روس-یوکرین جنگ پھر خطرناک موڑ پر! روسی میزائل اور ڈرون نے کئی علاقوں کو بنایا نشانہ

30 دسمبر 2025 کو یوکرین نے روس کے نووگورود علاقہ میں صدر پوتن کی سرکاری رہائش کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ تازہ روسی حملہ کو یوکرین کے خلاف جوابی کارروائی تصور کیا جا رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>میزائل-ڈرون، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یوکرین کے مغربی حصہ میں اپنی نئی ہائپرسونک میزائل اوریشنک سے حملہ کیا ہے۔ یہ علاقہ یوروپی یونین اور ناٹو کی سرحد کے بے حد قریب واقع ہے، جس سے پورے یوروپ کی سیکورٹی سے متعلق نئے اندیشے پیدا ہو گئے ہیں۔ یوکرین نے حملہ کی تصدیق کرتے ہوئے اسے روس کا ڈرانے والا اور علامتی قدم بتایا ہے۔

روس کی طرف سے کیے گئے اس حملہ کو یوکرین کے خلاف جوابی کارروائی تصور کیا جا رہا ہے۔ دراصل 30 دسمبر 2025 کو یوکرین نے روس کے نووگورود علاقہ میں صدر ولادمیر پوتن کی سرکاری رہائش کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ اس نشانہ کو روسی ایئر ڈیفنس سسٹم نے ناکام بنا دیا تھا۔ حالانکہ یوکرین نے اس الزام کو سرے سے خارج کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا تھا۔


’اوریشنک‘، جس کا نام روسی زبان میں ’ہیزل ٹری‘ سے لیا گیا ہے، ایک انٹرمیڈیٹ رینج بیلسٹک میزائل ہے۔ اسے روس اپنی فوجی طاقت کی نئی علامت بتا رہا ہے۔ صدر ولادمیر پوتن پہلے بھی دعویٰ کر چکے ہیں کہ یہ میزائل آواز کی رفتار سے 10 گنا تیز ہے اور اسے روک پانا تقریباً ناممکن ہے۔ حالانکہ مغربی ڈیفنس ایکسپرٹس ان دعووں کو بڑھا چڑھا کر بتایا گیا مانتے ہیں۔

بہر حال، یوکرین کے وزیر خارجہ نے روس کے ذریعہ کیے گئے تازہ حملہ کے بعد اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یوروپی یونین اور ناٹو کی سرحد کے پاس اس طرح کی میزائل کا استعمال یوروپ کی سیکورٹی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اوریشنک حملہ کے ساتھ ساتھ روس نے کیف پر بھی رات میں میزائل اور ڈرون سے حملے کیے۔ یوکرینی افسران کے مطابق راجدھانی کے کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم ایک شہری کی موت ہو گئی اور راحتی امور میں مصروف 5 بچاؤ اہلکار زخمی ہوئے۔ اس درمیان کیف نے روس کے اس دعویٰ کو سرے سے خارج کر دیا کہ حملہ پوتن کی رہائش پر مبینہ یوکرینی ڈرون حملہ کے جواب میں کیا گیا۔ یوکرین اور امریکہ دونوں نے ہی اس الزام کو غلط بتایا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔