جی ڈی پی سے آگے: نئے معیار اپنانے کی ضرورت
جی ڈی پی خوشحالی کا ایک نامکمل پیمانہ ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، مستقبل کے چیلنجز کا درست اندازہ لگانے کے لیے جدید طریقے اپنانے ہوں گے، انسانوں اور کرہ ارض کی فلاح پر مبنی نئے معیارات کی ضرورت ہے

دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے عالمی معاشی نظام میں ’مجموعی گھریلو پیداوار‘ یا جی ڈی پی کو کسی بھی ملک کی اقتصادی صحت، سیاسی استحکام اور مجموعی کامیابی کا واحد اور حتمی پیمانہ تسلیم کر لیا گیا۔ تاہم، اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ہم ایک عجیب و غریب تضاد کے شاہد ہیں، جسے ماہرینِ معاشیات ’جی ڈی پی پیراڈاکس‘ کا نام دیتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی جی ڈی پی کے اعداد و شمار ریکارڈ بلندیوں کو چھو رہے ہیں، دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی نظاموں کے خلاف عوامی بے چینی اور مایوسی کی لہر بھی اپنی انتہا پر ہے۔
اس تزویراتی (اسٹریٹجک) بحران کی جڑیں اس حقیقت میں پنہاں ہیں کہ معاشی ترقی کے روایتی گراف اور عام آدمی کی زندگی کی تلخ حقیقتوں کے درمیان خلیج وسیع تر ہوتی جا رہی ہے۔ جب کسی ملک کی جی ڈی پی میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن اسی دوران خطِ غربت سے نیچے رہنے والے لوگوں کی تعداد بڑھے، مہنگائی کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہو جائے اور ماحولیاتی تباہی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دے، تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے: کیا ہماری پیمائش کا طریقہ ہی غلط ہے؟ اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کردہ اس نئے عالمی بلیو پرنٹ کا جائزہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہمیں اُن چیزوں کو گننا چاہیے جو واقعی اہمیت رکھتی ہیں۔
جی ڈی پی اور عوامی اطمینان کے درمیان یہ ٹوٹا ہوا تعلق محض ایک شماریاتی غلطی نہیں، بلکہ ایک سنگین سماجی اور سیاسی خطرہ ہے۔ جب ریاستیں صرف ان نمبروں کی بنیاد پر پالیسیاں بناتی ہیں جو عوام کے حقیقی دکھوں کا احاطہ نہیں کرتے، تو وہ نادانستہ طور پر عوامی غیظ و غضب اور انتہا پسندی کے لیے راستہ ہموار کرتی ہیں۔ لہٰذا، ترقی کے معیار کو ازسرِ نو ترتیب دینا اب محض ایک تعلیمی بحث نہیں بلکہ عالمی استحکام کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ اس ضرورت کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے ان "پوشیدہ گوشوں" کا ادراک کرنا ہوگا جہاں جی ڈی پی کی نظر نہیں پہنچتی۔
وہ عوامل جو گنتی میں نہیں آتے
جی ڈی پی بنیادی طور پر ایک مخصوص مدت کے دوران پیدا ہونے والی اشیاء اور خدمات کی مارکیٹ ویلیو کا مجموعہ ہے۔ یہ نظام پیداوار کی رفتار تو بتا سکتا ہے، لیکن یہ زندگی کے ان وسیع اور بنیادی شعبوں کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے جو کسی بھی معاشرے کی پائیداری اور خوشحالی کے ضامن ہوتے ہیں۔ درست پالیسی تجزیہ کے لیے ہمیں ان "غلط ترغیبات" کا تجزیہ کرنا ہوگا جو موجودہ میٹرک نے پیدا کر دی ہیں۔
بلا معاوضہ کام اور دیکھ بھال کی معیشت: جی ڈی پی کے پوشیدہ گوشوں کا جائزہ بتاتا ہے کہ جی ڈی پی ان کاموں کو جو گھروں کے اندر کئے جاتے ہیں مکمل طور پر نظر انداز کرتی ہے۔ بچوں کی پرورش، بزرگوں کی دیکھ بھال اور معذور افراد کی خدمت جیسے کام، جو زیادہ تر خواتین انجام دیتی ہیں، معیشت کا وہ پوشیدہ حصہ ہیں جس کے بغیر باقاعدہ لیبر مارکیٹ کا وجود ممکن نہیں۔ اسے گنتی میں نہ لانے کا مطلب یہ ہے کہ قومی بجٹ سازی اور صنفی مساوات کی پالیسیوں میں آدھی آبادی کی محنت کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
عدم مساوات کا پھیلاؤ:جی ڈی پی ’اوسط‘ پر مبنی ہے۔ اگر کسی ملک کی دولت کا 90 فیصد صرف ایک فیصد اشرافیہ کے پاس ہو، تب بھی جی ڈی پی میں اضافہ ہی نظر آئے گا۔ یہ نظام یہ بتانے سے قاصر ہے کہ دولت کی تقسیم کتنی منصفانہ ہے، جس کی وجہ سے پالیسی سازوں کو نچلے طبقے کی معاشی تنزلی نظر نہیں آتی۔
ماحولیاتی استحصال اور آلودگی: جی ڈی پی میں قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال کو "ترقی" کے طور پر درج کیا جاتا ہے۔ جنگلات کی کٹائی، معدنیات کا نکالنا اور آلودگی پھیلانا جی ڈی پی کو بڑھاتے ہیں، جبکہ ان کے نتیجے میں ہونے والے طویل مدتی نقصانات اور ماحولیاتی قیمت کو منفی وزن نہیں دیا جاتا۔
تجزیاتی اہمیت :ان عوامل کا اخراج پالیسی سازوں کو ایک ایسی خطرناک راہ پر گامزن کر دیتا ہے جہاں وہ قلیل مدتی مالیاتی فوائد کے لیے اپنے ملک کے سماجی ڈھانچے اور قدرتی اثاثوں کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ جب تک ہم اپنے قومی کھاتوں میں ان نقصانات کو درج نہیں کریں گے، ہم اقتصادی خودکشی کی طرف بڑھتے رہیں گے۔ یہی وہ نظامی ناکامی تھی جس نے اقوام متحدہ کو ایک نئے عالمی فریم ورک کی تلاش پر مجبور کیا۔
نیا عالمی بلیو پرنٹ
اس عالمی بے چینی کے جواب میں، اقوام متحدہ نے ایک اعلیٰ سطحی ماہر گروپ تشکیل دیا، جس نے 'کاؤنٹنگ واٹ کاؤنٹس'کے عنوان سے ایک انقلابی رپورٹ پیش کی۔ یہ رپورٹ محض ایک معاشی مقالہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تزویراتی مداخلت ہے جو دنیا کو جی ڈی پی کے محدود حصار سے نکالنے کی کوشش کرتی ہے۔
جی ڈی پی کا غلط استعمال ہمیں مختلف ممالک کو درپیش منفرد خطرات، جیسے موسمیاتی تبدیلی یا سماجی ٹوٹ پھوٹ کے درمیان تمیز کرنے سے قاصر رکھتا ہے۔ جب ایک چھوٹے جزیرے والے ملک اور ایک بڑے صنعتی ملک کو ایک ہی جی ڈی پی کے ترازو میں تولا جاتا ہے، تو ان کی مخصوص ضروریات اور صلاحیتیں اوجھل ہو جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ کا یہ نیا فریم ورک اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے چار ساختی ستون فراہم کرتا ہے۔ تجویز کردہ اصلاحات ایک کثیر الجہتی اپروچ پر مبنی ہیں، جو حکمرانی کے معیار کو محض مالیاتی اشاریوں سے نکال کر انسانی زندگی کی جامعیت میں لے آتی ہیں۔ یہ فریم ورک چار ستونوں پر استوار کیا گیا ہے:
1۔ بنیادی اصول:اس کے تحت امن، انسانی حقوق اور زمین کے تحفظ کو ترقی کی پہلی شرط قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی کوئی بھی ترقی "ترقی" نہیں کہلا سکتی جو جنگ، جبر یا ماحولیاتی تباہی کی قیمت پر حاصل کی گئی ہو۔
2۔موجودہ بہبود: یہاں توجہ شہریوں کے جیب کے بجائے ان کے معیارِ زندگی پر دی گئی ہے۔ اس میں صحت، تعلیم، سماجی تحفظ اور خوشی کے احساس جیسے عوامل کو باقاعدہ پیمائش کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ڈیجیٹل دنیا: خواتین کی سیلف سنسرشپ
3۔ مساوات اور شمولیت: یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ترقی کے ثمرات معاشرے کے محروم طبقات تک پہنچ رہے ہیں یا نہیں۔
4۔ پائیداری اور لچک: یہ مستقبل کے معاشی، سماجی اور ماحولیاتی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی قومی صلاحیت کو جانچتا ہے۔
یہ چاروں ستون پالیسی سازوں کے لیے ایک "کمپاس" کی طرح کام کرتے ہیں۔ یہ انہیں قلیل مدتی سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ایسی فیصلے سازی کی طرف راغب کرتے ہیں جو طویل مدتی قومی استحکام کا باعث بنتی ہے۔ اس فریم ورک کی عملی ضرورت ہمیں خاص طور پر جدید ٹیکنالوجی کے دور میں محسوس ہوتی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کا چیلنج
مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے عروج نے جی ڈی پی کی پیمائش کی خامیوں کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔ سیکرٹری جنرل گٹیرس کے مطابق، اے آئی عالمی پیداواری صلاحیت میں اس قدر اضافہ کر سکتی ہے جو جی ڈی پی کے گراف کو تو آسمان تک پہنچا دے گی، لیکن اس کے انسانی اخراجات تباہ کن ہو سکتے ہیں۔اگر ہم اے آئی کو صرف جی ڈی پی کے لینز سے دیکھیں گے، تو ہم ایک ’خطرناک تخفیف پسندی‘ کا شکار ہو جائیں گے۔ اے آئی کے نتیجے میں لاکھوں ملازمتوں کا ممکنہ خاتمہ، ڈیجیٹل تقسیم میں اضافہ اور خودکار مہلک ہتھیاروں کی تیاری جیسے عوامل جی ڈی پی میں مثبت یا غیر جانبدار نظر آ سکتے ہیں، لیکن وہ عالمی امن اور سماجی استحکام کے لیے ایک وجودی خطرہ ہیں۔
ایک ایسا معاشی نظام جو اے آئی کے ذریعے پیدا ہونے والی دولت کو تو گنے لیکن اس کے نتیجے میں ہونے والی انسانی بے دخلی اور ’سیکورٹی رسک‘ کو نظر انداز کر دے، وہ معاشرتی انتشار کو دعوت دے رہا ہے۔ لہٰذا، ٹیکنالوجی کی کامیابی کو صرف جی ڈی پی پر اس کے اثرات سے نہیں، بلکہ انسانی بہبود اور اخلاقی حدود کے معیار پر پرکھنا ہوگا۔
جامع مستقبل کی طرف قدم
مختصر یہ کہ جی ڈی پی سے آگے بڑھنے کا یہ سفر معیشت کو مسترد کرنے کا نام نہیں، بلکہ اسے انسانیت اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا نام ہے۔ جیسا کہ سیکرٹری جنرل گوٹیرس نے نہایت بصیرت کے ساتھ کہا، یہ "تاریخ کا ایک غیر معمولی لمحہ" ہے جہاں پرانے پیمانے ہمیں مزید منزل تک نہیں پہنچا سکتے۔ 'کاؤنٹنگ واٹ کاؤنٹس' (ان چیزوں کو گننا جو واقعی اہمیت رکھتی ہیں) محض ایک اخلاقی خواہش نہیں بلکہ انسانی بقا کے لیے ایک تزویراتی ضرورت بن چکی ہے۔ ہمیں ایسے نئے میٹرکس کو قبول کرنا ہوگا جو جی ڈی پی کی تکمیل کریں اور ایک ایسی شفاف تصویر پیش کریں جس میں ترقی کا مطلب صرف مشینوں اور سرمائے کا اضافہ نہ ہو، بلکہ انسانی وقار، سماجی انصاف اور زمین کی ہریالی ہو۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم ایک پائیدار اور منصفانہ عالمی مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
