیا آپ شعبۂ اردو کے طلبا میں اردو کے تئیں مثبت رجحان محسوس کرتے ہیں؟ کیا آپ کو اردو کا مستقبل روشن نظر آتا ہے؟

اردو زبان و ادب ہماری تہذیبی وراثت کا اہم حصہ ہے۔ جو طالب علم شعبۂ اردو میں داخلہ لیتا ہے، اس کے دل میں اس زبان سے ایک فطری وابستگی موجود ہوتی ہے۔ البتہ کورونا وبا کے بعد مجموعی طور پر تعلیمی معیار میں نمایاں گراوٹ آئی ہے، اور یہ مسئلہ صرف اردو تک محدود نہیں بلکہ تقریباً تمام مضامین کے طلبا میں پڑھائی کے تئیں سنجیدگی میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

میرے تجربات کے مطابق طلبا میں اردو کے لیے دلچسپی اب بھی موجود ہے، لیکن آج کی نئی نسل زبان کے ساتھ ساتھ روزگار اور عملی امکانات کو بھی اہمیت دیتی ہے۔ اگر اردو کو جدید علوم، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، ترجمہ، میڈیا، صحافت اور تخلیقی صنعتوں سے جوڑ دیا جائے تو یقیناً اس کی افادیت اور مقبولیت میں مزید اضافہ ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ اردو کا مستقبل روشن ہے، بشرطیکہ ہم نئی نسل کو صرف ماضی کی عظمت سے نہیں بلکہ مستقبل کے امکانات سے بھی روشناس کرائیں۔

انٹرویو: ڈاکٹر عبدالباسط نے رانچی واقع گوسنر کالج کے شعبۂ اردو میں پھونکی نئی روح

ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالباسط


کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اردو داں طبقہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں اب بھی بہت پیچھے ہے؟ اس حوالے سے طلبا کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ دور ٹیکنالوجی کا دور ہے، اور اردو داں طبقہ میں اس کے مؤثر استعمال کا رجحان اب بھی مطلوبہ حد تک پیدا نہیں ہو سکا ہے۔ آج مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹل لائبریریز، آن لائن تحقیق، ای لرننگ اور سوشل میڈیا تدریس و تحقیق کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ اگر اردو کو عصر حاضر میں مؤثر اور باوقار مقام دلانا ہے تو ہمیں ان جدید ذرائع سے بھرپور استفادہ کرنا ہوگا۔

جہاں تک میرا سوال ہے، میں اپنے طلبا کو زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل بنانے کی کوشش کرتا ہوں۔ انھیں گوگل کلاس روم کے ذریعہ اسائنمنٹ دیتا ہوں، اسمارٹ بورڈ، انٹرنیٹ اور مختلف آڈیو ویژوئل ذرائع کی مدد سے تدریس کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنانے کی کوشش کرتا ہوں۔ ضرورت کے مطابق فلمیں، دستاویزی فلمیں اور دیگر تعلیمی مواد بھی طلبا کو دکھاتا ہوں تاکہ ان میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا رجحان پیدا ہو۔

انٹرویو: ڈاکٹر عبدالباسط نے رانچی واقع گوسنر کالج کے شعبۂ اردو میں پھونکی نئی روح

تدریسی فرائض انجام دیتے ہوئے ڈاکٹر عبدالباسط

آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جھارکھنڈ میں گزارا ہے۔ مجموعی طور پر یہاں اردو کی حالت بہت اچھی نہیں بتائی جاتی۔ اس بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟

جھارکھنڈ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، لیکن زمینی سطح پر اس کے نفاذ میں اب بھی متعدد مشکلات حائل ہیں۔ تعلیمی اداروں میں اردو اساتذہ کی کمی، سرکاری دفاتر میں اردو کے محدود استعمال اور سماجی بے توجہی جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ جھارکھنڈ میں اردو کا ایک مضبوط ادبی اور ثقافتی سرمایہ موجود ہے۔ اگر حکومت، تعلیمی ادارے، ادبی تنظیمیں اور خود اردو داں طبقہ سنجیدگی کے ساتھ مشترکہ کوشش کریں تو یہاں اردو کے فروغ اور ترقی کے امکانات نہایت روشن ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔