مسلسل شکست کے بعد ممتا بنرجی کو ملی پہلی خوشخبری، مغربی بنگال بار کونسل کے انتخاب میں درج کی شاندار جیت
مغربی بنگال بار کونسل کی مجموعی طور پر 23 منتخب سیٹوں میں سے 5 خواتین کے لیے ریزرو تھیں۔ نتائج میں ٹی ایم سی نے 15، بی جے پی نے 3، بایاں محاذ نے 3 اور کانگریس نے 2 سیٹوں پر جیت درج کی ہے۔

مغربی بنگال کے اقتدار پر طویل عرصے تک قابض رہنے والی ممتا بنرجی کو ریاست میں مسلسل شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اسمبلی انتخاب میں شکست کے بعد ٹی ایم سی کے ہاتھ سے مسلسل لوکل باڈی کھسکتی جا رہی تھی لیکن اب ٹی ایم سی کو بار کونسل کے انتخاب میں شاندار جیت ملی ہے۔ مغربی بنگال بار کونسل کے انتخاب میں ترنمول کانگریس نے 23 میں سے 15 سیٹوں پر شاندار جیت حاصل کر کے اپنا قبضہ برقرار رکھا ہے۔ اس انتخاب میں بی جے پی کو 3، بایاں محاذ کو 3 اور کانگریس کو 2 سیٹیں ملی ہیں۔ ممتا بنرجی کی سفارش پر میدان میں اترے ٹی ایم سی امیدواروں نے 5 محفوظ خواتین سیٹوں میں سے 4 پر جیت حاصل کی ہے۔
واضح رہے کہ مغربی بنگال بار کونسل کی مجموعی طور پر 23 منتخب سیٹوں میں سے 5 خواتین کے لیے ریزرو تھیں۔ نتائج میں ٹی ایم سی نے 15، بی جے پی نے 3، بایاں محاذ نے 3 اور کانگریس نے 2 سیٹوں پر جیت درج کی ہے۔ خواتین کے لیے محفوظ 5 سیٹوں میں سے ٹی ایم سی نے 4 اور کانگریس نے ایک سیٹ جیتی ہے۔ انتخاب کے بعد سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق بار کونسل آف انڈیا مزید 2 خواتین امیدواروں کو نامزد کرے گی، جس کے بعد مجموعی تعداد 25 ہو جائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ بار کونسل کے انتخاب میں مجموعی طر پر 75 امیدوار میدان میں اترے تھے۔ ٹی ایم سی کے 23، بی جے پی کے 22، بایاں محاذ کے 12 اور 18 آزاد وکلاء نے اپنی قسمت آزمائی تھی۔ ٹی ایم سی لائرز سیل کے شبھاشیش چکرورتی نے سب سے بڑے فرق سے جیت حاصل کی۔ دیگر اہم فاتحین میں سے بیسونر چٹرجی، انصار منڈل، اشوک دیب، اندرنیل بسو اور سدھارتھ مکھرجی شامل ہیں۔ یہ تمام ممتا بنرجی کی سفارش پر میدان میں اترے تھے۔
ٹی ایم سی لائرز سیل کے رکن سنجے بردھن نے بتایا کہ تمام ضلعی عدالتوں کے پریکٹس کرنے والے وکلاء کی جانب سے ووٹنگ کے ذریعہ بار کونسل تشکیل دی گئی۔ انتخاب کے لیے ووٹنگ 9 مارچ سے شروع ہوئی تھی۔ گزشتہ انتخاب کے مقابلے میں بی جے پی نے 3 اور کانگریس نے 2 سیٹیں برقرار رکھیں، جبکہ بایاں محاذ کی سیٹیں 4 سے گھٹ کر 3 رہ گئیں۔ ٹی ایم سی اب جلد ہی نیا بورڈ تشکیل دینے جا رہی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
