آئی پی ایل 2026 شروع ہونے سے قبل بی سی سی آئی نے تمام 10 فرنچائزی کے لیے نئے اور سخت قوانین جاری کیے ہیں۔ ان کا مقصد ٹورنامنٹ میں نضم و ضبط میں اضافہ، ٹیم ماحول کو بہتر بنانا اور پچ کے معیار کو محفوظ رکھنا بتایا جا رہا ہے۔ اس بار صرف کھلاڑیوں پر ہی نہیں بلکہ ان کے اہل خانہ اور دوستوں کی موجودگی کے حوالے سے بھی واضح گائیڈلائن بنائی گئی ہے۔
Published: undefined
سب سے بڑی تبدیلی کھلاڑیوں کے سفر کو لے کر کیا گیا ہے۔ اب تمام کھلاڑیوں کو پریکٹس سیشن اور میچ کے لیے صرف ٹیم بس سے ہی آنا جانا ہوگا۔ پہلے کچھ کھلاڑی خاص طور سے اپنے آبائی شہروں میں پرائیویٹ گاڑی سے پہنچ جاتے تھے، لیکن اب اس کی اجازت نہیں ہوگی۔ بی سی سی آئی کا ماننا ہے اس سے ٹیم متحد رہے گی اور تمام کھلاڑیوں کے لیے ایک جیسے قانون ہوں گے۔
Published: undefined
نئے قوانین کے مطابق کھلاڑیوں کے اہل خانہ اور دوست ٹیم بس میں سفر نہیں کر سکیں گے۔ انہیں الگ گاڑی سے اسٹیڈیم یا پریکٹس وینیو تک پہنچنا ہوگا۔ اتنا ہی نہیں ڈریسنگ روم میں خاندان کے افراد اور دوستوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، یہ اصول پریکٹس کے دنوں میں بھی نافذ رہے گا۔ اگر اہل خانہ پریکٹس دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں صرف طے کیے گئے ہاسپیٹلٹی ایریا سے ہی دیکھنے کی اجازت ہوگی۔
Published: undefined
بی سی سی آئی نے میچ والے دن میدان پر پریکٹس سیشن کرانے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے علاہ پچ کے پاس والے حصے، یعنی مین اسکوائر پر بھی کسی طرح کا فٹنس ٹیسٹ نہیں کیا جا سکے گا۔ بورڈ کا ماننا ہے کہ ایسا کرنے سے پچ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ’آرینج کیپ‘ اور ’پرپل کیپ‘ کی ریس میں آگے چل رہے کھلاڑیوں کے لیے بھی نیا اصول نافذ کیا گیا ہے۔ ایسے کھلاڑیوں کو میچ کے دوران یہ کیپ پہننی ہوگی۔ اگر کوئی کھلاڑی پورے وقت یہ کیپ نہیں پہننا چاہتا تو کم از کم شروع کے 2 اوور تک اسے یہ کیپ پہننی پڑے گی، تاکہ براڈکاسٹ ٹیم اسے شائقین کو دکھا سکے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ پوسٹ میچ پریزنٹیشن کے لیے بھی بی سی سی آئی نے ڈریس کوڈ طے کیا ہے۔ اب کھلاڑی سلیو لیس (بغیر آستین والی جرسی) یا فلاپی ہیٹ پہن کر پریزنٹیشن میں نہیں آ سکیں گے۔ پہلی بار اصول کی خلاف ورزی کرنے پر کھلاڑی کو وارننگ دی جائے گی۔ اس کے بعد بھی ایسا کرنے پر کھلاڑی کو جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined