’ہندوستان کی توانائی پالیسی کسی دباؤ میں نہیں بدلے گی‘، ٹرمپ کے 500 فیصد ٹیرف والے بل پر ہندوستان کا دو ٹوک جواب

ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان کی توانائی پالیسی کسی دباؤ میں نہیں بدلے گی۔ ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ ہندوستان کے لوگوں کو سستی توانائی مہیا کرائی جائے۔

<div class="paragraphs"><p>وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال (فائل) / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکہ کے ذریعہ مجوزہ 500 فیصد ٹیرف بل پر ہندوستانی وزارت خارجہ نے آج ایک اہم بیان دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہمیں اس بل کے بارے میں جانکاری ہے اور اس تعلق سے ہندوستان کا رخ بھی بہت صاف ہے۔ دراصل امریکی صدر ٹرمپ نے روس سے تیل یا یورینیم جیسی چیزوں کی درآمدات کرنے والے ممالک پر 500 فیصد ٹیرف عائد کرنے والے بل کو منظوری دی ہے۔ ہندوستان، چین اور برازیل روسی تیل اور یورینیم کے بڑے امپورٹر ہیں۔ اگر یہ بل پاس ہوتا ہے تو ان ممالک پر 500 فیصد ٹیرف لگایا جا سکتا ہے۔

اس معاملے میں ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ’’انرجی سورسنگ کے بڑے سوال پر ہمارا رخ سبھی کو معلوم ہے۔ ہم گلوبل مارکیٹ کے بدلتے ڈائنامکس اور اپنے 1.4 ارب ہندوستانیوں کی انرجی سیکورٹی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے الگ الگ ذرائع سے سستی انرجی حاصل کرنے کی ضرورت سے گائیڈ ہوتے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہندوستان کی توانائی پالیسی کسی دباؤ میں نہیں بدلے گی۔ ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ ہندوستان کے لوگوں کو سستی توانائی مہیا کرائی جائے۔ ہندوستان اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے دنیا بھر کے بازاروں پر نظر بنائے ہوئے ہے۔‘‘


یہ بیان رندھیر جیسوال نے پریس بریفنگ کے دوران دیا، جس میں کئی دیگر عالمی امور پر بھی انھوں نے اپنی بات رکھی۔ بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر ہو رہے مظالم سے متعلق انھوں نے کہا کہ ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ شدت پسندوں کے ذریعہ اقلیتوں کے ساتھ ساتھ ان کے گھروں اور کاروباروں پر بار بار حملے ہو رہے ہیں۔ ایسے فرقہ وارانہ معاملوں سے تیزی کے ساتھ اور سختی سے نمٹنا چاہیے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہم نے دیکھا ہے کہ ایسے واقعات کو ذاتی دشمنی، سیاسی اختلافات یا باہری اسباب سے جوڑنے کی ایک پریشان کرنے والی روش ہے۔ اس طرح کی اَن دیکھی کرنے سے جرائم پیشوں کا حوصلہ بلند ہوتا ہے اور اقلیتوں کے درمیان خوف و عدم تحفظ کا احساس گہرا ہوتا ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔