کرکٹ

گانگولی نے پنت، پجارا اور اشون کی نکتہ چینی کرنے والوں کی بولتی بند کر دی

گانگولی نے مشکل حالات میں تیسرے میچ کو ڈرا کرانے کے لئے ٹیم انڈیا کو مبارکباد دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ ’’امید ہے اب ہم سبھی کوپجارا، پنت اور اشون کے ٹیم میں ہونے کی اہمیت کا احساس ہوگا‘‘۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

نئی دہلی: سابق عظیم کپتان اور ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے صدر سورو گانگولی نے آسٹریلیا کے خلاف سڈنی میں پیر کے روز تیسرے میچ کے ڈرا ہونے کے بعد تجربہ کار بلے باز چیتیشور پجارا، رشبھ پنت اور روی چندرن اشون کا دفاع کرتے ہوئے ان کی نکتہ چینی کرنے والوں کی سخت سرزنش کی۔

Published: undefined

سابق کپتان گانگولی نے مختلف حالات کے باوجود تیسرے میچ کو ڈرا کرانے کے لئے ٹیم انڈیا کو مبارکباد دیتے ہوئے پیر کے روز ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ’’امید ہے کہ اب ہم سبھی کوپجارا، پنت اور اشون کے کرکٹ ٹیموں میں ہونے کی اہمیت کا احساس ہوگا‘‘۔

Published: undefined

آسٹریلیا نے ہندوستان کو تیسرا ٹسٹ میچ جیتنے کے لئے بہت مشکل 407 رن کا ہدف دیا تھا جس کے لئے ہندوستان کو پانچویں دن بلے بازی کرنی تھی جو بالکل بھی آسان نہیں تھی۔ پجارا نے اپنی مضبوط اننگز میں جہاں 77 رن بنائے وہیں پنت نے خود کو ثابت کرتے ہوئے شاندار 97 رن بنائے، حالانکہ وہ سنچری سے محروم ہوگئے۔ اس کے علاوہ اشون اور ہنوما وہاری نے 258 گیندوں پر 62 رن کی ناٹ آوٹ شراکت کی جس کی بدولت ہندوستان اس میچ کو ڈرا کرنے میں کامیاب ہوا۔

Published: undefined

گانگولی نے تینوں کھلاڑیوں کی نکتہ چینی کرنے والوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں اعلی گیندبازی آرڈر کے سامنے نمبر تین پر بلے بازی کرتے ہوئے رن بنانا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ کوئی بھی کھلاڑی ایسی ہی کرکٹ میں تقریباً 400 وکٹ نہیں لے لیتا ہے۔ ہندوستانی ٹیم شاندار طریقہ سے لڑی اور اب سیریز جیتنے کا وقت ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ پجارا تیز رفتار سے رن نہ بنانے کی وجہ سے نکتہ چینی کرنے والوں کے نشانہ پر تھے جبکہ پنت نے اس مقابلے میں وکٹ کیپنگ کرتے ہوئے دو-تین کیچ ڈراپ کئے تھے جس کی سخت تنقید ہوئی تھی۔ اشون کو بھی ان کی بلے بازی کے لئے نکتہ چینی کرنے والوں کے ذریعہ نشانہ بنایا جارہا تھا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined