
فوٹو سوشل میڈیا
فوٹو سوشل میڈیا
نیپال کی عبوری حکومت نے پارلیمنٹ میں زیر التوا سوشل میڈیا بل کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بل سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی کی زیر قیادت حکومت کے ذریعہ پیش کیا تھا اوراظہار رائے کی آزادی کو مبینہ طور پر محدود کرنے کے الزامات کی وجہ سے بڑے پیمانے پرتنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
Published: undefined
یہ فیصلہ اس پس منظر میں آیا ہے جب ستمبر میں اولی حکومت کی طرف سے عائد کردہ سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف ’جین۔زی‘ کی قیادت میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے۔ یہ مظاہرے بعد میں بدعنوانی کے خلاف ایک وسیع تر تحریک کی شکل اختیار کر گئے، جس کے نتیجے میں اولی حکومت کو اقتدارہٹنا ہونا پڑا تھا۔ حکومت کے ترجمان اور وزیر داخلہ اوم پرکاش آریال نے صحافیوں کو بتایا کہ سوشل میڈیا بل کو پارلیمنٹ سے واپس لینے کا فیصلہ کابینہ کی میٹنگ میں کیا گیا ہے۔
Published: undefined
اس بل کا مقصد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ریگولیٹ کرنا تھا۔ حکومت نے دلیل دی تھی کہ 2023 میں نافذ ’سوشل نیٹ ورک استعمال کے انتظام کے رہنما خطوط‘ ناکافی تھے۔ ستمبر کے اوائل میں اولی حکومت نے ریگولیٹری دفعات کے تحت رجسٹر ہونے کاحوالہ دیتے ہوئےکئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی لگا دی تھی جس میں میٹا (فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ)، الفابیٹ (یو ٹیوب)، ایکس (سابقہ ٹویٹر)، ریڈیٹ اور لنکڈ ان شامل تھے۔
Published: undefined
حالانکہ اس فیصلے کے خلاف نوجوانوں کی قیادت میں شدید مظاہرے ہوئے جو بعد میں حکومت مخالف اور بدعنوانی مخالف تحریک میں تبدیل ہو گئے۔ اس کے باوجود اولی حکومت کی طرف سے پیش کیا گیا سوشل میڈیا بل پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں زیر التوا رہا، جس میں کئی ایسی دفعات شامل تھیں جن سے اظہار رائے کی آزادی پر کنٹرول کرنے کا خدشہ ظاہر کیاجارہا تھا۔
Published: undefined
نیپال جرنلسٹس فیڈریشن سمیت ڈیجیٹل حقوق کی تنظیموں نے بل کے کئی التزمات پر سخت تنقید کی۔ سب سے زیادہ متنازعہ حصوں میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر سزا سے متعلق شق بھی شامل تھی۔ بل میں تقریباً ایک درجن ایسے جرائم کی فہرست دی گئی تھی جن کے تحت استعمال کرنے والوں پر بھاری جرمانہ اور جیل کی سزاکا التزام تھا۔ جھوٹی پہچان کا استعمال کرکے غلط یا گمراہ کن معلومات پھیلانے والوں کو سب سے سخت سزا کاسامنا کرنا پڑسکتا تھا جس میں 5 سال تک کی قید اور 15 لاکھ نیپالی روپئے تک کا جرمانہپ شامل تھا۔
Published: undefined
بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص غلط یا گمراہ کن معلومات پھیلانے کے مقصد کے لیے تخلص یا عارضی شناخت کا استعمال نہیں کر سکتا جو نیپال کی خودمختاری، علاقائی سالمیت یا قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ہو۔ مزید برآں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے سرکاری لائسنس حاصل کرنا لازمی قرار دینے کی تجویز تھی۔ لائسنس کے بغیر کام کرنے پر 25 لاکھ نیپالی روپے تک جرمانے کی سزا طے کی گئی تھی۔ اس بل میں سائبر بلنگ، اسکیمنگ، فشنگ، شناختی فراڈ، جنسی استحصال اور سوشل میڈیا کے ذریعے کیے جانے والے دیگر جرائم کے لیے سخت سزا کا بھی بندوبست کیا گیا تھا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined