ٹی ایم سی کو سپریم کورٹ سے نہیں ملی راحت، 440 کروڑ روپے والے بینک کھاتوں پر روک برقرار

ای ڈی کے مطابق ٹی ایم سی کے 3 بینک کھاتوں میں تقریباً 440 کروڑ روپے جمع ہیں۔ ایجنسی مبینہ منی لانڈرنگ اور مالیاتی لین دین کی تحقیقات کر رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی منی لانڈرنگ تحقیقات سے منسلک معاملے میں منگل کے روز ٹی ایم سی کو سپریم کورٹ سے راحت نہیں ملی۔ عدالت نے پارٹی کے ان بینک کھاتوں کو معمول کے مطابق بحال کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا جنہیں ای ڈی نے تحقیقات کے دوران منجمد کیا ہے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس مرحلے پر کلکتہ ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت نہیں کرے گی۔

جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پی بی ورالے کی بنچ ٹی ایم سی کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ پارٹی نے کلکتہ ہائی کورٹ کے 20 جولائی کے عبوری حکم کو چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے ٹی ایم سی کے 3 ایچ ڈی ایف سی بینک کھاتوں کو معمول کے مطابق چلانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ ہائی کورٹ کا حکم متوازن ہے اور فی الحال اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ عدالت نے فریقین کی عرضیوں کو نمٹا دیا۔


واضح رہے کہ اس معاملے میں 9 جولائی کو کلکتہ ہائی کورٹ نے ٹی ایم سی کو اپنے روزمرہ اور ضروری اخراجات کے لیے کھاتوں سے محدود لین دین کی اجازت دی تھی۔ حالانکہ یہ چھوٹ پوری طرح سے آزاد نہیں تھی۔ عدالت نے ایک خصوصی افسر مقرر کیا تھا جس کی نگرانی میں ہی کھاتوں کو چلایا جانا تھا۔ پارٹی کو باقاعدہ اخراجات کے لیے فنڈز استعمال کرنے کی اجازت ملی تھی لیکن کھاتوں پر مکمل کنٹرول نہیں دیا گیا تھا۔ بعد میں ٹی ایم سی نے کھاتوں کو مکمل طور پر چلانے کی اجازت طلب کرتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

سپریم کورٹ نے مذکورہ معاملے میں ایک اور اہم ہدایت دی۔ عدالت نے ٹی ایم سی کے باغی رہنما بسوناتھ داس کو اپنے اعتراضات اور دلائل عدالت کی طرف سے مقرر کردہ خصوصی افسر کے سامنے رکھنے کی اجازت دے دی۔ جسٹس سندریش نے کہا کہ معاملے سے جڑے تمام قانونی اور حقائق پر مبنی دلائل اصل عرضی کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ کے سامنے رکھے جا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ فی الحال معاملے کے میرٹ پر کوئی رائے نہیں دینا چاہتی۔


ای ڈی کے مطابق ٹی ایم سی کے 3 بینک کھاتوں میں تقریباً 440 کروڑ روپے جمع ہیں۔ ایجنسی مبینہ منی لانڈرنگ اور مالیاتی لین دین کی تحقیقات کر رہی ہے۔ تحقیقات کا مرکز پارٹی کے فنڈز کو ایک کمپنی اور اس سے منسلک دیگر ادارے تک منتقل کرنے کے الزامات پر ہے۔ اس کے علاوہ طیاروں اور ہیلی کاپٹر کی خریداری سے جڑے کچھ مالیاتی لین دین بھی تحقیقات کے دائرے میں ہیں۔ حالانکہ ایجنسی کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں اور ان الزامات پر حتمی عدالتی نتیجہ آنا باقی ہے۔ ایسے میں معاملے پر حتمی فیصلہ متعلقہ عدالتوں میں آئندہ ہونے والی سماعتوں کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔