فکر و خیالات

ہندوستان اور بنگلہ دیش کے لیے امتحان کا وقت... سوربھ سین

بنگلہ دیش میں ہوئے عام انتخاب کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کی خواتین، پہلی بار ووٹ دینے والوں اور نوجوان ووٹرس نے جماعت اسلامی کی نظریات کے خلاف ووٹ کیا۔

<div class="paragraphs"><p>بنگلہ دیش انتخاب، ویڈیو گریب</p></div>

بنگلہ دیش انتخاب، ویڈیو گریب

 

بنگلہ دیش میں جب ووٹوں کی گنتی چل ہی رہی تھی، بی این پی کے ایک سینئر لیڈر نے مضمون نگار سے کہا کہ ’’ضلعوں سے ملی زمینی رپورٹ اور ریٹرننگ افسر کے جاری سرٹیفکیٹ دو تہائی اکثریت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔‘‘ حتمی نتائج نے ان کے اندازے کو درست ثابت کر دیا۔ بی این پی کے مقابلے میں جماعت اسلامی زیادہ گول گول باتیں کر رہی تھی۔ جماعت کے جنرل سکریٹری میاں غلام پروار نے اس وقت کہا تھا ’’مجھے اپنے انتخابی حلقہ (کھلنا-5) میں جیت کا بھروسہ ہے، لیکن ووٹ شماری پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہوں گا۔‘‘ آخر میں پروار بی این پی امیدوار محمد علی اصغر سے ہار گئے۔

Published: undefined

جماعت اسلامی اور بی این پی ایک وقت عوامی لیگ کے دبدبہ کا مقابلہ کرنے والے ساتھی تھے، اور جماعت کے سڑکوں پر اترنے سے بی این پی کی مہم کو مضبوطی ملی۔ جماعت اسلامی نے ریزلٹ پر سوال اٹھائے ہیں اور بی این پی پر حکومتی مشینری کے ذریعہ دھاندلی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ خود کو 2024 کے انقلاب کا ’حقیقی‘ نمائندہ بتاتے ہوئے جماعت اسلامی دلیل دیتی ہے کہ بی این پی کا آنا صرف ایک تاناشاہی کو دوسرے سے بدلنا ہے۔

Published: undefined

دونوں کے لیے آگے مشکل وقت ہے۔ بی این پی کو جلد ثابت کرنا ہوگا کہ وہ راج کرنے والی پارٹی ہے اور اس نے گزشتہ غلطیوں سے سبق حاصل کیا ہے۔ دوسری طرف جماعت اسلامی کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ایک ذمہ دار اپوزیشن ہو سکتی ہے۔ حالانکہ جماعت نے اپنے رخ اور شبیہ کو نرم کیا ہے، لیکن اس نے 1971 میں ملک کی آزادی کی مخالفت کرنے والے اسلامی شدت پسند کا ٹیگ نہیں ہٹایا ہے۔ کچھ لوگوں کا ماننا تھا کہ جماعت کو امریکہ اور پاکستان کی حمایت ہے اور پیسوں کی اس کے پاس کمی نہیں، اس لیے وہ جیت جائے گی۔ بہرحال، ماہرین کا کہنا ہے کہ جماعت کی شکست ترقی پذیر اور جمہوری بنگلہ دیش کی فتح کا اشارہ ہے۔

Published: undefined

انتخابی نتائج سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ عوامی لیگ کو انتخاب میں حصہ لینے سے روکنے کے بعد بھی عوام میں اس گرفت بنی ہوئی ہے۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے بیلیٹ پیپر پر ’ناؤ نہیں، تو ووٹ نہیں‘ لکھا۔ غور طلب ہے کہ عوامی لیگ کا انتخابی نشان ناؤ، یعنی کشتی رہا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 40 فیصد لوگوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ تصور کیا جا رہا ہے کہ اس میں بڑی تعداد عوامی لیگ حامیوں کی ہے۔ انتخاب میں بی این پی نے 200 سے زیادہ سیٹیں جیت لی ہیں، جبکہ جماعت اسلامی کو اپنے ساتھی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے ساتھ مل کر بھی 70 سے کم سیٹیں حاصل ہوئیں۔

Published: undefined

بنگلہ دیش میں ہوئے اس انتخاب کے نتیجے یہ بھی بتاتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی خواتین، پہلی بار ووٹ دینے والوں اور نوجوان ووٹرس نے جماعت اسلامی کی نظریات کے خلاف ووٹ دیا۔ تقریباً 5.6 کروڑ یا 44 فیصد ووٹرس 18 سے 37 سال کی عمر کے تھے، اور تقریباً 50 لاکھ پہلی بار ووٹ دے رہے تھے۔ جماعت اسلامی کی سیٹوں کی تعداد بڑھی ہے، یہ دیکھتے ہوئے کہ 1991 میں اس نے محض 18 سیٹیں اور 2001 میں 17 سیٹیں جیتی تھیں، جب وہ بی این پی کے ساتھ اتحاد میں تھی۔ پارلیمنٹ میں 50 مزید اراکین، جو سبھی خواتین ہوں گی، بعد میں پارلیمنٹ میں شامل ہوں گی۔ انھیں سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ جیتی گئی سیٹوں کی بنیاد پر تناسب کے ساتھ تقسیم کرتے ہوئے منتخب کیا جائے گا۔

Published: undefined

بہرحال، قبل میں ہندوستان کے ساتھ بی این پی کے رشتے اچھے نہیں رہے ہیں۔ اس کے باوجود بنگلہ دیش کا اسلامی نظریات کو مسترد کرنا اور 1971 کی آزادی کی وراثت کو پھر سے زندہ کرنا، دونوں ممالک کے رشتوں پر بہت بڑا اثر ڈالیں گے۔ یہ دونوں ممالک کے لیے اپنے رشتوں کو پھر سے ٹھیک کرنے اور ایک نئی شروعات کرنے کا موقع ہے۔ بی این پی چیف طارق رحمن نے ہندوستان کے ساتھ ایک برابر اور عزت دار پارٹنر کی حیثیت سے رشتوں کو آگے بڑھانے کی خواہش ظاہر بھی کی ہے۔

Published: undefined

حال فی الحال نئی دہلی میں بنگلہ دیش کو 2 نظریات سے دیکھا جاتا رہا۔ حال ہی میں ایک انٹرویو میں سابق نوکرشاہ اور بنگلہ دیش معاملوں کی جانکاری وینا سیکری نے کہا کہ ’’ہم جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں حکومت بدلنے کے آپریشن کو مغربی طاقتوں کی حمایت تھی، لیکن یہ پاکستان کے ذریعہ کیا گیا اور بنگلہ دیش میں پاکستان کا سب سے بڑا ذریعہ جماعت اسلامی ہے۔‘‘

Published: undefined

بنگلہ دیش انتخاب کے نتائج نئی دہلی کے دوسرے نظریے کو مضبوط کریں گے جو زیادہ وسیع ہے اور اسے وزیر خارجہ ایس جئے شنکر اور ہندوستان و بنگلہ دیش کے قومی سیکورٹی مشیر اجیت ڈووال و خلیل الرحمن آگے بڑھا رہے ہیں۔ بی این پی کا واضح مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آنا دونوں پڑوسیوں کے لیے ایک موقع ہے۔ وزیر اعظم مودی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی طرف سے وزیر اعظم بننے جا رہے طارق رحمن کو مبارکباد کا پیغام دہلی کی پھر سے بات چیت کرنے کی خواہش کا اشارہ دیتے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined