مہندر کپور: سنہری دور کے ہمہ جہت گلوکار

مہندر کپور سنہری دور کے ممتاز پلے بیک گلوکار تھے جنہوں نے پانچ دہائیوں تک ہندی اور علاقائی فلموں میں یادگار نغمے گائے۔ ’میرے دیش کی دھرتی‘ جیسے گیت انہیں امر بنا گئے

<div class="paragraphs"><p>مہندر کپور / سوشل میڈیا</p></div>
i
user

یو این آئی

مہندر کپور ہندی فلمی موسیقی کے سنہری دور کے اُن ممتاز پلے بیک گلوکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی بھرپور، طاقتور اور دل نشیں آواز کے ذریعے کئی دہائیوں تک سامعین کے دلوں پر راج کیا۔ بالی ووڈ میں وہ ایک ایسے گلوکار کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں جنہوں نے تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط طویل فنی سفر میں رومانوی، قومی اور جذباتی نغموں کو اپنی آواز بخشی اور اپنی ایک الگ پہچان قائم کی۔

جب ہندی فلم انڈسٹری میں محمد رفیع، کشور کمار، طلعت محمود، مکیش اور منا ڈے جیسے عظیم پلے بیک گلوکار موجود تھے، جن میں سے ہر ایک کا اپنا منفرد انداز اور آواز تھی، ایسے ماحول میں مہندر کپور کے لیے خود کو منوانا آسان نہ تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی محنت، لگن اور مخصوص آواز کے ذریعے موسیقی کی دنیا میں ایک مضبوط مقام حاصل کیا۔

مہندر کپور کی پیدائش 9 جنوری 1934 کو امرتسر میں ہوئی۔ بچپن ہی سے اُن کا رجحان موسیقی کی طرف تھا۔ انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم حسن لال۔ بھگت رام، استاد نیاز احمد خان، استاد عبدالرحمان خان اور پنڈت تلسی داس شرما جیسے اساتذہ سے حاصل کی۔ موسیقی سے ان کی یہ وابستگی وقت کے ساتھ مزید گہری ہوتی چلی گئی۔

امرتسر میں پیدا ہونے والے مہندر کپور بعد ازاں بمبئی منتقل ہو گئے۔ کم عمری میں وہ لیجنڈری گلوکار محمد رفیع سے بے حد متاثر تھے اور انہیں اپنا روحانی استاد مانتے تھے۔ رفیع کی گائیکی سے متاثر ہو کر انہوں نے ایک ایسا انداز اپنایا جو اگرچہ رفیع سے مماثلت رکھتا تھا، مگر اس میں مہندر کپور کی اپنی آواز کی جھلک بھی نمایاں تھی۔


انہوں نے میٹرو مرفی آل انڈیا سنگنگ مقابلہ جیت کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اس کامیابی نے ان کے لیے فلمی دنیا کے دروازے کھول دیے۔ 1958 میں وی شانتارام کی فلم نورنگ میں موسیقار سی رام چندر کی دھن پر گایا گیا نغمہ ’’آدھا ہے چندرما، رات آدھی‘‘ ان کے کیریئر کا اہم سنگِ میل ثابت ہوا اور انہیں بطور پلے بیک گلوکار پہچان ملی۔

اس کے بعد مہندر کپور نے کامیابی کے نئے مراحل طے کیے اور ایک کے بعد ایک مقبول نغمے گا کر ناظرین کو مسحور کیا۔ اگرچہ ہندی فلمی موسیقی کے شائقین کی بڑی تعداد رفیع یا کشور کمار کے گرد جمع نظر آتی ہے، اور ایک طبقہ مکیش یا طلعت محمود کو پسند کرتا ہے، لیکن مہندر کپور کی مقبولیت اپنی نوعیت میں منفرد رہی۔ ان کے گیت عوام میں بے حد پسند کیے گئے، اگرچہ ان کے پرجوش مداحوں کی تعداد نسبتاً کم دکھائی دیتی ہے۔

مہندر کپور کو اپنے شاندار فلمی کیریئر میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ 1963 میں فلم گمراہ کے نغمے ’’چلو ایک بار پھر سے اجنبی بن جائیں‘‘ پر انہیں فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ 1967 میں فلم ہمراز کے گیت ’’نیلے گگن کے تلے‘‘ اور 1974 میں فلم روٹی کپڑا اور مکان کے نغمے ’’اور نہیں بس اور نہیں‘‘ کے لیے بھی انہیں سرفہرست پلے بیک گلوکار کا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔

سال 1967 میں فلم اپکار کے شہرۂ آفاق قومی نغمے ’’میرے دیش کی دھرتی سونا اگلے‘‘ کے لیے مہندر کپور کو نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں 1972 میں انہیں پدم شری اعزاز بھی عطا کیا گیا۔

مہندر کپور نے ہندی کے علاوہ مراٹھی، گجراتی، پنجابی اور بھوجپوری فلموں میں بھی بڑی تعداد میں گیت گائے۔ مراٹھی سینما میں وہ خاص طور پر دادا کونڈکے کی فلموں میں اپنی آواز کے سبب بے حد مقبول ہوئے، اگرچہ ان کی مراٹھی گائیکی صرف انہی فلموں تک محدود نہیں رہی۔


ان کی آواز کی رینج غیر معمولی تھی، جس کے باعث انہیں ’وائبرینٹ وائس آف انڈیا‘ کہا جانے لگا۔ وہ انگریزی زبان میں موسیقی ریکارڈ کرنے والے پہلے ہندوستانی پلے بیک گلوکار بھی تھے۔ بی آر چوپڑا اور منوج کمار کی فلموں میں گائے گئے ان کے نغمے آج بھی بے حد مقبول ہیں۔ موسیقار روی، این دتہ، او پی نیئر اور کلیان جی۔آنند جی نے ان کے لیے یادگار دھنیں ترتیب دیں۔

اپنی شیریں اور باوقار آواز سے موسیقی کے شائقین کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنانے والے مہندر کپور 27 ستمبر 2008 کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ان کی آواز اور نغمے آج بھی زندہ ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔