بجٹ اجلاس: لوک سبھا میں ہنگامہ جاری، اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی تیاری!
لوک سبھا میں راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن کا ہنگامہ جاری رہا، جس کے باعث کارروائی ملتوی کر دی گئی۔ ذرائع کے مطابق حزب اختلاف اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تیاری کر رہی ہے

نئی دہلی: لوک سبھا کی کارروائی پیر کے روز ایک بار پھر ہنگامے کی نذر ہوتی دکھائی دی۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے شور شرابہ شروع کر دیا اور مطالبہ کیا کہ قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو ایوان میں بولنے کی اجازت دی جائے۔ اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ جب تک راہل گاندھی کو اظہار خیال کا موقع نہیں دیا جائے گا، وہ ایوان کی کارروائی چلنے نہیں دیں گے۔
اسپیکر اوم برلا نے اس مطالبے کو قواعد کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایوان کی کارروائی طے شدہ اصولوں اور ضوابط کے مطابق چلتی ہے اور اسی طریقے سے چلائی جائے گی۔ انہوں نے ارکان سے کہا کہ پہلے سوالیہ وقفہ مکمل ہونے دیا جائے، اس کے بعد ضابطوں کے تحت بحث کی جا سکتی ہے۔ تاہم اپوزیشن ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان کے بیچ میں آ گئے، جس کے بعد کارروائی شروع ہونے کے پانچ منٹ کے اندر ہی دوپہر بارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
اسی دوران انڈین ایکسپریس نے ذرائع کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی کہ اپوزیشن لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بجٹ اجلاس کے آئندہ دنوں میں بھی ایوان میں کشیدگی برقرار رہنے کے امکانات ہیں۔
لوک سبھا میں گزشتہ کئی دنوں سے سابق فوجی سربراہ ایم ایم نروَنے کے ایک غیر مطبوعہ یادداشت اور دیگر امور کو لے کر تعطل جاری ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران راہل گاندھی کو چین سے کشیدگی کے معاملے پر اظہار خیال کی اجازت نہ ملنے پر اعتراض جتا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کے آٹھ ارکان کی معطلی کے معاملے کو بھی موضوع بنایا جا رہا ہے۔
اسپیکر اوم برلا نے ہنگامہ کر رہے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک سو چالیس کروڑ عوام کی توقع ہے کہ ایوان میں بحث اور مکالمہ ہو۔ اگر منظم طریقے سے تعطل پیدا کیا جائے اور ایوان کی وقار کو مجروح کیا جائے تو اس انداز میں کارروائی نہیں چلائی جا سکتی۔
ادھر راہل گاندھی نے حال ہی میں اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر انہیں ایوان میں بولنے سے روکنے کو روایت کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ کانگریس نے اس خط کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر بھی جاری کیا۔ راہل گاندھی نے اپنے خط میں کہا کہ صدر کے خطاب پر بحث کے دوران انہیں ایک مجلہ کی تصدیق کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، جس کا حوالہ وہ دینا چاہتے تھے، اور انہوں نے اپنی تقریر دوبارہ شروع کرتے ہوئے متعلقہ دستاویز کی تصدیق بھی کر دی ہے۔