ڈیجیٹل دنیا: خواتین کی سیلف سنسرشپ

ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے خواتین میں ذہنی امراض کی شرح بڑھی ہے اور بہت سی خواتین خود کو محفوظ رکھنے کے لیے خود ساختہ سنسرشپ یا خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ موجودہ قانونی تحفظ ناکافی ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

مدیحہ فصیح

google_preferred_badge

مصنوعی ذہانت (اے آئی)کے جدید دور میں خواتین صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف آن لائن تشدد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اس نے ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال نے ڈیپ فیکس اور نجی تصاویر کے غیر قانونی پھیلاؤ کو آسان بنا دیا ہے، جس کا مقصد خواتین کی آواز کو دبانا اور ان کی پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

اس ہراساں کیے جانے کے عمل سے خواتین میں ذہنی امراض، جیسے کہ ڈپریشن اور بے چینی کی شرح بڑھی ہے اور بہت سی خواتین خود کو محفوظ رکھنے کے لیے خود ساختہ سنسرشپ یا خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ بات باعث تشویش ہے کہ موجودہ قانونی تحفظ ناکافی ہے، جس کی وجہ سے خواتین کو کام کی جگہوں اور سوشل میڈیا پر شدید غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر حقوق کی پامالی کا یہ سلسلہ نہ صرف انفرادی زندگیوں بلکہ جمہوریت اور اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

ہتھیار گولی نہیں بلکہ الگورتھم

ٹیکنالوجی کا یہ انقلاب، جو ہماری آواز بننا تھا، اب ہماری شناخت مٹانے کا آلہ بن چکا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں خواتین، بالخصوص صحافی اور انسانی حقوق کی علمبردار، ایک ایسی جنگ کا سامنا کر رہی ہیں جہاں ہتھیار گولی نہیں بلکہ الگورتھم اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ہیں۔ ڈیجیٹل خاموشی (ڈیجیٹل سائلنسنگ) کے عنوان سے سامنے آنے والی حالیہ رپورٹ ایک بھیانک تصویر پیش کرتی ہے: ٹیکنالوجی اب صرف ترقی کا ذریعہ نہیں رہی، بلکہ اسے منظم طریقے سے "ڈیجیٹل استبداد"کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ آدھی آبادی کو عوامی منظر نامے سے غائب کر دیا جائے۔

بدسلوکی کا نیا خطرناک ہتھیار

مصنوعی ذہانت نے آن لائن تشدد کو نہ صرف پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ اسے ایک خطرناک وسعت دے دی ہے۔ اب بدسلوکی صرف ٹرولنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اے آئی کی مدد سے کسی کی ساکھ منٹوں میں راکھ کی جا سکتی ہے۔ سال 2025کے ایک عالمی سروے کے مطابق : 12 فیصد خواتین صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو ان کی ذاتی تصاویر کی غیر رضامندی کے ساتھ تشہیرکا سامنا کرنا پڑا۔ 6 فیصد خواتین "ڈیپ فیکس"کا شکار ہوئیں، جہاں اے آئی کے ذریعے ان کی ایسی جعلی تصاویر یا ویڈیوز بنائی گئیں جو دیکھنے میں بالکل حقیقی لگتی ہیں۔ اور ہر تین میں سے ایک خاتون کو انٹرنیٹ پر بن مانگی پیش قدمیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو پلیٹ فارمز کی نظامیاتی ناکامی کا ثبوت ہے۔


اعداد و شمار میں دگنا اضافہ

یہ کوئی وقتی لہر نہیں بلکہ ایک بڑھتا ہوا بحران ہے۔ سال 2020 کے مقابلے میں خواتین صحافیوں کے خلاف آن لائن تشدد کی رپورٹنگ میں دگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی کالیوپی منگیرو اس صورتحال کو جمہوری پسپائی سے جوڑتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ’’مصنوعی ذہانت بدسلوکی کو آسان اور زیادہ نقصان دہ بنا رہی ہے۔ یہ جمہوری پسپائی اور منظم صنفی عداوت (نیٹ ورکڈ مِسوجنی)کے تناظر میں ان حقوق کی پامالی کا سبب بن رہی ہے جو ہم نے دہائیوں کی محنت سے حاصل کیے تھے۔‘‘

خود ساختہ سنسرشپ

جب ڈیجیٹل فضا زہریلی ہو جاتی ہے، تو اس کا سب سے بڑا نقصان "خاموشی" کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ صحافت کے بنیادی جوہر پر حملہ ہے۔ تقریباً 45 فیصد خواتین صحافیوں نے بدسلوکی کے خوف سے سوشل میڈیا پر خود ساختہ (سیلف) سنسرشپ اختیار کر لی ہے، جو کہ سال 2020 کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ 22 فیصد خواتین صحافی اب اپنے پیشہ ورانہ کام اور تحقیقاتی رپورٹنگ میں بھی سنسرشپ کا شکار ہو رہی ہیں۔ جب ایک صحافی کسی طاقتور گروہ کے خلاف لکھنے سے اس لیے رک جاتی ہے کہ اسے آن لائن وحشیانہ مہم کا ڈر ہے، تو یہ صرف اس کی خاموشی نہیں بلکہ جمہوریت کی موت ہے۔

ذہنی صحت پر گہرے اثرات

آن لائن تشدد کے زخم جسمانی نہیں ہوتے، مگر ان کی اذیت زندگی بھر کا روگ بن جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 24.7فیصد خواتین صحافی انزائٹی یا ڈپریشن کا شکار ہیں، جبکہ 13 فیصد میں پی ٹی ایس ڈی(پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر) کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس انسانی المیے کو ان دو الگ الگ کہانیوں سے سمجھا جا سکتا ہے: ہندوستان سے تعلق رکھنے والی ایک ماحولیاتی صحافی بتاتی ہیں کہ ’’جب دائیں بازو کے گروہ مجھے آن لائن 'غدار' قرار دیتے ہیں اور واٹس ایپ پر جھوٹے الزامات پھیلائے جاتے ہیں، تو اپنے ہی ملک میں رہنا خوفناک ہو جاتا ہے۔ ہم نے تحقیقاتی رپورٹنگ سے ہاتھ کھینچ لیا ہے کیونکہ یہ گروہ اب میرے رشتہ داروں کو ہراساں کرتے ہیں۔‘‘

اسی طرح ایک اور صحافی اور کمیونٹی آرگنائزر نے اپنی ملازمت چھوڑنے کے بعد کے حالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ "آن لائن دباؤ اس قدر ناقابلِ برداشت تھا کہ میں نے دسمبر 2023 میں استعفیٰ دے دیا۔ اب میں گھر پر ہوں اور صرف اپنی ذہنی صحت بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ میں اب صرف چاول کی کانجی پر گزارہ کر رہی ہوں کیونکہ کام سے نکالے جانے کے بعد میرے پاس کوئی مالی سہارا نہیں بچا۔"


قانونی خلا اور بگ ٹیک کی ذمہ داری

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ بحران قوانین کی کمی سے زیادہ ’نظامیاتی ناکامی‘ کا نتیجہ ہے۔ ورلڈ بینک کے ڈیٹا کے مطابق، دنیا کے 40 فیصد سے بھی کم ممالک میں سائبر ہراسانی کے خلاف موثر قوانین موجود ہیں۔ اگرچہ پولیس رپورٹنگ میں اضافہ ہوا ہے11فیصد سے بڑھ کر 22 فیصد اور قانونی کارروائی کی شرح 14 فیصد تک پہنچی ہے، لیکن اصل مسئلہ ’سہولت کاروں‘ کا ہے۔ گوگل، میٹا اور ایکس (ٹویٹر) جیسے پلیٹ فارمز اس تشدد کو روکنے کے بجائے اسے ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔ جب تک ٹیکنالوجی کمپنیاں جوابدہ نہیں ہوں گی، صرف قوانین کافی نہیں ہوں گے۔

’ڈیجیٹل سائلنسنگ‘ یا خاموش کر دینے کا یہ عمل دراصل ہماری آنے والی نسلوں کی آواز چھیننے کی کوشش ہے۔ اگر ٹیکنالوجی کو انسانی حقوق کی پامالی کے لیے ڈھال بنایا جاتا رہا، تو وہ وقت دور نہیں جب ڈیجیٹل دنیا صرف ایک مخصوص گروہ کی جاگیر بن کر رہ جائے گی۔ آج ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا: کیا ہم واقعی ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا کا حصہ بنے رہنا چاہتے ہیں جہاں آدھی آبادی کی آواز کو دبانے کے لیے ٹیکنالوجی کو ایک مہلک ہتھیار کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہو؟ اس کا جواب ہماری خاموشی میں نہیں بلکہ مزاحمت اور مطالبہ انصاف میں چھپا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔