عرب ممالک

غزہ میں خوراک اور پانی کی سپلائی محدود، صورتحال تباہ کن ہوگئی: ورلڈ فوڈ پروگرام

سویڈن اور ڈنمارک سمیت متعدد ممالک نے کہا ہے کہ وہ حماس کے اسرائیل پر اچانک حملے کے بعد فلسطینی علاقوں کی امداد روک دیں گے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ آئی اے این ایس</p></div>

تصویر بشکریہ آئی اے این ایس

 

اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے ترجمان نے العربیہ کو بتایا کہ غزہ کی صورت حال تباہ کن ہوگئی ہے۔ کیونکہ محصور شہر میں خوراک، پانی اور بجلی کی فراہمی مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے فلسطین کنٹری آفس میں کمیونیکیشن اور انفارمیشن مینجمنٹ کی سربراہ عالیہ ذکی نے کہا کہ غزہ میں خوراک، پانی اور بجلی ختم ہونے کے دہانے پر ہے اور صورت حال تباہ کن ہوگئی ہے۔ ہفتہ 7 اکتوبر کو علی الصبح فلسطینی تنظیم ’’ حماس‘‘ نے غزہ سے غیر متوقع طور پر اسرائیل پر حملہ کردیا تھا۔

Published: undefined

جنگ پانچویں روز بھی جاری رہی ۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر خوفناک بمباری کی جارہی۔ فاسفورس بم بھی برسائے جا رہے اور غزہ کی مکمل ناکہ بندی کردی گئی ہے۔ غزہ کی جانب خوراک، پانی اور بجلی کی ترسیل روک دی گئی ہے۔ورلڈ فوڈ پروگرام کی عالیہ ذکی نے کہا غزہ میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر نے خوراک کی پیداوار اور دکانوں اور بیکریوں میں خوراک کی تقسیم میں شدید رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں ڈبلیو ایف پی اس صورت حال کو مانیٹر کر رہا ہے۔

Published: undefined

ڈبلیو ایف پی کے زیر نگرانی آدھی دکانوں اور بیکریوں میں ایک ہفتے کے اندر کھانا ختم ہو جائے گا۔ وہ افراد جو اب بھی کام کر رہے ہیں، ان کو بھی بجلی کی بار بار بندش سے خوراک کے خراب ہوجانے کی صورت حال کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق غزہ کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی پہلے ہی غربت کی زندگی گزار رہی ہے۔

Published: undefined

بدھ کی سہ پہر غزہ کی بجلی کی اتھارٹی کی طرف سے ایک اعلان دیکھا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ انکلیو کے واحد پاور پلانٹ میں ایندھن ختم ہو گیا اور اس کے بعد کام بند ہو گیا ہے۔پاور اتھارٹی کے سربراہ جلال اسماعیل نے ایک بیان میں کہاکہ غزہ کی پٹی میں واحد پاور پلانٹ نے دوپہر 2 بجے یعنی جی ایم ٹی وقت کے مطابق 1100 بجے کام کرنا بند کر دیا تھا۔

Published: undefined

انہوں نے کہا رہائشی اب بھی بجلی کے لیے پاور جنریٹر استعمال کر سکتے ہیں تاہم سرحد کے تمام اطراف میں اسرائیل کی ناکہ بندی کی وجہ سے ان جنریٹرز کو چلانے کے لیے ضروری ایندھن جلد ہی ختم ہونے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی سپلائی کو مکمل طور پر منقطع کرنے سے غزہ کے لوگوں کو خوراک کے بہت کم ذخیرہ کو نقصان پہنچے گا۔ بجلی کی بار بار بندش اور کنیکٹیویٹی کے مسائل بھی شہر میں ڈبلیو ایف پی کے کاموں میں رکاوٹ ڈالیں گے۔

Published: undefined

ذکی کے مطابق ڈبلیو ایف پی نے پہلے ہی غزہ اور مغربی کنارے کے 8 لاکھ سے زیادہ لوگوں جو خوراک، پانی اور ضروری سامان تک رسائی سے محروم ہیں کو خوراک کی ایک اہم لائف لائن فراہم کرنے کے لیے ایک ہنگامی آپریشن شروع کر دیا ہے۔

Published: undefined

کھانے کے لیے تیار تازہ روٹی اور ڈبہ بند کھانا ایک لاکھ 37 ہزار بے گھر غزہ کے باشندوں کو پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ افراد انروا کی پناہ گاہوں میں پناہ کی تلاش میں ہیں۔ ڈبلیو ایف پی نے ایک لاکھ 64 ہزار لوگوں کو اپنے الیکٹرانک واؤچرز میں ہنگامی کیش ٹاپ اپ بھی فراہم کیا ہے جسے وہ مقامی دکانوں سے کھانا خریدنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

Published: undefined

تاہم تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار بے گھر افراد غزہ کی پٹی میں انروا کے 88 سکولوں میں پناہ کی تلاش میں ہیں۔ ان کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے کیونکہ اسرائیلی فضائی حملے بدستور جاری ہیں۔ انہوں نے العربیہ کو بتایا کہ جلد ہی ہمارا پہلے سے رکھا ہوا کھانے کا ذخیرہ اور وسائل ختم ہو جائیں گے۔

Published: undefined

سویڈن اور ڈنمارک سمیت متعدد ممالک نے کہا ہے کہ وہ حماس کے اسرائیل پر اچانک حملے کے بعد فلسطینی علاقوں کی امداد روک دیں گے۔ اس ہفتے کے شروع میں وسیع پیمانے پر تنقید کے بعد یورپی کمیشن نے اپنے اس اعلان سے پیچھے ہٹ گیا کہ وہ محصور شہر کی امداد معطل کر دے گا۔

Published: undefined

یورپی کمیشن کی پسپائی اس وقت ہوئی جب ناروے، سپین، اور کئی دیگر ملکوں اور انسانی حقوق گروپ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پہلے سے سنگین صورتحال امداد معطلی کی وجہ سے مزید بگڑ جائے گی۔ ذکی نے کہا کہ ڈبلیو ایف پی غزہ میں امداد پہنچانے کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداریوں کو کھولنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ سرحدوں کو کھلا رکھا جائے اور گولہ باری سے محفوظ رکھا جانا بھی ضروری ہے۔ (بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined