کرکٹ

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ انتخاب معاملہ پر بی سی بی اور حکومت آمنے سامنے

گزشتہ سال اکتوبر میں امین الاسلام دوبارہ بی سی بی چیف منتخب ہوئے تھے۔ سابق کرکٹر تمیم اقبال نے اس انتخاب پر سوال اٹھایا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ بے ضابطگی ہوئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ، تصویر سوشل میڈیا

 

بنگلہ دیش کے لیے 2026 کی ابتدا تنازعات سے بھرپور رہی ہے۔ پہلے تو تنازعہ کے سبب ٹی20 عالمی کپ سے باہر ہونا اور اب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے انتخابات کو لے کر نیا ہنگامہ برپا ہونا۔ اس وقت بنگلہ دیش حکومت اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) آمنے سامنے ہیں اور اس تنازعہ کا مرکز بی سی بی کے صدر امین الاسلام ہیں۔

Published: undefined

درحقیقت گزشتہ سال اکتوبر میں امین الاسلام دوبارہ بی سی بی کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ سابق کرکٹر تمیم اقبال نے ان کے انتخاب پر سوال اٹھائے تھے اور الزام عائد کیا تھا کہ انتخاب میں گڑبڑی ہوئی ہے۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد بنگلہ دیش حکومت نے اس کی جانچ شروع کر دی تھی، لیکن بی سی بی نے اشاروں ہی اشاروں میں حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر زیادہ مداخلت کی گئی تو آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) کارروائی کر سکتا ہے۔

Published: undefined

اسی دوران ایشیائی کرکٹ کونسل کے سابق سی ای او سید اشرف الحق کے ایک بیان نے ایک نئی بحث شروع کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کا نام لے کر بی سی بی بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بی سی بی نیشنل اسپورٹس کونسل کے تحت آتا ہے۔ اشرف الحق نے کہا ہے کہ اگر انتخاب یا کام کرنے کے طریقۂ کار میں کوئی بے ضابطگی پائی گئی تو این ایس سی کے پاس مکمل اختیار ہے کہ وہ بورڈ کو تحلیل کر سکتا ہے۔

Published: undefined

اشرف الحق نے اس معاملہ میں وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی کسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا، زیادہ سے زیادہ ہدایات جاری کر سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کئی بار صدور تبدیل کیے گئے، لیکن آئی سی سی نے مداخلت نہیں کی۔ اس لیے اگر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا کام درست ہے تو اس معاملے میں بھی آئی سی سی مداخلت نہیں کرے گا۔

Published: undefined

اس تعلق سے بنگلہ دیش کے وزیر برائے کھیل امین الحق کا کہنا ہے کہ جانچ رپورٹ دیکھنے اور آئی سی سی سے بات چیت کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچا جائے گا۔ اگر بی سی بی کو قصوروار پایا گیا تو حکومت سخت کارروائی کر سکتی ہے، تاہم ابھی تک تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined