بالی ووڈ

جاں نثار اختر: عام زندگی کے احساسات کو نغموں میں ڈھالنے والا شاعر

جاں نثار اختر نے اردو شاعری کی روایت، رومانیت اور حقیقت نگاری کو فلمی نغموں سے جوڑ کر منفرد مقام حاصل کیا۔ کئی فلموں کے یادگار نغموں کے خالق کو 1976 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر&nbsp; اے آئی</p></div>

تصویر  اے آئی

 

ہندوستانی فلمی دنیا میں جاں نثار اختر کو ایک ایسے ممتاز شاعر اور نغمہ نگار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے فلمی نغموں کو عام انسانی زندگی کے احساسات، تجربات اور جذبات سے جوڑ کر ایک منفرد انداز متعارف کرایا۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی روایت، رومانیت، حقیقت نگاری اور نظریاتی فکر کا خوبصورت امتزاج نظر آتا ہے۔ 19 اگست کو ان کی برسی کے موقع پر ان کی ادبی اور فلمی خدمات ایک بار پھر یاد کی جا رہی ہیں۔

جاں نثار اختر 18 فروری 1914 کو گوالیار، مدھیہ پردیش میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مضطر خیرآبادی بھی معروف شاعر تھے، اس لیے گھر کا ادبی ماحول ان کی شخصیت کی تشکیل میں اہم ثابت ہوا۔ بچپن ہی سے انہیں شاعری سے گہری دلچسپی تھی۔ زندگی کے مختلف نشیب و فراز کو قریب سے دیکھنے کے باعث ان کی شاعری میں انسانی زندگی کے تجربات بڑی شدت اور سچائی کے ساتھ منعکس ہوئے۔

ان کی غزلیں ایک طرف جدید مزاج کی حامل ہیں تو دوسری جانب اردو شاعری کی قدیم روایت سے بھی مضبوط رشتہ قائم رکھتی ہیں۔ ان کی شاعری محض نعروں تک محدود نہیں بلکہ اس میں کلاسیکیت، رومانیت اور حقیقت پسندی کے ساتھ عاشقانہ اور نظریاتی رنگ بھی نمایاں ہے۔ ان کا شعر ’انقلابوں کی گھڑی ہے، ہر نہیں ہاں سے بڑی ہے‘ آج بھی ان کے فکری انداز کی نمائندگی کرتا ہے۔

1945 جاں نثار اختر کی زندگی میں ایک اہم سال تھا۔ اسی سال ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی، جس کا نام انہوں نے ’جادو‘ رکھا۔ یہی جادو آگے چل کر معروف شاعر، نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر کے نام سے فلمی دنیا میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے۔

1947 میں تقسیم ہند کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات نے جاں نثار اختر کو گوالیار چھوڑنے پر مجبور کیا اور وہ بھوپال چلے گئے۔ وہاں انہیں معروف حمیدیہ کالج میں اردو کے پروفیسر کی ملازمت مل گئی، لیکن ان کا دل تدریس میں زیادہ دیر نہیں لگا۔ اپنے ادبی اور فلمی خوابوں کو نئی سمت دینے کے لیے وہ 1949 میں ممبئی پہنچ گئے۔

ممبئی میں ابتدائی دن ان کے لیے انتہائی مشکل تھے۔ معاشی مسائل اور فلمی دنیا میں جگہ بنانے کی جدوجہد کے دوران وہ کچھ عرصہ معروف ناول نگار عصمت چغتائی کے گھر بھی رہے۔ انہوں نے فلم ’شکایت‘ کے لیے نغمہ لکھ کر فلمی دنیا میں قدم رکھا، لیکن فلم کی ناکامی نے ان کی مشکلات میں اضافہ کردیا۔ اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔

1952 میں انہیں اس وقت شدید صدمے سے گزرنا پڑا جب ان کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی تخلیقی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ تقریباً چار برس کی جدوجہد کے بعد 1953 میں فلم ’نغمہ‘ میں شمشاد بیگم کی آواز میں گایا گیا نغمہ ’بڑی مشکل سے دل کی بے قراری میں قرار آیا‘ مقبول ہوا۔ اس کامیابی نے فلمی دنیا میں ان کی شناخت مضبوط کر دی اور انہیں مزید فلموں کی پیشکشیں ملنے لگیں۔

ان کے فلمی سفر میں موسیقار او پی نیر کے ساتھ تعاون ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ فلم ’باپ رے باپ‘ کے لیے انہوں نے ’اب یہ بتا جائیں کہاں‘ اور دیوانہ دل اب مجھے راہ دکھائے‘ جیسے نغمے لکھے، جنہیں آشا بھوسلے کی آواز میں خاصی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد جاں نثار اختر او پی نیر کے پسندیدہ نغمہ نگاروں میں شمار ہونے لگے۔

1956 میں گرو دت کی فلم ’سی آئی ڈی‘ کے لیے ان کا لکھا ہوا نغمہ ’اے دل ہے مشکل جینا یہاں، ذرا ہٹ کے، ذرا بچ کے، یہ ہے بمبئی میری جاں‘ بے حد مقبول ہوا۔ اس نغمے نے ممبئی (سابقہ نام بمبئی) کی تیز رفتار زندگی کو جس انداز میں لفظوں میں سمیٹا، وہ آج بھی یادگار ہے۔

ساٹھ کی دہائی میں جاں نثار اختر نے موسیقار خیام کی موسیقی میں متعدد غیر فلمی نغمے بھی لکھے۔ ’اشعار میرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں‘، ’ہر ایک حسن تیرا‘، ’ہم سے بھاگا نہ کرو‘ اور دیگر نغمے ان کی تخلیقی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔