ایپسٹین فائلز کا بھونچال: یورپ و امریکہ میں استعفے، ہندوستان میں سیاسی سوالات

ایپسٹین فائلز کے نئے انکشافات نے یورپ اور امریکہ میں سیاسی ہلچل مچا دی اور کئی بڑے عہدے دار مستعفی ہو گئے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ذکر پر حکومت نے وضاحت دی جبکہ اپوزیشن نے سوال اٹھائے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکہ کے بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات منظر عام پر آنے کے بعد عالمی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ ای میل روابط، پرانی ملاقاتوں اور سماجی تعلقات سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات نے یورپ سے لے کر امریکہ تک سیاسی اور انتظامی حلقوں میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ ان انکشافات کے بعد کئی بااثر شخصیات کو عوامی دباؤ اور ادارہ جاتی ساکھ کے پیش نظر اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینا پڑا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہر معاملے میں کوئی جرم ثابت نہیں ہوا، تاہم نام جڑنے اور رابطوں کے انکشاف نے سیاسی طور پر ایسی صورت حال پیدا کر دی جس میں عہدے پر برقرار رہنا مشکل ہو گیا۔

برطانیہ میں پہلا بڑا اثر

برطانیہ میں اس تنازع کا اثر وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی ٹیم تک پہنچا۔ وزیر اعظم کے چیف آف اسٹاف مورگن میکسوینی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے پیٹر مینڈلسن کو امریکہ میں برطانیہ کا سفیر مقرر کرنے کی سفارش کی تھی، جو بعد میں ایپسٹین سے جڑے تنازع کے باعث تنقید کی زد میں آ گئی۔

میکسویینی نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہوا اور انہوں نے اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے عہدہ چھوڑ دیا۔ برطانوی سیاسی حلقوں میں اسے ادارہ جاتی جوابدہی کی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


ناروے میں سفارتی سطح پر ہلچل

ناروے میں بھی اس معاملے نے سفارتی حلقوں کو متاثر کیا۔ وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ سینئر سفارت کار مونا جول اپنے عہدے سے ہٹ جائیں گی۔ 66 سالہ مونا جول اس سے قبل وزیر رہ چکی ہیں اور اسرائیل، برطانیہ اور اقوام متحدہ میں ناروے کی نمائندگی کر چکی ہیں۔

سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ایپسٹین سے متعلق معاملات میں ان سے ’فیصلے میں سنگین غلطی‘ ہوئی، جس کے بعد انہوں نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ یورپی مبصرین کے مطابق یہ استعفیٰ اس بات کا اشارہ ہے کہ یورپ میں اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

امریکہ میں قانونی اور سیاسی دباؤ

امریکہ میں بھی ایپسٹین فائلز کے اثرات نمایاں رہے۔ فروری 2026 میں معروف وکیل بریڈ کارپ نے ایک بڑی لا فرم کے چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے ای میل روابط منظر عام پر آنے کے بعد ان پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔

اس سے قبل نومبر 2025 میں لیری سمرز نے بھی ایک اہم بورڈ عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے عوامی طور پر اعتراف کیا کہ ایپسٹین سے رابطہ رکھنا ان کی غلطی تھی۔

دسمبر 2025 میں معاملہ امریکی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی تک پہنچ گیا، جہاں ڈپٹی ڈائریکٹر ڈین بونجینو نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اگرچہ ان کا براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوا، مگر بڑھتے سیاسی دباؤ اور تنازع نے ان کے لیے عہدے پر برقرار رہنا مشکل بنا دیا۔


دیگر یورپی ممالک میں بھی ردعمل

فرانس میں سابق وزیر جیک لانگ نے ایک ثقافتی ادارے کی سربراہی چھوڑ دی۔ سلوواکیہ میں قومی سلامتی کے مشیر میروسلاو لاجچاک کو ای میل تنازع کے بعد عہدہ چھوڑنا پڑا۔ سویڈن میں بھی ایک افسر نے استعفیٰ دیا جب ان پر ایپسٹین کے نجی جزیرے سے متعلق الزامات سامنے آئے۔

ان تمام واقعات نے یہ واضح کر دیا کہ عالمی سطح پر اس معاملے کو صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور سیاسی زاویے سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔

ہندوستان میں نام آنے پر وضاحت

ایپسٹین فائلز میں وزیر اعظم نریندر مودی کا نام بھی ایک ای میل کے حوالے سے سامنے آیا، جس میں 2017 کے اسرائیل دورے کا ذکر تھا۔ اس کے بعد وزارت خارجہ نے 31 جنوری 2026 کو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کا اسرائیل کا دورہ سرکاری اور عوامی طور پر معلوم حقیقت ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ای میل میں اس کے علاوہ جو دعوے کیے گئے ہیں وہ ایک سزا یافتہ مجرم کی بے بنیاد باتیں اور من گھڑت خیالات ہیں، جنہیں مکمل طور پر مسترد کیا جانا چاہیے۔


اپوزیشن کا ردعمل

کانگریس کے شعبۂ ذرائع ابلاغ کے سربراہ پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے اس معاملے پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی سزا یافتہ شخص نے وزیر اعظم کے حوالے سے دعوے کیے ہیں تو اس سے شفافیت اور سفارتی وقار پر سوال پیدا ہوتے ہیں۔

حکومت نے اپوزیشن کے ان الزامات کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

کیا ہر استعفیٰ جرم کا ثبوت ہے؟

دنیا بھر میں سامنے آنے والے ان واقعات سے ایک بات واضح ہوئی ہے کہ ہر استعفیٰ کا مطلب جرم ثابت ہونا نہیں ہے۔ کئی معاملات میں صرف نام جڑنے یا رابطے سامنے آنے کے بعد عوامی دباؤ بڑھا، جس کے نتیجے میں متعلقہ افراد نے اداروں کی ساکھ بچانے کے لیے عہدے چھوڑ دیے۔

یہ سوال اب ہندوستان میں بھی زیر بحث ہے کہ کیا یہاں بھی اخلاقی بنیادوں پر اسی نوعیت کی سیاسی جوابدہی ممکن ہے، یا یہ معاملہ محض سیاسی بیان بازی تک محدود رہے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔