ویڈیو ڈِسکشن: تیجسوی بنے ہیرو، نتیش ہوئے زیرو

بہار اسمبلی انتخاب کے دوران بہار سے موصول ہونے والی رپورٹوں کے مطابق ایک طرف جہاں تیجسوی کی قیادت میں عظیم اتحاد کی مقبولیت میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے، وہیں دوسری طرف نتیش سے لوگ بدظن ہو رہے ہیں۔

user

قومی آوازبیورو

بہار میں پہلے مرحلہ کے لئے ووٹنگ جاری ہے اور شروع میں رائے دہندگان کی تعداد میں ضرور کمی نظر آ رہی تھی لیکن بعد میں رائے دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ پہلے مرحلہ کے اسمبلی انتخابات میں آج دو لاکھ سے زیادہ رائے دہندگان 16 اضلاع میں71 اسمبلی نشستوں کے لئے 1066 امیدواروں میں سے اپنی پسند کے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔

جمہوریت میں انتخابات ایک تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس مرتبہ بہار میں دو بڑے سیاسی اتحاد کے درمیان مقابلہ ہے جس میں ایک اتحاد کی قیادت بہار کے 15 سال سے وزیر اعلی نتیش کمار کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت والے اتحاد این ڈی اے میں جے ڈی یو، بی جے پی، وی آئی پی اور جیتن رام مانجھی کی ’ ہم‘ پارٹی ہے جبکہ چراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی اتحاد سے الگ ہو گئی ہے اور اکیلے انتخابات لڑ رہی ہے۔ اس اتحا د کا مقابلہ عظیم اتحاد سے ہے جس کی قیادت آ ر جے ڈی کے تیجسوی یادو کر رہے ہیں اور اس اتحاد میں کانگریس اور بائیں محاذ کی تمام پارٹیاں شامل ہیں۔

بہار اسمبلی کے لئے شروع ہونے والے اس مقابلہ میں بہار سے موصول ہونے والی رپورٹوں کے مطابق تیجسوی کی قیادت میں عظیم اتحاد کی مقبولیت میں جہاں مستقل اضافہ نظر آ رہا ہے وہیں نتیش کمار کے خلاف ماحول میں شدت آتی جا رہی ہے۔ واضح رہے کورونا وبا کے پھیلنے کے بعد یہ پہلا بڑا چناؤ ہے۔ پہلے مرحلہ کی ووٹنگ شروع ہونے کے بعد بہار کے سیاسی رخ پر تبادلہ خیال پر ویڈیو پیش خدمت ہے۔

next