قومی آواز بلیٹن: گمراہ کن پروپیگنڈا ڈپلومیسی اور مضبوط قیادت کا متبادل نہیں، منموہن؛ معصوم بچے کو چھوڑ میاں-بیوی نے کی خودکشی

پیش خدمت ہیں آج کی کچھ اہم خبریں: دنیا بھر میں کورونا متاثرین کی تعداد 90 لاکھ سے تجاوز؛ زلزلے کے 2 شدید جھٹکوں سے میزورم میں خوف

user

قومی آوازبیورو

گمراہ کن پروپیگنڈا کبھی بھی ڈپلومیسی اور مضبوط قیادت کا متبادل نہیں ہوسکتا: منموہن سنگھ کا بیان

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے وادی گلوان میں شہید ہوئے 20 ہندوستانی فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئےحکومت سے کہا ہے کہ ان شہیدوں کی قربانیاں ضائع نہیں جانی چاہئیں۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان کے ان جانباز جوانوں نے مادر وطن کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کر دی۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے وزیر اعظم کے ذریعہ دیئے گئے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو اپنے الفاظ اور اعلانات کے ذریعہ ملک کی سلامتی اور مفادات پر پڑنے والے اثرات کے تعلق سے ہمیشہ بہت محتاط رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے اس سال اپریل سے آج تک کئی مرتبہ دراندازی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کو بیان کے ذریعہ ان کے سازشی رویہ کو تقویت نہیں دینا چاہیے تھا اور یہ یقینی بنانا چاہیے تھا کہ حکومت ہر خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار ہے اور مل کر ان کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گمراہ کن پروپیگنڈا کبھی بھی ڈپلومیسی اور مضبوط قیادت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کچھ لوگوں کی سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پچھ لگو اتحادیوں کے ذریعہ جھوٹی تشہیر سے سچائی کو نہیں دبایا جا سکتا۔

معصوم بچے کو چھوڑ کر میاں بیوی نے کی خود کشی، بے روز گاری اور بھوک کی چڑھے بھینٹ

اتر پردیش میں ایک جوڑے کے ذریعہ پھانسی لگا کر خودکشی کرنے کا افسوسناک معاملہ سامنے آیا ہے۔ معاملہ اتر پردیش کے کانپور ضلع کا ہے جہاں پہلے شوہر نے اور پھر بعد میں بیوی نے پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ اس تعلق سے کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یوگی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پرینکا گاندھی نے ٹوئٹ کر کے کہا ہے کہ "ایک طرف صوبہ کے وزیر اعلیٰ لاکھوں ملازمتیں دینے کا دم بھر رہے ہیں تو دوسری طرف کانپور کے نوجوان جوڑے نے لاک ڈاؤن میں گئی ملازمت کے سبب بھوک کی وجہ سے موت کو گلے لگا لیا۔" پرینکا گاندھی نے مزید کہا کہ حکومت کو بحران کے اس وقت تشہیر سے زیادہ لوگوں کے مسائل کو حل کرنے پر دھیان دینا چاہیے۔ واضح رہے کہ کانپور کے بدھنو تھانہ حلقہ میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملازمت چھوٹنے اور معاشی بحران کے سبب ایک نوجوان نے پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ شوہر کے بعد بیوی نے بھی کمسن بچے کو کمرے میں چھوڑ کر خود کو پھانسی لگا لی۔ خبروں کے مطابق نیو آزاد نگر میں کرایہ کے مکان میں رہنے والے سیکورٹی گارڈ راجندر ورما نے پولس کو بتایا کہ بیٹا پرنس لکھنؤ کی ایک دوا کمپنی میں کام کرتا تھا جس نے خودکشی کر لی۔

کانپور شیلٹر ہوم میں 57 بچیاں کورونا پازیٹو اور کئی حاملہ، پرینکا گاندھی نے اٹھائے سوال

کورونا بحران کے دوران اتر پردیش سے ایک حیران کرنے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے اپنے فیس بک پیج پر ایک خبر کا لنک شیئر کیا ہے جس کے مطابق کانپور شیلٹر ہوم میں رہنے والی 57 بچیاں کورونا پازیٹو پائی گئی ہیں، اور اتنا ہی نہیں جانچ کے دوران پتہ چلا کہ کچھ بچیاں حاملہ ہیں اور ایک تو ایچ آئی وی پازیٹو بھی ہے۔ اس خبر کے تعلق سے پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ "کانپور کے سرکاری شیلٹر ہوم میں 57 بچیوں کو کورونا پازیٹو پایا گیا اور پتہ چلا کہ 2 بچیاں حاملہ ہیں اور ایک کو ایڈس پازیٹو نکلا ہے۔ مظفر پور (بہار) کے گرلس شیلٹر ہوم کا پورا قصہ ملک کے سامنے ہے۔ یو پی میں بھی دیوریا سے ایسا معاملہ سامنے آ چکا ہے۔ ایسے میں ایک بار پھر اس طرح کے واقعات کا سرزد ہونا ظاہر کرتا ہے کہ جانچ کے نام پر سب کچھ دبا دیا جاتا ہے، لیکن سرکاری شیلٹرم ہوم میں بہت ہی غیر انسانی واقعات رونما ہو رہے ہیں۔"

دنیا بھر میں کورونا متاثرین کی تعداد 90 لاکھ سے تجاوز

جان لیوا کورونا وائرس رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور دنیا بھر میں 4 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ کورونا متاثرین کی تعداد 90 لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے۔ دنیا میں سپر پاور مانے جانے والے امریکہ میں کورونا وائرس سے اب تک ساڑھے 23 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوچکے ہیں اور 1 لاکھ 22 ہزار سے زیادہ افراد اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ برازیل میں اب تک 10لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں جبکہ اس وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

زلزلے کے 2 شدید جھٹکوں سے میزورم میں خوف، کئی مکانات منہدم

12 گھنٹے کے اندر میزورم میں زلزلہ کے دو جھٹکے آئے ہیں جس کی وجہ سے کئی مکانات کو نقصان پہنچنے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے لیکن کچھ مکانات منہدم ہو گئے ہیں اور کئی مکانات کی دیواروں میں شگاف پڑ گئے ہیں۔

قومی آواز کے ذمہ دار قارئیں اور ناظرین سے ضروری گزارش، سوشل ڈسٹینسنگ پر عمل کریں، شکریہ
Published: 22 Jun 2020, 8:11 PM