فکر و خیالات

ڈر کا خاتمہ تو ہوا، آگے کیا؟...پرشوتم اگروال

جین زی کے احتجاج نے خوف کے ماحول میں دراڑ ڈالتے ہوئے حکومت کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے۔ اب چیلنج اس نئی یکجہتی کو وسیع، جامع اور طویل مدتی سیاسی متبادل میں بدلنے کا ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

دہلی میں حال ہی میں ہونے والے جین زی کے احتجاج کی شاید سب سے اہم کامیابی وہ دراڑ ہے جو اس نے خوف اور گھٹنے ٹیک دینے کے موجودہ ماحول میں پیدا کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے مودی حکومت کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ اپنی ہٹ دھرمی کو عزمِ مصمم قرار دینے والی حکومت—’اس حکومت میں استعفے نہیں ہوا کرتے‘—کو شرمناک انداز میں پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اپنی وسیع آئی ٹی مشینری کے بل پر خود کو ’دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت‘ کہنے والی جماعت ورچوئل اور حقیقی، دونوں اعتبار سے مضحکہ خیز اور بے اثر دکھائی دینے لگی۔ یہاں تک کہ ہمارے ’اوتاری‘ وزیر اعظم نے جب صورتِ حال سنبھالنے کی کوشش کی تو وہ بھی الٹی پڑ گئی۔ انہوں نے اپنے پسندیدہ رات آٹھ بجے کے ٹی وی وقت سے باہر نکل کر انسٹاگرام ریلز پر ہاتھ آزمایا، جو محض میمز اور مذاق کا مواد بن کر رہ گئیں۔

اس سے ہندوتوا کے وسیع تر منصوبے کو بھی زبردست دھچکا لگا ہے۔ مودی حکومت اور سنگھ کے اعلیٰ عہدے داروں، دونوں کو ’پریوار‘ کے سربراہ موہن بھاگوت نے اس وقت کٹہرے میں کھڑا کر دیا جب ممبئی میں ایک کانفرنس کے دوران انہوں نے صاف کہا کہ جین زی کے یہ مظاہرین ’غدار‘ نہیں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے حکومت کو ان سے بات چیت کرنے کی تاکید کی—یعنی اپنی پرانی ’میری سنو یا چلتے بنو‘ والی ضد سے باز آنے کا مشورہ دیا۔

کانگریس پارٹی، اور خاص طور پر راہل گاندھی، کچھ عرصے سے طلبہ کے مسائل اٹھا رہے تھے، لیکن وزیر اعظم کے دفتر کے ’لمبے ہاتھوں‘ کے باعث ان کی کوششوں کو میڈیا میں مناسب توجہ نہیں مل پا رہی تھی۔ دراصل، اس امید میں کہ اس سے کانگریس کی مہم کی ہوا نکل جائے گی، حکومت ابتدا میں جنتر منتر کے طلبہ احتجاج کے تئیں خاصی نرم رہی۔ لیکن حکومت کو دور دور تک اندازہ نہیں تھا کہ اس تحریک کو قدر عوامی حمایت مل سکتی ہے۔ وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہی کہ ’جماعتی سیاست‘ سے الگ رہنے والے لوگوں کا ایک بڑا طبقہ اس ظالم اور خود پسند اقتدار کے خلاف اپنی مایوسی کو آواز دینے کے لیے کسی بھی تحریک کا ساتھ دینے کو بے تاب بیٹھا ہے۔

دوسری طرف، جنتر منتر کے احتجاج نے نوجوان ہندوستانیوں کو اپنے جذبات کا اظہار اس انداز میں کرنے کی آزادی دی جو انہیں فطری طور پر آتا ہے۔ جین زی نے ہنسی مذاق کو ایک بے ضرر دکھائی دینے والے مگر بے حد مؤثر ہتھیار میں بدل دیا۔ جدید ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار طنز و مزاح کا اس قدر تخلیقی اور طاقتور انداز میں استعمال ہوا۔ یہاں تک کہ وہ معروف گالیاں بھی، دراصل، اس نظام کے منافقانہ رویے کا ایک بہترین توڑ ثابت ہوئیں جس نے ہندوستانی سیاست میں گالی گلوچ اور الزام تراشی کو معمول بنا دیا ہے۔ یہ گالیاں کسی کو نہیں بخشتیں، حتیٰ کہ گاندھی، نہرو اور مولانا آزاد جیسے محترم اور مرحوم قومی رہنماؤں کو بھی نہیں۔

احتجاج میں نوجوان خواتین کی جانب سے استعمال کی گئی زبان سے رنجیدہ لوگوں کو ڈیجیٹل ہندوتوا (انٹرنیٹ پر چھائی ہوئی ہندوتوا کی ریل کلچر) کی دنیا کا بھی مشاہدہ کرنا چاہیے۔ انہیں سیاسی ہندوتوا کے زیر اثر نوجوان خواتین کی وہ ویڈیوز دیکھنی چاہئیں جن میں وہ جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے اپنی سیاست اور اپنے ’سپریم لیڈر‘ کی مخالفت کرنے والے ہر شخص پر زہریلے اور ناشائستہ الفاظ کی بوچھار کرتی ہیں۔ جنتر منتر پر استعمال کی گئی گالیوں پر حیرت کا اظہار کرنے سے پہلے وزیر اعظم کے لیے بہتر ہوتا کہ وہ بنگال، راجستھان اور دیگر مقامات پر انتخابی مہمات کے دوران استعمال کی گئی اپنی ہی زبان کو یاد کر لیتے۔ اگر انہوں نے اپنے حامیوں کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان پر بھی کبھی اسی طرح حیرت کا اظہار کیا ہوتا تو ان کی بات قدرے زیادہ قابلِ اعتبار لگتی۔

ڈر کے جس ناقابلِ تسخیر قلعے میں اس تحریک نے دراڑیں ڈالی ہیں، وہ امید پیدا کرتی ہیں۔ شاید اس لیے کہ جین زی کا احتجاج بنیادی طور پر تعلیم سے متعلق مسائل پر مرکوز ہے، اس لیے ذات اور مذہب کی بنیاد پر اس میں پھوٹ ڈالنے کی کوششیں اب تک ناکام ہی رہی ہیں۔ ہم ایک ایسے طبقے کے ابھرنے کے گواہ ہیں جس کی شناخت کسی مخصوص ذہنیت سے نہیں بلکہ عملی سمجھ بوجھ سے کی جا سکتی ہے۔ اپنے منتظمین کی حکمتِ عملی کی بصیرت کی قیادت میں یہ متنوع گروہ دکھا رہا ہے کہ مختلف، بلکہ باہم متضاد خیالات رکھنے والے لوگ بھی کسی مشترکہ مقصد کے لیے اکٹھے ہو سکتے ہیں—مثلاً ریزرویشن کے حامی اور مخالفین۔

حقیقت یہ ہے کہ ابتدا میں کچھ مودی حامی بھی اس میں شامل تھے۔ لیکن اپنی خود پسندانہ ضد کے باعث حکومت نے انہیں خود سے دور کر دیا، جس کا براہِ راست فائدہ اس کے مخالفین کو پہنچا۔ دن بہ دن یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ اپنی زندگی میں حقیقی مسائل کا سامنا کرنے والے نوجوان ہندوستانی جذباتی اشتعال کے بجائے ہمدردانہ اور منطقی مکالمے کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔ یہ ایک اہم تاریخی لمحہ ہے اور اگر اسے دانش مندی سے استعمال نہ کیا گیا تو یہ موقع ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔

راہل گاندھی نے اپنی جانب سے بہترین سیاسی پختگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ احتجاجی مقام پر نہیں گئے، انہوں نے سمجھ داری سے اس پر ’سیاست‘ کرنے یا اس کا سہرا اپنے سر باندھنے سے گریز کیا اور اس کے بجائے کانگریس کی رسائی کو مضبوط بناتے رہے۔ وہ تعلیم کی صورتِ حال سے متعلق مطالبات اور خدشات کی غیر جماعتی نوعیت کو اجاگر کرنے کے معاملے میں محتاط رہے ہیں اور انہوں نے نوجوان ہندوستانیوں کے ساتھ منطقی مکالمے کا ہنر بڑی حد تک حاصل کر لیا ہے۔ ان کے نقطۂ نظر میں فوری نوعیت کے اس احتجاج کو آر ایس ایس-بی جے پی کے آمرانہ عزائم کے خلاف ایک طویل مدتی، مستقبل پر نگاہ رکھنے والی مزاحمت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

ذات، برادری، صنف اور زبان کے مسائل بلاشبہ ہندوستانی سیاست کی حقیقتیں ہیں اور عوامی مزاحمتی تحریکوں کو توڑنے کے لیے ان کا مسلسل فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ کوئی بھی سیاسی پروگرام یا تحریک ان حقیقتوں کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔ اس لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ ممکنہ اتحاد کیسے قائم کیا جائے اور ایک بار قائم ہو جانے کے بعد اسے کیسے برقرار رکھا جائے۔ یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ موجودہ حکومت انتہائی خود پسند ہے اور اس آر ایس ایس نظریے سے چلتی ہے جو ہندوستان کے جامع اور جمہوری تصور کا سخت مخالف ہے۔ اس نے مین اسٹریم میڈیا پر اس حد تک قبضہ کر لیا ہے کہ اس کے سیاسی ایجنڈے اور انتہا پسندی کو 24 گھنٹے فروغ دیا جاتا ہے۔

یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ موجودہ حکومت انتہائی خود پسند ہے اور اس آر ایس ایس نظریے سے چلتی ہے جو ہندوستان کے جامع اور جمہوری تصور کا سخت مخالف ہے۔ اس نے مین اسٹریم میڈیا پر اس حد تک قبضہ کر لیا ہے کہ اس کے سیاسی ایجنڈے اور انتہا پسندی کو 24 گھنٹے فروغ دیا جاتا ہے۔ کل جب کبھی ہندوستان کی غیر جانب دار تاریخ لکھی جائے گی تو عوام پر ڈھائے گئے اس ’جہالت اور حماقت کے عذاب‘ کا سب سے بڑا ذمہ دار گودی میڈیا کو قرار دیا جائے گا۔

احتجاج سے پیدا ہونے والی اس توانائی کو مستقل سیاسی سرگرمی میں اسی وقت تبدیل کیا جا سکتا ہے جب موجودہ حکومت اور اس کے نظریاتی سرچشمے، آر ایس ایس کے عزائم کا ایک قابلِ اعتبار متبادل موجود ہو۔ اس کے نفرت انگیز ایجنڈے کا مسلسل مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ آج کے اس دور میں—جو ایک جانب مصنوعی ذہانت اور ورچوئل دنیا اور دوسری جانب تنگ نظر سیاست کے سائے میں تشکیل پا رہا ہے—ہندوتوا کے نقطۂ نظر کے مقابل ایک ٹھوس متبادل کھڑا کرنا ہوگا۔

قومی آزادی کی تحریک کی قیادت کرنے اور ہندوستان کے جامع تصور کو تشکیل دینے کی اپنی تاریخی وراثت کے ساتھ کانگریس کو اس عمل میں سب سے اہم کردار ادا کرنا ہے۔ اس نظریاتی مشق کے ساتھ ساتھ اسے ممکنہ اتحادیوں کی امنگوں کو بھی اپنے اندر سمیٹنا ہوگا۔ یہ سب کہنا آسان اور کرنا مشکل ہے۔ لیکن موجودہ بحران سے نکلنے کا یہی واحد راستہ ہے، ورنہ یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل جانے والے ایک اور موقع کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔