اکھلیش یادو کا حکومت پر حملہ، کہا- ’حد بندی سے زیادہ ضروری سرحدوں کی حفاظت‘

اکھلیش یادو نے مرکزی و اتر پردیش حکومت کو مختلف مسائل پر گھیرا۔ انہوں نے سرحدوں کی سلامتی، مہنگائی، کسانوں کو کھاد، صفائی، اسکولوں کی بندش اور ترقیاتی کاموں پر حکومت سے جواب مانگا

<div class="paragraphs"><p>آئی&nbsp;اے این ایس</p></div>
i

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے اتوار کو مرکزی اور اتر پردیش کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کو مختلف مسائل پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے سامنے حد بندی سے زیادہ اہم مسئلہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت ہے۔ اکھلیش یادو نے بی جے پی سے سوال کیا کہ اسے بتانا چاہیے کہ 2014 میں ملک کا رقبہ کتنا تھا اور اب کتنا ہے۔

لکھنؤ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت پر سوال اٹھ رہے ہیں اور حکومت کو اس معاملے پر واضح جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حد بندی کے ساتھ ساتھ ملک کی خارجہ پالیسی، دہشت گردی اور نکسل ازم جیسے موضوعات بھی انتہائی اہم ہیں۔

سماج وادی پارٹی صدر نے مہنگائی کے مسئلے پر بھی مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگوں پر مہنگائی کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ پٹرول میں ای-20 ایندھن کی آمیزش کا معاملہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اس بارے میں جواب طلب کیا۔ اکھلیش یادو نے کسانوں کو کھاد اور ڈی اے پی کی دستیابی پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کسانوں کو ضرورت کے مطابق کھاد نہیں مل رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ کسانوں کو بروقت اور مناسب مقدار میں کھاد دستیاب ہو۔


انہوں نے لکھنؤ کی صفائی کی صورتحال پر بھی ریاستی حکومت اور بلدیاتی انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ راجدھانی کے کئی علاقوں میں جگہ جگہ کچرا پڑا ہے اور نالے بھرے ہوئے ہیں، جبکہ حکومت اسمارٹ سٹی کی بات کرتی ہے۔ انہوں نے حکومت کے شجرکاری کے دعووں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے لوگ 300 کروڑ درخت لگانے کی بات کرتے ہیں، لیکن یہ بھی بتایا جائے کہ یہ درخت کہاں لگائے گئے ہیں۔

سماج وادی پارٹی کے سربراہ نے لکھنؤ-کانپور ایکسپریس وے کی حالت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں جگہ جگہ گڑھے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ان کی دیکھ بھال کے لیے بھی جواب دہی طے کرنے کا مطالبہ کیا۔

اکھلیش یادو نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ضلع گورکھپور میں اسکولوں کی بندش کا بھی معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہاں 500 پرائمری اسکول بند کر دیے گئے ہیں، حکومت کو بتانا چاہیے کہ اسکول بند کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس فیصلے سے بچوں کی تعلیم پر کیا اثر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی آئین، سماجی انصاف اور حقوق کی لڑائی آئندہ بھی جاری رکھے گی۔ اکھلیش یادو نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے معاشرے کو آئین اور سوشلزم کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے بیدار اور متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔