کیوں نہ کہوں: نازک دور میں ہی بڑے فیصلہ لئے جاتے ہیں... سید خرم رضا

غور کیجئے، حالات نازک ہیں، ایسے حالات میں ہی بڑے فیصلے لئے جاتے ہیں۔ سماجی اور مذہبی اداروں کو امداد سے انحصار کم کر کے حقیقی خود انحصاری کی جانب گامزن ہونا پڑے گا

user

سید خرم رضا

ہزاروں لوگوں کے قریبیوں کا اس دنیا سے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ لاکھوں افراد اسپتالوں میں کورونا کی وبائی بیماری سے جوجھ رہے ہیں اور ان کے عزیز و اقارب خوف کے سائے میں جینے پر مجبور ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ بحران صرف طبی ہے اور صرف ہماری صحت تک محدود ہے۔ اس وبا نے لوگوں کو نہ صرف اقتصادی طور پر تباہ کر دیا ہے بلکہ بڑے پیمانہ پر لوگوں کو بے روزگار بھی بنا دیا ہے۔ طبی بحران کی وجہ سے لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن کی وجہ سے معیشت اور سماجی زندگی کی تباہی اور اس کے بعد نہ جانے کیا کیا! اور اس سب کی وجہ سے سماجی زندگی نہ جانے کہاں چلی گئی!

ہم چاہے کتنا کہیں کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کم از کم گھروں میں فیملی کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع تو ملا، یا جن گھروں میں کھانوں کے ذائقے بھول گئے تھے وہ دوبارہ تازہ تو ہوئے، لیکن یہ سب باتیں صرف وہ کر سکتے ہیں جن کے گھروں میں اس وبا نے دستک نہیں دی ہے۔ بے روزگاری نے ان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھٹکنے پر مجبور نہیں کیا۔ وہ معاشی طور پر کچھ مہینے گھروں پر سامان منگوا کر اپنا گزارا کر سکتے ہیں۔ سماج کا یہ طبقہ وہ ہے جس کو خوشحالی کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے لیکن دنیا کی اور خاص طور سے ملک کی ایک بڑی آبادی ایسی ہے جس کے بچوں کو شام کا کھانا جب ہی نصیب ہوتا ہے جب گھر کے کسی فرد کام کی دہاڑی مل جاتی ہے اور جس کے لئے وہ شہر شہر بھٹکتا پھرتا ہے۔ جن لوگوں کو خوشحالی کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے ان کے پاس زندگی گزارنے کے لئے معاشی ذرائع تو ہیں لیکن ان کے لئے بھی سماجی زندگی بہت ضروری ہے۔

بہرحال، اس پر تو بہت کچھ لکھا اور بولا جا سکتا ہے لیکن ایک خوفناک حقیقت یہ بھی ہے کہ طبی بحران سے پیدا ہونے والا معاشی بحران بہت سارے مسائل کو جنم دے گا۔ معاشی بحران جنم دے گا بے روزگاری کو اور بے روزگاری سے پیدا ہوں گے مختلف قسم کے جرائم۔ چین اسنیچنگ سے لے کر دوکان لوٹنے، قتل کرنے اور خود کشی کرنے جیسے اقدام۔ جیسے آج یہ کہا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ خطرہ ان افراد کو ہے جو پہلے سے بیمار ہیں، کمزور ہیں اور ان کے جسم کا مدافعتی نظام یعنی امیونٹی سسٹم کمزور ہو گیا ہے، ویسے ہی یہ معاشی بحران اقتصادی طور پر کمزور، بیمار اور جن کا غربت سے لڑنے کا امیونٹی سسٹم بہت کمزور ہے وہ سب سے زیادہ خطرے میں ہیں اور وہ اس معاشی بحران کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔ کون ہیں معاشی طور پر بیمار اور کس کا امیونٹی سسٹم کمزور ہے۔ ظاہر ہے غریب، پسماندہ اور اقلیتیں ہی ہیں۔ اقلیتوں کی حالت پہلے سے ہی بہت خراب ہے اس لئے اس بحران کا اثر بھی ان پر زیادہ ہوگا، ان پر خطرے کے بادل بھی زیادہ منڈلا رہے ہیں۔

معاشی بحران کے اس دور میں جہاں روزگار ختم ہو رہے ہوں اور چند شعبوں کو چھوڑ کر باقی میں مواقع موجود نہیں رہ گئے ہیں تو ایسے حالات میں سب کو اپنے لئے کوئی نہ کوئی حکمت عملی وضع کرنی پڑے گی۔ اقلیتوں کے تعلق سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ لوگوں اور قائدین کو اپنے اوپر اعتماد برقرار رکھنا ہوگا اور کسی بھی طرح کی مایوسی سے دور رہنا ہوگا۔ لوگوں کو اب اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ وہ روزگار کی تلاش نہ کریں بلکہ روزگار پیدا کرنے پر غور کریں۔ چھوٹے چھوٹے گروپ میں اکٹھا ہو کر نئے کاروبار شروع کرنے کے بارے میں غور کرنا ہوگا۔ لاک ڈاؤن نے جہاں بہت سے مواقع بند کیے ہیں وہیں بہت سے نئے راستے کھولے بھی ہیں۔ اقلیتوں کی بڑی سماجی اور مذہبی تنظیموں کا کردار اس وقت بہت اہم ہے۔ یہاں اشارے کے طور پر صرف ایک بات کہنا چاہوں گا کہ دیوبند جیسے ادارہ کو اب کاروبار اور روزگار کے مرکز کے طور پر سامنے آنا ہوگا۔ وہاں سے جو ابھی تک طلباء فارغ ہو کر نکلتے ہیں وہ یا تو مساجد کی امامت، مؤذن یا پھر مدارس میں مدرس کی نوکریوں کے لئے جستجو کرتے ہیں۔ ان تعلیمی اداروں کو اب ایسے تعلیمی نصاب پر غور کرنا ہوگا جس سے موجودہ روزگار کے علاوہ دیگر روزگار کے مواقع بھی کھلیں۔ ان اداروں کو خود کو زکوۃ اور امداد سے اپنا انحصار کم کرنے کے لئے اپنی کمپنیاں اور فیکٹریاں لگانی چاہئیں۔ شروع میں صاحب خیر حضرات سے امداد لے کر رام دیو کی طرح اپنے پروڈکٹس تیار کیجئے۔ پروفیشنل لوگوں کی قیادت میں ان اداروں کے فارغ طلباء کو بطور ورک فورس استعمال کیجئے۔ ان طلباء کو ان کمپنیوں میں پہلے بطور انٹرن شپ تربیت دیجئے پھر ان کو سیلس مین، مارکیٹنگ مین اور برینڈنگ کے لئے استعمال کیجئے۔

اس پر غور کیجئے، حالات نازک ہیں، ایسے حالات میں ہی بڑے فیصلے لئے جاتے ہیں۔ سماجی اور مذہبی اداروں کو امداد سے انحصار کم کر کے حقیقی خود انحصاری کی جانب گامزن ہونا پڑے گا۔ راستہ نیا اور دشوار گزار ضرور ہے لیکن ممکن ہے اسی راستہ کے لئے یہ آزمائش ہمارے اوپر مسلط ہوئی ہو۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔ ان پہلوؤں پر بھی غور کیجئے۔

’کیوں نہ کہوں‘ کی اگلی پیش کش میں ہم انفرادی طور پر کیا کر سکتے ہیں اور مساجد کا ہماری زندگیوں میں کیا مقام ہے اس پر بات ہوگی۔ جب تک کے لئے خدا حافظ، غور کیجئے اور اپنا خیال رکھیے۔