
امریکی فوجی
امریکی سینٹرل کمانڈ (سی ای این ٹی وی اوایم) نے شام میں دولت اسلامیہ عراق اور شام (آئی ایس آئی ایس) کے کئی ٹھکانوں کے خلاف بڑے فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ کارروائی ’آپریشن ہاک آئی اسٹرائیک‘ کے کے تحت کی گئی، جس کا مقصد خطے میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنا تھا۔ سی ای این ٹی وی اوایم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر معلومات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حملہ امریکی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً 12:30 بجے کیا گیا۔ ان حملوں میں شام کے مختلف علاقوں میں موجود آئی ایس آئی ایس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
Published: undefined
سی ای این ٹی وی اوایم کے مطابق یہ آپریشن دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی مسلسل کارروائی کا حصہ ہے۔ اس کارروائی کا مقصد امریکی فوجیوں اور اتحادی افواج پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کو روکنا، مستقبل کے خطرات کو ختم کرنا اور خطے میں سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ سی ای این ٹی وی اوایم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جو کوئی بھی ہمارے فوجیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا، اسے دنیا کے کسی بھی کونے میں ڈھونڈھ ختم کیا جائے گا۔
Published: undefined
آپریشن ہاک آئی اسٹرائیک 19 دسمبر 2025 کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ہدایت پر شروع کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ 13 دسمبر 2025 کو شام کے شہر پالمیرا میں داعش کے حملے کے بعد کیا گیا تھا، جس میں دو امریکی فوجی اور ایک امریکی شہری ہلاک ہوا تھا۔ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت آئیووا نیشنل گارڈ کے 25 سالہ سارجنٹ ایڈگر برائن ٹوریس ٹوور اور 29 سالہ سارجنٹ ولیم ناتھینیل ہاورڈ کے نام سے ہوئی تھی۔ دونوں فوجی اس سال کے شروع میں مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجی دستے کا حصہ تھے۔
Published: undefined
سی این این کی رپورٹ کے مطابق اس فوجی آپریشن کے دوران 90 سے زیادہ پری سیزن میونیشن کا استعمال کیا گیا اور تقریباً 35 سے زیادہ دہشت گردوں کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں میں دو درجن سے زائد لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا۔ امریکی افسران کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن’ ان ہیرنٹ ریزالو‘ کا حصہ ہے، جو داعش کو مکمل طور پر شکست دینے کی حکمت عملی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کارروائی سے شام میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورک کو بڑا دھچکا لگا ہے اور آنے والے دنوں میں اس طرح کی کارروائیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined