اتر پردیش میں ایس آئی آر: 2.89 کروڑ نام خارج، سیاسی جماعتیں بوتھ سطح پر سرگرم

یوپی میں ووٹر لسٹ کے مسودے سے 2.89 کروڑ نام خارج ہونے کے بعد سیاسی جماعتوں نے بوتھ سطح پر سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اہل ووٹروں کے نام دوبارہ شامل کرانے کے لیے دعوے اور اعتراضات کا عمل 6 فروری تک جاری ہے

<div class="paragraphs"><p>الیکشن کمیشن / یو این آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

لکھنؤ: الیکشن کمیشن کی جانب سے اتر پردیش کی ووٹر لسٹ کا مسودہ جاری ہونے کے بعد ریاست کی سیاسی جماعتیں بوتھ سطح پر متحرک ہو گئی ہیں۔ مسودہ فہرست میں 2.89 کروڑ ووٹروں کے نام خارج کیے جانے کے بعد دعوے اور اعتراضات کی ایک ماہ کی مدت کے دوران اہل ووٹروں کے نام شامل کرانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ یہ عمل 6 فروری تک جاری رہے گا۔

حکام کے مطابق نظرِ ثانی کے اس مرحلے میں خاص طور پر ان نوجوانوں پر توجہ دی جا رہی ہے جنہوں نے یکم جنوری 2026 کو 18 برس کی عمر مکمل کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ووٹر بھی ہدف پر ہیں جن کے نام دستاویزات کی کمی، غیر میپ شدہ حیثیت یا گنتی کے دوران بوتھ لیول افسران کو غیر حاضر یا ناقابلِ رسائی پائے جانے کی وجہ سے فہرست سے خارج ہو گئے تھے۔

اتر پردیش کے چیف الیکشن آفیسر کے دفتر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ووٹر اندراج کے معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی دیگر جماعتوں سے آگے نظر آ رہی ہے۔ بی جے پی نے اب تک 1121 درخواستیں جمع کرائی ہیں، جبکہ سماجوادی پارٹی نے 26 اور بہوجن سماج پارٹی نے 19 درخواستیں دی ہیں۔ ان اعداد و شمار کو سیاسی جماعتیں اپنی تنظیمی سرگرمیوں کے تناظر میں اہم مان رہی ہیں۔


الیکشن کمیشن کے ایک افسر نے بتایا کہ جن اہل ووٹروں کے نام مسودہ فہرست میں شامل نہیں ہیں وہ ضروری دستاویزات اور حلف نامے کے ساتھ فارم-6 کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں۔ یکم جنوری 2026 تک 18 برس کی عمر مکمل کرنے والے نوجوان بھی اسی فارم کے ذریعے ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کرا سکتے ہیں۔ خصوصی تفصیلی نظرِ ثانی کے دوسرے مرحلے میں 6 جنوری سے 6 فروری تک دعوے اور اعتراضات داخل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹ روزانہ 10 فارم جمع کرا سکتے ہیں۔

اس پورے عمل کے تحت 27 فروری تک دعوے اور اعتراضات کی سماعت اور تصدیق کی جائے گی، جس کے بعد حتمی ووٹر فہرست 6 مارچ کو شائع کی جائے گی۔ بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق پارٹی نے تنظیمی سطح پر اپنی مشینری کو متحرک کر دیا ہے اور ہر بوتھ پر کم از کم 200 ووٹروں کے نام شامل کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی لاپتہ ووٹروں کے مسئلے پر توجہ دلوا چکے ہیں۔

(ان پٹ: یو این آئی)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔