
آئی اے این ایس
ماسکو: ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان برطانیہ نے اپنی ایک جوہری طاقت سے چلنے والی رائل نیوی آبدوز عرب سمندر میں تعینات کر دی ہے، جو کروز میزائل حملے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ برطانوی میڈیا نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ پیش رفت خطے میں ممکنہ فوجی کارروائی کے امکانات کو مزید تقویت دیتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آبدوز ’ایچ ایم ایس 19‘ جدید ہتھیاروں سے لیس ہے، جن میں ٹوماہاک بلاک فور لینڈ اٹیک میزائلیں اور اسپیئر فش ہیوی ویٹ ٹارپیڈو شامل ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ آبدوز شمالی عرب سمندر کے گہرے پانیوں میں موجود ہے، جہاں سے کسی بھی وقت کارروائی ممکن ہو سکتی ہے۔
Published: undefined
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی اور برطانوی وزیر اعظم کی جانب سے اجازت دی گئی تو اس آبدوز کو میزائل فائر کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں آبدوز سطح کے قریب آ کر بیک وقت کئی میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ادھر برطانوی حکومت نے حالیہ دنوں میں امریکہ کو اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو درپیش خطرات کو کم کرنا اور ایران کی جانب سے مبینہ طور پر استعمال ہونے والی میزائل تنصیبات کو نشانہ بنانا بتایا گیا ہے۔
Published: undefined
برطانوی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ برطانیہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ وہ کسی بڑے تنازع میں شامل ہونے کا خواہاں نہیں۔
دوسری جانب ایران نے برطانیہ کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون سے گریز کرے۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے برطانوی ہم منصب کو خبردار کیا کہ اس طرح کی مدد خطے میں تناؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
Published: undefined
ایران نے حالیہ دنوں میں بحر ہند میں واقع اہم فوجی اڈے ڈیگو گارشیا کی سمت دو بیلسٹک میزائل داغے، تاہم دونوں اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکے۔ ایک میزائل دوران پرواز ناکام ہو گیا جبکہ دوسرے کو امریکی بحری دفاعی نظام نے روکنے کی کوشش کی۔ اس واقعے کے بعد ایران کی میزائل صلاحیت پر سوالات کے ساتھ ساتھ خدشات بھی بڑھ گئے ہیں، کیونکہ ڈیگو گارشیا ایرانی حدود سے تقریباً چار ہزار کلومیٹر دور واقع ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال خطے میں مزید غیر یقینی اور کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined