پہلی ملک گیر جنگ آزادی کا گم نام مجاہد، شیخ رجب علی کی قربانیوں کی داستان

پہلی ملک گیر جنگ آزادی 1857 میں اعظم گڑھ کے مجاہد شیخ رجب علی نے انگریز حکومت کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قربانی اور جدوجہد کو تاریخ میں وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ مستحق تھے

<div class="paragraphs"><p>تصویر شاہد صدیقی علیگ (قبر) / رجب علی (سوشل میڈیا)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

1857 کی پہلی ملک گیر جنگ آزادی ہندوستان کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے، جس میں مختلف مذاہب، طبقات اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے انگریزی اقتدار کے خلاف متحد ہوکر جدوجہد کی۔ اس جنگ میں جہاں علماء کرام، سپاہیوں اور مقامی راجاؤں نے حصہ لیا، وہیں بے شمار ایسے مجاہدین بھی تھے جن کے نام وقت کے ساتھ دھندلا دیے گئے۔ انہی گم نام مجاہدین میں ایک عظیم نام شہید شیخ رجب علی کا بھی ہے، جنہوں نے اعظم گڑھ اور اس کے اطراف میں انگریز حکومت کے خلاف مزاحمت کی ایک مضبوط علامت قائم کی۔

شیخ رجب علی 1812ء میں ضلع اعظم گڑھ کی تحصیل محمد آباد کے موضع بہمور میں ایک زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ بچپن ہی سے غیر معمولی جرأت اور جسمانی طاقت کے مالک تھے۔ کشتی، لاٹھی اور تلوار بازی ان کے پسندیدہ مشاغل میں شامل تھے۔ انگریز حکام کی زیادتیوں، دوغلی پالیسیوں اور مقامی آبادی کے ساتھ ہونے والے ظلم نے ان کے دل میں بغاوت کی چنگاری روشن کردی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنے ہم خیال ساتھیوں شیخ مبّن، شیخ بچئی اور ٹھاکر پرگن سنگھ کے ساتھ مل کر ایک انقلابی گروہ تشکیل دیا، جو عوام میں بیداری پیدا کرنے اور انگریزی اقتدار کے خلاف نفرت کو منظم کرنے میں سرگرم ہوگیا۔


شیخ رجب علی اور ان کے ساتھی مظلوموں کی مدد اور کمزوروں کی حمایت کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ جلد ہی ان کی بہادری اور انصاف پسندی کے چرچے پورے علاقے میں پھیل گئے اور وہ عوام کے ایک محبوب رہنما بن گئے۔ ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی خبریں انگریز حکام تک بھی پہنچنے لگیں، جس کے بعد ان پر کڑی نظر رکھی جانے لگی۔

1857 میں میرٹھ سے بغاوت کی چنگاری بھڑکی تو اعظم گڑھ میں بھی انگریز حکومت کے خلاف غصہ کھل کر سامنے آنے لگا۔ 20 جون کو حالات اتنے خراب ہوگئے کہ چند افسران کو چھوڑ کر تقریباً تمام انگریز اعظم گڑھ سے فرار ہوکر غازی پور چلے گئے۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیخ رجب علی اور ان کے ساتھیوں نے انگریزی گوداموں اور فوجی کیمپوں پر حملے شروع کردیے۔ ان کارروائیوں نے کمپنی حکومت کو شدید پریشانی میں مبتلا کردیا۔

انگریز حکام نے بغاوت کو دبانے کے لیے سخت اقدامات کیے۔ قائم مقام مجسٹریٹ وینی بلیس نے مقامی عیسائیوں اور انگریز نیلہوں کی حفاظت کے لیے ایک مسلح دستہ تیار کیا۔ 30 جون کو محبت پور کے متعدد باغیوں کو گرفتار کرکے کوتوالی میں بند کردیا گیا، جن میں جنگ بندھن سنگھ بھی شامل تھے۔ ان گرفتاریوں کی خبر ملتے ہی شیخ رجب علی نے اپنے ساتھیوں شیخ مبّن، شیخ بے چئی، چمروا اور عزت کے ساتھ ایک انقلابی لشکر تیار کیا اور اعظم گڑھ کی طرف روانہ ہوگئے۔

شیخ رجب علی نے تقریباً چار سو باغیوں کے ساتھ کوتوالی پر حملہ کردیا۔ انگریزی پولیس اس اچانک یلغار کا مقابلہ نہ کرسکی اور تمام قیدیوں کو آزاد کرا لیا گیا۔ اس واقعے نے انگریز حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کے بعد شیخ رجب علی کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے کے لیے ان کے سر پر سو روپے کا انعام مقرر کردیا گیا اور جاسوسوں کا جال بچھا دیا گیا۔


آخرکار 29 دسمبر 1857 کو ایک جاسوس نے اطلاع دی کہ شیخ رجب علی ممر کھاپور گاؤں میں موجود ہیں۔ خبر ملتے ہی انگریزی فوج نے گاؤں کو گھیر لیا۔ مگر شیخ رجب علی نے گرفتاری کے بجائے مقابلے کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے مسٹر وینی بلیس پر تلوار سے بھرپور حملہ کیا، تاہم وہ بچ نکلا۔ شدید لڑائی کے دوران شیخ رجب علی انگریزی حصار توڑ کر نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور جان بچانے کے لیے ٹونس ندی میں کود پڑے۔

انگریز سپاہیوں نے ان کا مسلسل تعاقب جاری رکھا۔ جب بھی وہ پانی سے سر نکالتے، ان پر گولیوں کی بوچھار کردی جاتی۔ بالآخر گولیوں سے چھلنی جسم کے ساتھ وہ حاجی پور گھاٹ کے قریب شہید ہوگئے۔ انگریز حکام نے لوگوں میں خوف پھیلانے کے لیے ان کا سر کاٹ کر علاقے میں گھمایا، جبکہ ان کے گاؤں کو انقلابی قرار دے کر آگ لگا دی گئی۔ ان کی جائداد ضبط کرکے نیلام کردی گئی اور ان کا ساتھ دینے والے متعدد دیہات، خصوصاً سکٹی، کو بھی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

آج بھی موضع بہمور میں شیخ رجب علی کی چھٹی نسل آباد ہے، مگر ان کی قربانیوں کا ذکر تاریخ کے صفحات میں بہت کم ملتا ہے۔ پہلی ملک گیر جنگ آزادی کی سالگرہ ایسے ہی گم نام مجاہدین کو یاد کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے، جنہوں نے اپنی جانیں قربان کرکے آزادی کی بنیاد مضبوط کی۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔