عالمی خبریں

عراق: کربلا میں مظاہرین خون میں لت پت، 18 افراد ہلاک اور 865 زخمی

علی بیاتی نے بتایا کہ حقوق انسانی کے کارکنوں اور غیر سرکاری تنظیموں سے ملی رپورٹوں کے مطابق حکومت مخالف مظاہروں میں کم سے کم 18 لوگوں کی موت ہوگئی اور800 سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

بغداد: عراق کے شہر کربلا میں حکومت مخالف تازہ ہونے والے مظاہروں میں 18 لوگوں کی موت ہوگئی اور 800 سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے۔ قومی حقوق انسانی کمیشن نے یہ اطلاع دی۔ حقوق انسانی کمیشن کے ترجمان علی بیاتی نے بتایا کہ حقوق انسانی کے کارکنوں اور مختلف گروپوں اور غیر سرکاری تنظیموں سے ملی رپورٹوں کے مطابق حکومت مخالف مظاہروں میں کم سے کم 18 لوگوں کی موت ہوگئی اور800 سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے ہیں۔

Published: 29 Oct 2019, 3:59 PM IST

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے وزارت داخلہ کے زیر انتظام خصوصی سیکورٹی فورسز پر الزام عائد کیا کہ کربلا شہر میں منگل کو علی الصبح احتجاج کنندگان کو منتشر کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا گیا اور مجمع کو براہ راست فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا بلکہ لوگوں کا قتل عام کیا گیا۔

Published: 29 Oct 2019, 3:59 PM IST

شہر میں مظاہرین کی جانب سے پوسٹ کی جانے والی وڈیوز میں سیکورٹی فورس کی ایک گاڑی کو احتجاج کنندگان کو روندتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح دیگر وڈیوز میں مظاہرین براہ راست فائرنگ سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

Published: 29 Oct 2019, 3:59 PM IST

انسانی حقوق کے اعلی کمیشن کے مطابق کربلا شہر میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے چھوڑی گئی گیسوں کے سبب متعدد لوگوں کا دم گھٹ گیا۔ کمیشن نے بتایا کہ صورت حال کی سنگینی کے سبب کئی خاندان اسپتال پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

Published: 29 Oct 2019, 3:59 PM IST

دوسری جانب عراقی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کربلا میں پولس قیادت نے پیر کے روز مظاہرین یا سیکورٹی فورسز میں سے کسی کے بھی ہلاک ہونے کی تردید کی ہے۔ پولس کے مطابق گزشتہ روز کربلا میں صرف ایک شہری ہلاک ہوا اور اس کی جان ایک مجرمانہ کارروائی میں گئی۔

Published: 29 Oct 2019, 3:59 PM IST

واضح رہے کہ عراق میں ملک گیر مظاہرے اس ماہ کے ابتدا میں شروع ہوئے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے بھیانک صورت اختیار کرلی۔ مظاہرین حکومت کی برخاستگی، معاشی اصلاحات، بہتر زندگی، سماجی اصلاحات اور بدعنوانی پر لگام لگانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Published: 29 Oct 2019, 3:59 PM IST

مظاہرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے حکومت فکرمند ہے اور اس نے بغداد میں کرفیو لگانے کا اعلان کافی پہلے کردیا تھا اور انٹرنیٹ خدمات کو بھی معطل کردیا تھا۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ایران کے ساتھ ملحق عراقی سرحد پر کئی چوکیوں کو بھی بند کردیا گیا ہے۔

Published: 29 Oct 2019, 3:59 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 29 Oct 2019, 3:59 PM IST