بالی ووڈ

آرزو لکھنوی: مشاعروں سے فلموں تک کا سفر، ’دیوداس‘ کے ایک گیت نے بدلی تقدیر

آرزوؔ لکھنوی نے مشاعروں سے فلموں تک اپنی شاعری کا لوہا منوایا۔ ’دیوداس‘ کے مشہور گیت نے انہیں فلمی دنیا میں پہچان دی اور وہ اردو فلمی نغمہ نگاری کا معتبر نام بن گئے

<div class="paragraphs"><p>آرزو لکھنوی / اے آئی سے تیار کی گئی تصویر</p></div>

آرزو لکھنوی / اے آئی سے تیار کی گئی تصویر

 

اردو شاعری کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جنہوں نے صرف مشاعروں تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ بدلتے وقت کے ساتھ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نئے میدانوں میں بھی منوایا۔ انہی میں ایک نمایاں نام آرزوؔ لکھنوی کا ہے، جنہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھ کر یہ ثابت کر دیا کہ خالص شاعری بھی پردۂ سیمیں پر زندہ رہ سکتی ہے۔

آرزوؔ لکھنوی کا اصل نام سید انور حسین تھا۔ ان کی پیدائش 16 فروری 1873 کو لکھنؤ کے ایک متمول اور علمی ماحول رکھنے والے خاندان میں ہوئی۔ والد میر ذاکر حسین یاس خود بھی شاعر تھے، جبکہ والدہ آمنہ بیگم کا تعلق بھی ادبی گھرانے سے تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آرزوؔ کو بچپن ہی سے شعر و ادب کا ذوق ورثے میں ملا۔ گھر کا ماحول ایسا تھا جہاں زبان، بیان اور خیال کی تربیت فطری طور پر ہوتی تھی۔

Published: undefined

آرزوؔ نے باقاعدہ طور پر جلال لکھنوی سے اصلاح لی۔ محض بارہ تیرہ برس کی عمر میں وہ نہ صرف شاعری کی باریکیوں کو سمجھنے لگے بلکہ خود بھی شعر کہنے لگے۔ چودہ برس کی عمر میں لکھنؤ کے ایک نواب کے یہاں منعقدہ مشاعرے میں ان کی پہلی باضابطہ شرکت نے اہلِ محفل کو چونکا دیا۔ نوعمری ہی میں ان کی شاعری نے توجہ حاصل کر لی اور وہ باقاعدگی سے مشاعروں میں مدعو ہونے لگے۔

آرزوؔ لکھنوی نے شاعری کی تقریباً تمام اصناف میں طبع آزمائی کی—غزل، مرثیہ، نعت، سلام، قصیدہ، مثنوی، رباعی اور گیت۔ یہی نہیں، نثر پر بھی انہیں عبور حاصل تھا۔ اسٹیج ڈرامے لکھنا اور برجستہ مکالمے تخلیق کرنا ان کی فطری صلاحیتوں میں شامل تھا۔ ان کے کئی ڈرامے مثلاً چاند گرہن، چراغِ توحید اور حسن کی چنگاری کتابی صورت میں شائع ہوئے اور خوب مقبول ہوئے۔ بعد ازاں ان کے دو شعری مجموعے جانِ آرزو اور فغانِ آرزو بھی منظرِ عام پر آئے۔

Published: undefined

وقت کے ساتھ آرزوؔ کا سفر لکھنؤ سے دہلی اور پھر کلکتہ تک پہنچا۔ اس دور میں کلکتہ فلمی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ اردو اور بنگالی فلموں کی تیاری اپنے عروج پر تھی اور نیو تھیٹرز ایک نمایاں فلم کمپنی کے طور پر ابھر چکی تھی۔ آرزوؔ لکھنوی اس ادارے سے وابستہ ہو گئے۔ ابتدا میں وہ فلموں کے اردو اسکرپٹ کی جانچ کرتے اور فنکاروں کے تلفظ کی اصلاح پر مامور رہے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب خاموش فلموں کا دور اختتام پذیر ہو رہا تھا اور بولتی فلموں کا آغاز ہو چکا تھا۔ فلمی گیت ابھی ادبی معیار سے دور تھے اور محض منظر کو گرمانے کا ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔ ایسے ماحول میں ایک سنجیدہ شاعر کا فلموں سے جڑنا غیر معمولی بات تھی۔

Published: undefined

سال 1936 میں فلم دیوداس نے آرزوؔ لکھنوی کی تقدیر بدل دی۔ ہدایت کار پرماتھیش بروا کی اس فلم میں کندن لال سہگل کے گائے ہوئے گیت ’بالم آئے بسو مورے من میں‘ نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب فلمی دنیا نے تسلیم کیا کہ شاعری محض تک بندی نہیں بلکہ جذبات کی ترجمان بھی ہو سکتی ہے۔

اس کامیابی کے بعد نیو تھیٹرز کی بیشتر فلموں کے گیت آرزوؔ لکھنوی ہی نے لکھے۔ اسٹریٹ سنگر، آندھی، مکتی، ابھاگن، نرتکی اور ہار جیت جیسی فلموں کے نغمات نے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ان کے گیتوں کی خاص بات سادگی، روانی اور جذبے کی سچائی تھی۔

Published: undefined

بعد میں اپنے قریبی دوست کندن لال سہگل کے بمبئی منتقل ہونے پر آرزوؔ لکھنوی بھی 1942 میں کلکتہ چھوڑ کر بمبئی آ گئے۔ یہاں نیشنل فلم اسٹوڈیو نے انہیں خوش آمدید کہا۔ روٹی، لالہ جی اور جوانی جیسی فلموں کے گیت بے حد مقبول ہوئے۔ اس مرحلے پر آرزوؔ مکالمہ نگاری میں بھی سرگرم ہو گئے۔

تقسیمِ ہندوستان کے بعد فلمی صنعت کا منظرنامہ بدل گیا۔ 1948ء میں بے قصور اور رات کی رانی آرزوؔ لکھنوی کی آخری فلمیں ثابت ہوئیں۔ عمر کے آخری دور میں وہ ایک مشاعرے کے سلسلے میں کراچی گئے، جہاں 17 اپریل 1951 کو ان کا انتقال ہو گیا۔ یوں اردو شاعری اور فلمی ادب کا ایک درخشاں باب اختتام پذیر ہوا، مگر ان کا تخلیقی ورثہ آج بھی زندہ ہے۔

(ان پٹ: یو این آئی)

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined