’مہنگائی-بے روزگاری میں ہوگا اضافہ‘، چینی سامان کے انحصار پر اکھلیش یادو نے مرکزی حکومت کو بنایا ہدف تنقید
اکھلیش یادو نے کہا کہ ’’چین سے آنے والے سامانوں پر جس طرح ہندوستان کا انحصار بڑھتا جا رہا ہے، اس کا برا اثر ہماری صنعتوں، کارخانوں، دکانوں اور کاروباروں پر پڑا ہے۔‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی ابھی چین کے دورہ پر ہیں۔ ان کے چین دورہ کو اپوزیشن پارٹیاں ہدف تنقید بنا رہی ہیں۔ اسی درمیان سماجوادی پارٹی کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ یوپی اکھلیش یادو نے چینی سامانوں پر ہندوستان کے بڑھتے ہوئے انحصار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بی جے پی پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ ’’چین سے آنے والے سامانوں پر جس طرح ہندوستان کا انحصار بڑھتا جا رہا ہے، اس کا برا اثر ہماری صنعتوں، کارخانوں، دکانوں اور کاروباروں پر پڑا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس انحصار کی وجہ سے نوجوانوں کی بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس حوالے سے ایک پوسٹ کیا ہے۔ اس میں انہوں نے بی جے پی اور چین کی ملی بھگت کو ’کرونولوجی‘ کے طریقے سے سممجھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے چین اپنا سامان ہندوستان کے بازاروں میں بھر دے گا۔ اس سے چین پر انحصار اس قدر بڑھ جائے گا کہ ان کی ہر غلط حرکت کو نظر انداز کرنے کے لیے بی جے پی مجبور ہو جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ چین ہماری مصنوعات اور صنعتوں کو آہستہ ہستہ بند کرانے کے دہانے پر لے جائے گا۔ چین من مانی قیمتوں پر ہر چیز فراہم کرے گا، جس کی وجہ سے مہنگائی اور بے روزگاری بڑھ جائے گی۔
اکھلیش یادو نے پوسٹ میں آگے لکھا کہ جب مہنگائی و بے روزگاری زیادہ ہوگی تو حکومت کے خلاف عوام میں غصہ بھی کئی گنا بڑھ جا ئے گا۔ اس کے بعد دوسروں کے سہارے پر چل رہی، بغیر اکثریت والی بی جے پی حکومت مزید کمزور ہوکر لڑکھڑا جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ لڑکھڑاتی بی جے پی حکومت چین کے تجاوزات کو چیلنج نہیں کر پائے گی اور چین ہماری زمین پر قبضہ کر لے گا۔ سابق وزیر اعلیٰ نے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لکھا کہ ’’اگر یہ بات ڈرون والوں کو سمجھ نہیں آ رہی ہے تو اترپردیش میں براجمان بلڈوزر والے مہاجر جی ہی اس کا جواب دے دیں کہ چین کے ذریعہ ہماری کتنی زمینیں ہڑپ لی گئی ہیں، کیونکہ ان کی اصل رہائش گاہ پر بھی تو چین نے قبضہ کر لیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔