آر جے ڈی مظاہرہ: ’ہم ڈرنے والے نہیں‘، پولیس حراست میں لیے جانے کے بعد تیجسوی یادو کا سخت رد عمل

پولیس حراست میں لیے جانے کے دوران تیجسوی یادو نے کہا کہ ’’ہم طلبا کے حقوق کی خاطر، پرچہ لیک روکنے کے لیے، بہار کو آگے بڑھانے کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تیجسوی یادو (فائل تصویر)، یو این آئی</p></div>
i

بہار میں قومی اہلیت و داخلہ امتحان (نیٹ) کا پرچہ لیک ہونے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر پولیس کارروائی اور اے کے-47 سے گولی چلائے جانے کے خلاف آر جے ڈی آج (19 اگست) راج بھون مارچ کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جب پارٹی کے ہزاروں کارکنان راج بھون کے قریب پہنچے، تو پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کو پولیس نے حراست میں بھی لے لیا گیا۔

پولیس حراست میں لیے جانے کے دوران تیجسوی یادو نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ہم طلبا کے حقوق کی خاطر، پرچہ لیک روکنے کے لیے، بہار کو آگے بڑھانے کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’عوام خاموش بیٹھنے والی نہیں ہے۔ ہمیں انصاف چاہیے۔ جوابدہی طے ہونی چاہیے کہ کس کے حکم پر گولی چلائی گئی۔ بہار پرچہ لیک کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘


قابل ذکر ہے کہ تیجسوی یادو کی قیادت میں پارٹی کے کارکنوں نے پٹنہ کے جے پی گولمبر سے راج بھون کے لیے مارچ نکالا۔ اس دوران آر جے ڈی کے کارکنان سیوان میں اے کے-47 رائفل کے استعمال کے خلاف لکڑی سے بنی اے کے-47 لے کر پہنچے۔ ساتھ ہی حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

اس دوران پارٹی رکن پارلیمنٹ میسا بھارتی نے سمراٹ حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’طلبا کے ساتھ جو ناانصافی ہوئی، اس کے 25-20 دن گزر گئے لیکن حکومت اب تک نیند سے نہیں جاگی۔ سپریم کورٹ میں بہار حکومت نے تسلیم کیا کہ اے کے-47 رائفل کا استعمال ہوا تھا۔ تب عدالت کو بہار حکومت کے وکیل سے پوچھنا چاہیے تھا کہ اے کے-47 لے کر احتجاج میں جانے کی اجازت کس نے دی؟‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’اگر ضلع مجسٹریٹ یا پولیس سپرنٹنڈنٹ نے اجازت دی تھی تو انہیں فوراً معطل کیا جانا چاہیے۔ لیکن یہ بہار حکومت قاتل حکومت ہے جو عام لوگوں کا قتل کروا رہی ہے اور نوجوانوں کے مستقبل کا بھی قتل کر رہی ہے۔‘‘


پد یاترا میں شامل ہوئے پارٹی کے رکن پارلیمنٹ منوج کمار جھا نے کہا کہ ’’طلبا اور نوجوان پورے ملک میں مشتعل ہیں، خاص طور پر بہار میں۔ سوالناموں کا لیک ہونا یہاں ایک روایت بن گئی ہے۔ نوجوان بے روزگاری کی مار برداشت نہیں کر پا رہے ہیں۔ یہ مارچ انہی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے نکالا گیا مارچ ہے۔‘‘ اس مقوع پر آر جے ڈی رکن اسمبلی بھائی وریندر نے کہا کہ ’’جو طلبا اپنے حقوق اور پرچہ لیک کے معاملے پر احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں پر اترے تھے، ان کے خلاف اے کے-47 کا استعمال کیا گیا۔ ملزمین کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ جب تک کارروائی نہیں ہوتی، ہماری تحریک جاری رہے گی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔