کیوں نہ کہوں: غصہ مت کیجئے، جب گھر میں آگ لگے گی تو دیکھا جائے گا...سید خرم رضا

ٹرمپ، مودی اور کیجریوال کو آپ معاف کر ہی دیں گے کیونکہ یہ’ ہمارے‘ والے زمرے میں آتے ہیں۔ غصہ مت کیجئے جب آگ گھر میں لگے گی جب دیکھا جائے گا

user

سید خرم رضا

دنیا کے تقریباً ہر ملک میں جارج فلائیڈ لائیڈ کے قتل کے خلاف مظاہرے ہوئے اور کچھ ممالک کے تو سربراہ بھی ان مظاہروں کاحصہ بنے۔ کینیڈا کے نوجوان وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نسل پرستی کے خلاف کھل کر موقف اختیار کرتے ہوئے آٹھ منٹ تک زمین پر گھٹنا ٹیک کر بیٹھے رہے۔ یورپ کے ہر ملک میں ’بلیک لائیوس میٹر‘ کے نام سے ہونے والے مظاہروں میں ایک بڑی سفید فام آبادی نے شرکت کی۔ جرمن فٹبال لیگ کے دوران دو ٹیموں نے میدان کے سینٹر میں آٹھ منٹ تک گھٹنے ٹیک کر بیٹھ کر مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، کیونکہ فلائیڈ لائیڈ کی گردن پر سفید فام پولس افسر نے آٹھ منٹ تک اپنا گھٹنا رکھا تھا۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک طرف جہاں دنیا بھر میں نسل پرستی کے خلاف لوگ سڑکوں پر اتر رہے ہیں اور صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں وہیں دوسری طرف ہندوستان کے کسی بھی حصہ سے اور کسی بھی گروپ کے ذریعہ سوشل میڈیا یا کسی اور پلیٹ فارم پر کسی طرح کا احتجاج نظر نہیں آیا۔ امریکہ اور ٹرمپ کو تو چونکہ ہم اپنا آقا تصور کرتے ہیں اس لئے سرکاری سطح پر کسی احتجاج کے بارے میں تو سوچ بھی نہیں سکتے۔ ہم تو امریکہ میں جا کر ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ تک کے نعرے لگا دیتے ہیں۔ سرکار کیا کرتی ہے اور ملک کو اس خارجہ پالیسی کا کیا نقصان ہوتا ہے یہ الگ موضوع ہے لیکن ملک میں سرکار کے علاوہ بھی بہت سی تنظیمیں، ادارے اور افراد ہوتے ہیں۔

افسوس تو یہ ہے کہ ان کی جانب سے بھی صرف سوشل میڈیا پر فارورڈ فارورڈ کا کھیل کھیلنے کے علاوہ کچھ اورنظر نہیں آیا۔ یہ سمجھ لینا چاہئے کہ امریکہ میں نسل پرستی کے نام پر اور سفید فام کی برتری کے نام پر وہاں کی حکومت کی سرپرستی میں سیاہ فاموں کے خلاف جوہو رہا ہے وہ کل ایشیائی لوگوں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ آپ بھی سفید چمڑی والے تو نہیں ہیں۔ پھر کیا کریں گے؟ اپنا گھر، ملک اور سماج بچانا ہے تو جس گھر میں پہلے آگ لگے اس کی آگ کو بجھا دیں گے تو آپ بھی محفوظ رہیں گے نہیں تو آج یہ گھر کل آپ کا گھر، اس کے بعد سماج اور پھر دنیا۔

یہ تو امریکہ اور سیاہ فام جارج فلائیڈ لائیڈ کی بات ہے اور ہم کسی غلط فہمی کی وجہ سے اسے دوسروں کی لڑائی مان رہے ہیں اور وہاں کی موجودہ حکومت کے خلاف ہم آواز بھی نہیں اٹھا سکتے کیونکہ یہ ’ہمارے ہیں‘۔ لیکن ہمیں تو ہندوستان اور خاص طور سے دہلی میں جو ہو رہا ہے اس پر بھی غصہ نہیں آتا۔ کورونا سے متاثرین اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد مستقل بڑھ رہی ہے۔ اس تعلق سے بھی ہم فوراً امریکہ کی مثال دے دیتے ہیں کہ جب امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک اس وبا پر قابو نہیں کر پایا تو ہم تو آخر ہیں کس کھیت کی مولی! ہم ان ممالک کے اعداد و شمار دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے جنہوں نے اس وبا کے خلاف مؤثر مہم چلائی اور اس پر قابو پا لیا۔ چین کے تعلق سے تو فوراً کہہ دیتے ہیں کہ وہاں سے صحیح معلومات کہاں آتی ہے وہ تو معلومات چھپاتا ہے۔ ویسے جہاں تک صحیح معلومات کا تعلق ہے تو ہم دہلی کے بارے میں بھی یہی کہتے ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ دہلی میں تو کمال ہو رہا ہے۔

دہلی میں نہ لاک ڈاؤن کے درمیان اور نہ اس سے پہلے اس وبا سے لڑنے کے لئے کوئی تیاری کی گئی۔ ہاں بیان خوب دئے گئے کہ ہمارے پاس اتنے ہزار مریضوں کے علاج کے لئے انتظام ہے، کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، حکومت نے سارے انتظام کئے ہوئے ہیں۔ بیان دیتے وقت شاید یہ خیال تھا کہ ملک میں جیسے ہی درجہ حرارت بڑھے گا ویسے ہی یہ وائرس ہندوستان سے دم دبا کر بھاگ جائے گا لیکن جب یہ نہیں بھاگا اور اس نے پھیلنا شروع کر دیا تو پھر بیان آیا کہ دہلی کے اسپتالوں میں صرف دہلی والوں کا علاج ہوگا۔ پھر بیان آیا کہ اگر اس وائرس کی کوئی علامت نظر آئے تو اسپتال نہ جائیں بلکہ گھر میں ہی خود کو کوارنٹائن کر لیں۔ جناب دہلی کے سرکاری اسپتالوں کی حالت ایسی کر دی گئی ہے کہ کوئی وہاں جانے کے لئے تیار ہی نہیں ہے۔ اب ہاتھ پیر پھول گئے ہیں اور لگتا ہے کہ بہت دیر ہو چکی ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ ہندوستان اور دہلی کے عوام کو کسی بھی بد انتظامی اور کسی بھی غلط بیانی پر غصہ نہیں آتا۔ وہ ہر ماحول کے ساتھ جینے کے عادی ہیں اور کیوں نہ ہوں، ابھی چند ماہ پہلے تو انہوں نے دہلی کی موجودہ حکومت کو عالمی معیار کی طبی سہولیات کی وجہ سے دوبارہ زبردست مینڈیٹ کے ساتھ منتخب کیا ہے۔ ایک سال پہلے مرکز میں بھی دوبارہ اسی سرکار کو اقتدار سونپا گیا جس کی غلط بیانی اور اچھے دنوں کے جملوں کی صداقت سب کو معلوم تھی۔ کسی کوغصہ نہیں آتا، کوئی نہیں بولتا کیونکہ کسی نے مرکز کی برسر اقتدار پارٹی کو ووٹ دے کر اپنے ضمیر کو بیچ دیا ہے، تو کسی نے دہلی کی براسراقتدار پارٹی کو ووت دے کر۔

جو قوم ایسی ہوتی ہے اس کے رہنما اور قائد بھی ان کے جیسے ہی ہوتے ہیں اور کیوں نہ ہوں، وہ بھی تو انہیں عوام میں سے ہی آتے ہیں۔ ہم دوسرے لوگوں کی تکالیف کے ویڈیو اور آڈیو پیغامات شئیر کر کے اور ان پر تبصرہ کرکے یا غصہ کا اظہار کر کے خود کو نہ صرف بہت بہادر سمجھتے ہیں بلکہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہم نے تو اپنی ذمہ داری ادا کر دی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں اصلیت کا اندازہ جب ہوگا جب آگ ہمارے گھر میں لگے گی اور یہ آگ چاہے امریکہ کی نسل پرستی کی ہو یا ملک میں کووڈ-19 کو لے کر بد انتظامیوں اور غلط بیانیوں کی وجہ سے بدتر حالات کی ہو۔ ٹرمپ، مودی اور کیجریوال کو آپ معاف کر ہی دیں گے کیونکہ یہ’ ہمارے‘ والے زمرے میں آتے ہیں۔ غصہ مت کیجئے جب آگ گھر میں لگے گی جب دیکھا جائے گا۔