
بنگلورو میں آر سی بی کی وکٹری پریڈ سے قبل موجود لوگوں کا ہجوم / Getty Images
بنگلور میں رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کی وکٹری پریڈ سے قبل پیش آئی بھگدڑ کے المناک واقعے میں پولیس نے پہلی گرفتاری عمل میں لاتے ہوئے ٹیم کے مارکٹنگ ہیڈ نکھل سوسلے کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق نکھل سوسلے ممبئی فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور جیسے ہی وہ ایئرپورٹ پہنچے، پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا۔ ان سے اب تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ پریڈ کے انتظامات میں ان کا کیا کردار تھا اور بھگدڑ اور بدنظمی میں ان کی کتنی ذمہ داری بنتی ہے۔
Published: undefined
یہ واقعہ 4 جون کو بنگلور کے ایم چنا سوامی اسٹیڈیم کے نزدیک اس وقت پیش آیا جب آئی پی ایل کی فاتح ٹیم آر سی بی کی وکٹری پریڈ سے قبل ہزاروں افراد جمع ہو گئے تھے۔ موقع پر اچانک ہونے والی وہاں بھگدڑ کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
نکھل سوسلے کے ساتھ ساتھ پولیس نے ڈی این اے انٹرٹینمنٹ نیٹ ورکس کے تین ملازمین کرن، سومنتھ اور سنیل میتھیو کو بھی حراست میں لیا ہے۔ یہ کمپنی مذکورہ پریڈ کی ایونٹ مینجمنٹ کا کام دیکھ رہی تھی۔ تینوں سے کببن پارک پولیس تھانے میں تفتیش جاری ہے اور اس کی نگرانی شیشادری پورم کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس پرکاش کر رہے ہیں۔
Published: undefined
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس اس وقت اس امر کی چھان بین کر رہی ہے کہ اس پریڈ کے لیے اجازت کس نے دی، سیکورٹی انتظامات کس کے ذمے تھے اور آیا ان میں کسی قسم کی لاپروائی ہوئی! اس کے ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ کیا پروگرام کے انعقاد میں ریاستی قوانین یا ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی۔
اس معاملے میں کرناٹک اسٹیٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (کے ایس سی اے) کے سیکریٹری شنکر اور خزانچی جے رام کو بھی تفتیش میں شامل کیا جانا تھا لیکن دونوں اس وقت مفرور ہیں۔ پولیس ان کے گھروں پر پہنچی لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھے۔
Published: undefined
یاد رہے کہ اس واقعے کے بعد وزیراعلیٰ سدیارمیّا نے پولیس کو ابتدائی طور پر ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے پولیس کمشنر سمیت کئی اعلیٰ افسران کو معطل کر دیا تھا۔ بعد میں آئی پی ایس افسر سیمانت کمار سنگھ کو نیا بنگلور پولیس کمشنر مقرر کیا گیا۔
آر سی بی نے بھی حادثے میں ہلاک ہونے والے 11 افراد کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں ہو سکتی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined