موسمیاتی تبدیلی: جنوبی ایشیا، عرب خطے میں بڑھتا ہوا بحران... مدیحہ فصیح
جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث قدرتی آفات میں ہزاروں جانیں جا چکی ہیں، جبکہ عرب خطے میں غیر معمولی گرمی پڑ رہی ہے۔ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران عالمی سطح پر سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے

موسمیاتی تبدیلی کی شدت میں اضافے نے دنیا بھر میں قدرتی آفات کے منظرناموں کو یکسر بدل دیا ہے۔ خصوصاً جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک اور عرب خطہ ان تبدیلیوں سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ان خطوں میں آنے والی قدرتی آفات نے انسانی زندگی، معیشت اور ماحولیات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نہ صرف قدرتی آفات کی شکل میں ظاہر ہو رہے ہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ ان کی اقتصادی اور سماجی قیمت بھی بہت زیادہ ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران عالمی سطح پر سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔
جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت
جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے قدرتی آفات کی شدت کو بڑھا دیا ہے، خاص طور پر طوفانوں، سیلابوں اور لینڈ سلائیڈز کی صورت میں۔ نومبر کے وسط سے شروع ہونے والی موسمیاتی بحران کی لہر نے سری لنکا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، ملیشیا اور ویت نام میں تباہی مچائی۔ ان قدرتی آفات کے نتیجے میں 1600 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے اور کروڑوں افراد متاثر ہوئے۔
سیلاب اور لینڈ سلائیڈز کے سبب تباہی
سری لنکا میں 28 نومبر کو سائیکلون ڈیٹوا کی آمد نے جزیرے کے بیشتر حصوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈز کی تباہی کو جنم دیا۔ اس کی سب سے زیادہ شدت کندی، نوارا ایلیا اور بدھولا کے پہاڑی علاقوں میں دیکھنے کو ملی، جہاں لینڈ سلائیڈز نے پلانٹیشن کمیونیٹیز کو متاثر کیا۔ اس کے علاوہ، مغربی اور شمال مغربی اضلاع میں شدید سیلاب نے کولمبو کے مضافاتی علاقوں میں مارکیٹس، ٹرانسپورٹ اور پانی کی فراہمی میں خلل ڈالا۔ ان آفات کے بعد خواتین اور لڑکیوں کو جنسی تشدد، اقتصادی عدم تحفظ اور صحت کی خدمات میں خلل جیسے خطرات کا سامنا ہو رہا ہے۔
انڈونیشیا میں 22 سے 25 نومبر تک مسلسل بارشوں نے آچے، مغربی سماترا اور شمالی سماترا کے علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈز کو جنم دیا۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 830 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 500 سے زائد افراد ابھی تک لاپتہ ہیں اورآٹھ لاکھ 88 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ 30 لاکھ سے زائد افراد سیلابی پانیوں، گرنے والی پہاڑیوں اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر سے متاثر ہوئے ہیں۔
تھائی لینڈ کے جنوبی علاقے میں شدید مانسون بارشوں نے 12 صوبوں کو متاثر کیا۔ کم از کم 185 افراد کی موت واقع ہوئی اور 367 افراد لاپتہ ہیں۔ 40 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے، جبکہ2 لاکھ 19 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو گئے۔ ملیشیا میں بھی شمالی اور وسطی ریاستوں میں سیلاب کی وجہ سے تقریباً37 ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ حکام بار بار پناہ گزینی کے احکام اور موسم کی وارننگ دے رہے ہیں کیونکہ بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
ویتنام اپنی تاریخ کا سب سے سخت طوفانی موسم دیکھ رہا ہے۔ اکتوبر سے جاری طوفانوں نے ملک کے شمالی اور وسطی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سیلاب اور تباہی مچائی۔ نومبر کے وسط سے مسلسل بارشوں نے نئے لینڈ سلائیڈز اور طویل عرصے تک بے گھر ہونے کی صورتحال پیدا کی۔ اقوام متحدہ نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے مرکزی ایمرجنسی ریسپانس فنڈ (سی ای آر ایف) سے 26 لاکھ ڈالر کی امداد فراہم کی۔
عرب خطے میں موسمیاتی بحران
عرب خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات 2024 میں اپنی شدت کو پہنچے، جس کی بدولت خطے میں ریکارڈ توڑ گرمی، طوفانوں اور پانی کی کمی کے بحران نے سنگین صورتحال پیدا کر دی۔ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کی رپورٹ کے مطابق، عرب خطے میں 2024 میں کئی ممالک میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جو موسمیاتی تبدیلی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات جیسے خشک علاقوں میں شدید بارشوں اور اچانک سیلابوں نے تباہی مچائی، جس سے انسانی جانوں کا نقصان اور املاک کی تباہی ہوئی۔ اس کے علاوہ، مراکش، الجزائر اور تیونس میں خشک سالی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، جہاں چھ سال مسلسل بارشوں کی کمی ہوئی، جس کے باعث زرعی پیداوار پر اثر پڑا۔
عرب خطے کے کئی ممالک پانی کی کمی سے پہلے ہی متاثر ہیں، اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث اس بحران میں مزید شدت آئی ہے۔ موسمی حالات کے باعث آندھیوں، طوفانوں اور خشک سالی میں اضافہ ہو رہا ہے، جو خطے کی زرعی پیداوار کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، بخارات کی شدت میں اضافے کے باعث زیر زمین پانی کے ذخائر پر دباؤ بھی بڑھ گیا ہے، جس سے مزید مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
مستقبل کی صورت حال اور ضروری اقدامات
عرب خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں نے نہ صرف قدرتی آفات کو جنم دیا ہے بلکہ ان کے اقتصادی اثرات بھی بہت زیادہ ہیں۔ بڑھتی ہوئی گرمی، پانی کی کمی اور طوفانوں نے نہ صرف لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ معاشی ترقی کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ خطے میں موجود کئی ممالک نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کی ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر حکومتی سطح پر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ صرف تیز، مسلسل اور مشترکہ اقدامات ہی ان موسمیاتی بحرانوں کو نئے معمولات بننے سے روک سکتے ہیں۔ خطے کی حکومتوں کو توانائی کی فراہمی، پانی کی سیکورٹی اور دیگر اہم شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات
موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدرتی آفات موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں، جن کی وجہ سے اس خطے میں موسمی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سمندر کی سطح کا بلند ہونا، طوفانوں کے راستوں میں تبدیلی اور سمندر کے درجہ حرارت میں اضافہ جیسے عوامل نے ان علاقوں میں شدید بارشوں اور طوفانوں کو جنم دیا۔ مثال کے طور پر سائیکلون دِتوا نے سری لنکا کے ساحلی علاقے تک غیر معمولی طور پر جنوبی سمت میں سفر کیا اور گردابی طوفان سینیار ملیشیا کے قریب خط استوا کے نزدیک پیدا ہوا، جو ایک نادر واقعہ تھا۔
یہ حقیقت واضح ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا اور عرب خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات اور عالمی اداروں کی حمایت کی ضرورت ہے تاکہ ان قدرتی آفات کو کم کیا جا سکے اور ان کے اثرات کو محدود کیا جا سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔