کرکٹ

وراٹ کوہلی نے جنوبی افریقہ میں وَنڈے سیریز کھیلنے کا کیا اعلان، کہا ’میں نے آرام کے لیے کبھی چھٹی نہیں مانگی‘

ایک پریس کانفرنس میں وراٹ کوہلی نے واضح کیا ہے کہ وہ تین میچوں کی یک روزہ سیریز کے لیے دستیاب رہیں گے اور بریک دینے کے لیے بی سی سی آئی سے کبھی نہیں کہا۔

وراٹ کوہلی، تصویر آئی اے این ایس
وراٹ کوہلی، تصویر آئی اے این ایس 

ہندوستانی ٹیسٹ کپتان وراٹ کوہلی نے 26 دسمبر سے شروع ہونے والی ہندوستانی ٹیم کے آئندہ جنوبی افریقہ دورہ سے پہلے میڈیا سے خطاب کیا۔ اس دوران کوہلی نے واضح لفظوں میں کہا کہ وہ تین میچوں کی یک روزہ سیریز کے لیے دستیاب رہیں گے اور اس کے برعکس کبھی بھی بریک نہیں مانگا تھا۔ کوہلی نے مزید کہا کہ ’’پانچوں سلیکٹرس نے فیصلہ کیا ہے کہ میں وَنڈے کا کپتان نہیں رہوں گا۔ پہلے سے مجھے اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں تھی۔ وَنڈے سیریز کے لیے میں دستیاب ہوں۔‘‘

Published: undefined

کوہلی کا کہنا ہے کہ ’’سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ سے ڈیڑھ گھنٹے پہلے مجھ سے رابطہ کیا گیا۔ چیف سلیکٹر نے ٹیسٹ ٹیم کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ پھر میٹنگ ختم کرنے سے پہلے مجھے بتایا گیا کہ میں وَنڈے کا کپتان نہیں رہوں گا اور مجھے کوئی پریشانی نہیں تھی۔ لیکن پہلے کوئی جانکاری نہیں دی گئی تھی۔‘‘

Published: undefined

واضح رہے کہ 8 دسمبر کو جنوبی افریقہ دورہ کے لیے ہندوستانی ٹیسٹ ٹیم کے اعلان کے ساتھ ہی وراٹ کوہلی سے وَنڈے کی کپتانی چھین کر روہت شرما کو دے دی گئی۔ اس کے بعد سے ہی بی سی سی آئی کے اس فیصلے پر تنازعہ چل رہا ہے۔ کرکٹ ماہرین کی بھی اس میں الگ الگ رائے ہے، کچھ کوہلی کو ہٹائے جانے کو درست ٹھہرا رہے ہیں تو کوئی اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

Published: undefined

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف افتتاحی ٹیسٹ میچ 26 سے 30 دسمبر تک سپراسپورٹ پارک سنچورین میں کھیلا جائے گا۔ جوہانسبرگ کا وانڈررس اسٹیڈیم آئندہ سال 3 سے 7 جنوری کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کا میزبان ہوگا۔ تیسرا اور آخری ٹیسٹ 11 سے 15 جنوری کے درمیان کیپ ٹاؤن کے نیولینڈس میں کھیلا جائے گا۔ ٹیسٹ کے علاوہ ہندوستان تین میچوں کی وَنڈے سیریز بھی کھیلے گا، جب کہ ٹی-20 سیریز کو بعد کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined