ایران پر امریکی-اسرائیلی حملہ: اکھلیش یادو کا آیت اللہ خامنہ ای اور 165 طالبات کی شہادت پر اظہارِ افسوس
حکومت ہند کو موجودہ حالات پراپنا موقف واضح کرنا چاہیے اور بتانا چاہئے کہ وہ جنگ کی حمایت کرتی ہے یا جنگ کو روکنے اور امن بحالی کے لیے ایک غیر جانبدار ملک ہونے کے ناطے کیا سفارتی کوششیں کر رہی ہے؟

سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے کی مذمت کی جس میں آیت اللہ سمیت کئی عام شہری شہید ہوگئے تھے۔ ایس پی صدر نے ایران واقع میناب کے اسکول پر کئے گئے حملے پر بھی دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے انسانی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ ایس پی صدراکھلیش یادو نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر اسرائیلی-امریکی تنازع پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ سماج وادی پارٹی آیت اللہ خامنہ ای پر حملے اور میناب کے ایک اسکول پر ہونے والے مہلک ترین اسرائیلی-امریکی حملوں میں سے ایک جس میں 165 طالبات جاں بحق ہوگئیں، دونوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔
جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی قانون، جو تنازعات کے وقت بھی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں، ایسی کارروائیوں کے سبب شدید طور پر خطرے میں ہیں۔ ہم ان کی شہادت کو سلام کرتے ہیں اور اس نقصان پر غمزدہ اور سوگوار تمام لوگوں کے ساتھ اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں بالخصوص شیعہ طبقے میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ کئی دنوں سے ملک کے مختلف حصوں میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سڑکوں پر غصہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی خبر کے بعد اترپردیش کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے جن میں ریاست کی راجدھانی لکھنؤ، علی گڑھ، مظفر نگر، بارہ بنکی، فیض آباد اور رائے بریلی شامل ہیں۔ اس دوران بہت سے لوگ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے جذباتی بھی نظر آئے اور انہوں نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس حملے کی شدید مذمت کی۔
واضح رہے کہ اکھلیش یادو نے اس سے قبل ایران کے خلاف حملے پرغم وغصہ کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت ہند اس حملے پر اپنا موقف واضح کرے۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی ملک کو اپنے اہم ترین شہریوں اور یہاں تک کہ عام شہریوں پر بھی جان لیوا حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جب جنگ قریب ہوتی ہے تو ہماری حکومت کو بین الاقوامی مسائل پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے اور بتانا چاہئے کہ وہ جنگ کی حمایت کرتی ہے یا امن اور جنگ کو روکنے اور امن بحالی کے لیے ایک غیر جانبدار ملک ہونے کے ناطے کیا سفارتی کوششیں کر رہی ہے۔
ایس پی سربراہ نے کہا کہ ہمارے ملک کی حکومت ہر ممکن سطح پر جنگ میں مارے جانے والوں سے متعلق خبروں کی تصدیق کرے اور عوام کے سامنے سچائی پیش کرے۔ جنگ کے وقت کی خبریں اکثر حکمت عملی کا حصہ ہوتی ہیں، اسی لیے اس کی تصدیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان کے ساتھ ساتھ انسانیت کا بھی نقصان انتہائی افسوسناک ہے۔ ہر ملک کو ذمہ دارانہ برتاؤ کرنا چاہیے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔