بنگلہ دیش میں بی این پی کو دو تہائی اکثریت، جماعت اسلامی کی امیدوں کو بڑا دھچکا
بنگلہ دیش کے تیرہویں عام انتخابات میں بی این پی نے 213 نشستوں کے ساتھ دو تہائی اکثریت حاصل کر لی۔ جماعت اسلامی کو 68 نشستیں ملیں۔ ہندوستان، امریکہ اور پاکستان نے طارق رحمن کو مبارکباد دی

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے تیرہویں پارلیمانی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے 300 رکنی قومی پارلیمنٹ میں 213 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔ الیکشن نتائج کے مطابق جماعت اسلامی کو 68 نشستیں ملی ہیں جبکہ دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے حصے میں 12 نشستیں آئی ہیں۔ اس طرح بی این پی نے اپنے اندازوں کو درست ثابت کرتے ہوئے نئی حکومت بنانے کی راہ ہموار کر لی ہے۔
مبارکباد کے پیغامات کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے طارق رحمن کو تاریخی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری، ترقی پسند اور ہمہ گیر بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا رہے گا اور مشترکہ ترقیاتی مقاصد کے لیے مل کر کام کرے گا۔ امریکہ نے بھی طارق رحمن اور بی این پی کو مبارکباد دی۔ بنگلہ دیش میں امریکہ کے سفیر نے اپنے پیغام میں کامیاب انتخابات پر عوام کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان خوش حالی اور سلامتی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔
بعد ازاں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی طارق رحمن کو شاندار کامیابی پر مبارکباد دی اور جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے نئی قیادت کے ساتھ کام کرنے کی امید ظاہر کی۔ بی این پی کے چیئرمین طارق رحمن نے نتائج کے بعد کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فتح کے جلوس نکالنے کے بجائے جمعہ کی نماز ادا کریں اور ملک کی بھلائی کے لیے دعا کریں۔ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ سرکاری نتائج کے بعد باقاعدہ دعائیہ اجتماع منعقد کیا جائے گا۔
یہ انتخابات 2024 کی بڑی عوامی تحریک کے بعد پہلی بار منعقد ہوئے۔ انتخابی عمل عبوری حکومت کے سربراہ مشیر محمد یونس کی نگرانی میں انجام پایا۔ عوام نے نئی پارلیمنٹ کے انتخاب کے ساتھ ساتھ آئینی مجوزہ ترامیم پر بھی رائے دی۔
بی این پی کے سربراہ طارق رحمن نے ڈھاکہ 17 اور بوگورا 6 سمیت دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ عوامی لیگ کو اس بار انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں ملی جبکہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے بیرون ملک سے اس انتخابی عمل کو نمائشی قرار دیا۔ طلبہ قیادت میں قائم نیشنل سٹیزن پارٹی کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی اور وہ محدود نشستوں تک سمٹ گئی۔ مبصرین کے مطابق ان نتائج سے بنگلہ دیش کی آئندہ سیاسی سمت اور خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔