کمزور پڑتی دھاک کے ساتھ شی سے ملاقات کریں گے ٹرمپ...آشیش رے
ایران جنگ کے بعد ٹرمپ کمزور پوزیشن میں جن پنگ سے ملاقات کے لیے چین جا رہے ہیں۔ چین اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتا ہے، جبکہ ہندوستان کو خدشہ ہے کہ امریکہ اب بیجنگ کو زیادہ اہمیت دے رہا ہے

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جب سے 14 اور 15 مئی کو بیجنگ کے دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ سربراہی ملاقات کا منصوبہ بنایا ہے، عالمی طاقت کا توازن بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایران پر غیر قانونی اور بلا اشتعال حملہ کر کے اسے تباہ کرنے میں ناکامی اور الٹا سخت مزاحمت کا سامنا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ اب بیجنگ نسبتاً کمزور پوزیشن میں پہنچیں گے۔ چین اس صورتحال سے پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا، اگرچہ ٹرمپ یقیناً ایران معاملے کو مختلف انداز میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔
چین میں یورپی یونین چیمبر آف کامرس کے سابق صدر جورگ وُتکے نے میڈیا سے گفتگو میں کہا، ’’امریکہ جیتے بغیر لڑ رہا ہے، جبکہ چین لڑے بغیر جیت رہا ہے۔‘‘ تاہم 2017 میں ٹرمپ کے بیجنگ دورے کے منتظم امریکی سفارت کار ولیم کلین اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے حالیہ گفتگو میں کہا، ’’دباؤ کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، نہ یہ بڑھی ہے اور نہ ایران جنگ کی وجہ سے کم ہوئی ہے۔‘‘ البتہ انہوں نے یہ ضرور تسلیم کیا کہ ’’واضح طور پر ایران جنگ کا سایہ اس دورے پر رہے گا اور اسی سے اس کی سمت طے ہوگی۔‘‘
خلیج فارس کے خطے میں ایران، چین کا سب سے قریبی اتحادی ہے۔ اسی لیے چین کے نزدیک امریکی جارحیت صرف اس کے دوست ملک پر حملہ نہیں بلکہ خود چین پر بالواسطہ حملہ بھی تھی۔ ایران سے تیل اور گیس کی سپلائی، جو چینی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے، خلیج میں امریکی بحریہ کی موجودگی اور حالیہ دنوں میں ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔ چین کے سابق سفارت کار کوئی ہونگ جیان نے کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران نے چین کی حکمت عملی کو تہس نہس کر دیا ہے۔
سی این این نے چین سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ کے ’ایران سے ٹکراؤ نے مذاکرات میں اس کی پوزیشن کو ممکنہ طور پر مضبوط کیا ہے۔‘ بیجنگ اس آئندہ ملاقات کو واشنگٹن کے ساتھ زیادہ مستحکم اور طویل مدتی تعلقات قائم کرنے کے ایک منفرد موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ذریعے نے کہا، “ظاہر ہے، ٹرمپ ایران معاملہ نمٹانے کے بعد ہی چین جانا چاہیں گے، لیکن اگر وہ چین کے دورے کے بعد ایران پر حملہ کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوگا جیسے چین نے ایران کو تنہا چھوڑ دیا ہو۔” اتفاق سے وینزویلا کے خام تیل کی برآمدات پر امریکہ کے موجودہ کنٹرول سے بھی چین کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
جدید چین دراصل امریکہ ہی کی پیداوار ہے۔ 1970 کی دہائی کے آغاز میں امریکی صدر رچرڈ نکسن اور ان کے بااثر قومی سلامتی مشیر ہینری کسنگر نے ماؤتسے تُنگ کے دور میں ڈوبتی ہوئی چینی معیشت کو نہ صرف سہارا دیا بلکہ اسے معاشی عروج تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس کے پیچھے مقصد سوویت یونین کو کمزور کرنا تھا، جو اُس وقت واشنگٹن کا سب سے بڑا مخالف تھا۔ کھلے طور پر اس حکمت عملی کا مقصد کمیونسٹ دنیا میں ماسکو اور بیجنگ کے درمیان اختلافات پیدا کرنا تھا تاکہ ماسکو کو کمزور کیا جا سکے۔ نتیجتاً آج چین صرف ایک معاشی طاقت ہی نہیں بلکہ عسکری اور تکنیکی سپر پاور بھی بن چکا ہے، جو امریکہ کی صدیوں پرانی عالمی برتری کو چیلنج کر رہا ہے۔
اعلیٰ سطح کی اس ملاقات کے لیے ماحول ابھی سازگار نہیں ہے۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان معاشی تعلقات پر گفتگو اور انہیں نئے سرے سے منظم کرنا تھا۔ لیکن امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرمپ کی سخت ٹیرف پالیسی کو رد کیے جانے کے بعد ان کے ہاتھ کچھ بندھ گئے ہیں اور چین کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔
گزشتہ ماہ امریکی خزانے نے پانچ چینی ریفائنریوں کو بلیک لسٹ کر دیا۔ اس کے جواب میں چینی حکومت نے ٹرمپ کے سابق صدارتی حکم کو اپنی سرزمین پر ناقابلِ عمل قرار دے دیا۔ فورچیون میگزین نے گزشتہ ہفتے چین کی وزارتِ تجارت کے اس اعلان کو ’غیر معمولی‘ قرار دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ چین امریکی پابندیوں کو ’نہ مانے گا، نہ نافذ کرے گا اور نہ ہی ان پر عمل کرے گا۔‘
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائی کے جواب میں تہران نے بھی اپنی حکمت عملی کے تحت آس پاس کے عرب ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور توانائی تنصیبات پر حملے کیے ہیں، ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا ہے۔ دنیا بھر میں تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ شیئر بازار تیزی سے گر گئے ہیں۔ ہر طرف اشیاء کی قلت پیدا ہو رہی ہے اور مہنگائی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔
چین نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے ابھی تک اپنے پتے نہیں کھولے، لیکن وہ ان دو طاقتوں میں شامل ہے جو پس پردہ ایران کی مدد کر رہی ہیں۔ اگرچہ ایران کے پاس ان خطرات کا جواب دینے کے لیے ڈرون اور میزائلوں کی کمی نہیں تھی، لیکن اس کا فضائی دفاع کمزور تھا۔ چین اسی کمزوری کو دور کرنے میں لگا ہوا ہے، جو ٹرمپ کو ناگوار گزرا۔
چینی قیادت نے ٹرمپ کی دھمکیوں کے پیچھے چھپی کمزوری کو بھانپ لیا ہے۔ امریکہ میں تیزی سے گرتی ہوئی ان کی مقبولیت بھی یہی ظاہر کرتی ہے کہ سنجیدہ حلقے اب انہیں زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے جنگی میدان میں امریکہ اور چین بالواسطہ طور پر ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔
اگرچہ چین نے ٹرمپ کے دورۂ بیجنگ سے پہلے براہِ راست ان پر تنقید سے گریز کیا ہے، لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے وسیع داخلی بازار اور نایاب معدنیات کی سپلائی پر موجود گرفت سے فائدہ اٹھائے گا۔ چینی حکومت کی سب سے بڑی خواہش سرمایہ دارانہ اور امریکہ نواز تائیوان پر قبضہ کرنا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے امریکہ تائیپے حکومت کی سلامتی کی ضمانت دیتا آیا ہے، اور یہی مسئلہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے۔ چین چاہتا ہے کہ امریکہ آزاد تائیوان کی حمایت ختم کر دے۔
ہانگ کانگ سے شائع ہونے والے اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے ٹرمپ کے اس دعوے کو نمایاں کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا چین کا دورہ ’امیزنگ‘ ہونے والا ہے۔ انگریزی لفظ امیزنگ کے کئی مفہوم ہوتے ہیں، اور ضروری نہیں کہ عوام وہی مطلب اخذ کریں جو امریکی صدر دینا چاہتے ہوں۔ فکری اعتبار سے وہ کسی مضبوط اور تفصیلی معاہدے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ’فریم ورک‘ طرز کے مبہم انتظامات کو ترجیح دینا اسی بات کا ثبوت ہے۔ صدارت کی دوسری مدت میں ان کی باریکیوں پر توجہ دینے کی صلاحیت مزید کمزور ہوئی ہے، اور اب وہ 79 برس کے بھی ہو چکے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو بیجنگ کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی معاہدہ ادھورا، غیر متوازن اور حتیٰ کہ ہندوستان کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
ہندوستان کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ٹرمپ کی یہ حکمت عملی تشویش ناک ہے۔ ہندوستان امریکہ کا اسٹریٹیجک شراکت دار ہے، لیکن نئی دہلی آنے سے پہلے ٹرمپ نے چین جانے کا فیصلہ کیا۔ اس سے ایک بار پھر ظاہر ہوا کہ دنیا کو دیکھنے کا ان کا انداز اپنے پیش رو صدور سے مختلف ہے۔ ممکن ہے وہ امریکی مفادات کے لیے ہندوستان کے مقابلے میں چین کو زیادہ اہم سمجھتے ہوں۔ سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ شاید چین کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو روکنا ان کی ترجیح نہ ہو۔
چین، ہندوستان کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ، جاپان، ہندوستان اور آسٹریلیا کے اتحاد ’کواڈ‘ کی تشکیل بھی چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے کی گئی تھی۔ مغربی ایشیا کے معاملے پر آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز اور جاپانی قیادت کے سخت مؤقف، نیز نریندر مودی کو کم اہمیت دیے جانے کے تناظر میں یہ شبہ بڑھ رہا ہے کہ ٹرمپ کے دور میں کواڈ کوئی بڑی اور مؤثر کردار ادا نہیں کر پائے گا۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ کا سب سے مضبوط اتحاد یورپ کے ساتھ رہا ہے، لیکن کریملن کے تئیں ٹرمپ کے نرم رویے نے اس اتحاد کو کمزور کرنا شروع کر دیا ہے۔ امریکی فوجیوں کی واپسی سے جرمنی کو نیٹو کی جانب سے ملنے والی عسکری حفاظت متاثر ہو رہی ہے۔ یہی صورتحال اسپین، اٹلی اور یہاں تک کہ برطانیہ میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ تمام ممالک، باقی یورپی ممالک کی طرح، ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ کی کھل کر مخالفت کر چکے ہیں۔
اسی طرح جاپان کے ساتھ امریکی وابستگی، جہاں امریکہ کے بیرونِ ملک سب سے زیادہ فوجی تعینات ہیں، ٹرمپ کے دور میں پہلے جیسی مضبوط نہیں سمجھی جا رہی۔ یہی خدشات جنوبی کوریا اور واشنگٹن کے دیگر ایشیائی اتحادیوں کے بارے میں بھی پائے جاتے ہیں۔ جہاں تک نریندر مودی کا تعلق ہے، امریکہ کی جانب ان کا جھکاؤ اور ٹرمپ کے ساتھ گرمجوشی سے گلے ملنے جیسے مناظر اگر کسی پر بھاری پڑے ہیں تو وہ خود مودی ہی ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
