عالمی خبریں

امریکی صدر ٹرمپ نے تجارتی شراکت داروں پر جوابی محصولات کے حکم پر دستخط کر دیے

صدر ٹرمپ نے تجارتی شراکت داروں پر جوابی محصولات عائد کرنے کے حکم پر دستخط کر دیے، جس کے تحت امریکہ کسی بھی ملک سے درآمد شدہ اشیاء پر وہی محصول لگائے گا جو وہ امریکی اشیاء پر عائد کرتا ہے

<div class="paragraphs"><p>ڈونلڈ ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>

ڈونلڈ ٹرمپ / آئی اے این ایس

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی اشیاء پر جوابی محصولات عائد کرنے کے ایک حکم پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس پالیسی کے تحت امریکہ کسی بھی ملک سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر وہی محصول عائد کرے گا جو وہ ملک امریکی مصنوعات پر لگاتا ہے۔

Published: undefined

اوول آفس میں حکم نامے پر دستخط کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا، ’’میں نے تجارتی توازن برقرار رکھنے کے لیے جوابی محصولات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سب کے لیے منصفانہ ہے اور کوئی ملک اس پر شکایت نہیں کر سکتا۔‘‘

ماہرین کے مطابق، اس اقدام سے امریکہ اور اس کے تجارتی شراکت داروں کے درمیان اقتصادی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ چین سمیت کئی ممالک پہلے ہی امریکی تجارتی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور ان اقدامات کے باعث تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

Published: undefined

صدر ٹرمپ پہلے ہی چین سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 فیصد اضافی محصول عائد کر چکے ہیں۔ اب ان کی نظر امریکہ کے دو اہم تجارتی شراکت داروں، کینیڈا اور میکسیکو پر ہے۔ ان ممالک پر محصولات کا اطلاق 30 دن کے لیے معطل رکھا گیا تھا، تاہم امکان ہے کہ یہ محصولات مارچ میں نافذ العمل ہو جائیں گے۔

Published: undefined

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ نئی پالیسی امریکہ کے عالمی تجارتی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ چین، یورپی یونین اور دیگر ممالک جو امریکہ کے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں، جوابی کارروائی کے طور پر امریکی مصنوعات پر اضافی محصولات لگا سکتے ہیں، جس سے عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔

کینیڈا اور میکسیکو، جو کہ نارتھ امریکن فری ٹریڈ ایگریمنٹ (این اے ایف ٹی اے) کے تحت امریکہ کے قریبی شراکت دار ہیں، پہلے ہی اس پالیسی پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ کینیڈا کے وزیر تجارت نے اس فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے محصولات کا نفاذ کیا تو وہ بھی جوابی اقدامات کرے گا۔

Published: undefined

امریکی تجارتی حلقوں میں بھی اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ صنعتیں اسے ملکی معیشت کے حق میں قرار دے رہی ہیں، جبکہ دیگر کا ماننا ہے کہ اس سے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور عام صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined