وراٹ کوہلی ہندوستانی کرکٹ کے ’برج خلیفہ‘ ہیں: ورون چکرورتی

ہندوستانی گیندباز ورون چکرورتی نے کہا کہ ’’برج خلیفہ دنیا کی سب سے اونچی عمارت ہے، اگر اسے موازنہ کیا جائے تو یہ وراٹ کوہلی ہونا چاہیے۔‘‘

ورون چکرورتی، تصویر آئی پی ایل
ورون چکرورتی، تصویر آئی پی ایل
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان کے اسپن گیندباز ورون چکرورتی سے جمعہ کو ایک عجیب و غریب سوال پوچھا گیا۔ سوال یہ تھا کہ اگر دبئی کی بڑی بڑی عمارتوں کا موازنہ ہندوستانی کرکٹروں سے کرتے ہیں تو آپ کس کو کیا کہہ کر بلائیں گے؟ اس پر ورون نے گگلی اور فلپرس کی شکل میں سوال پوچھنے والے شخص کو اسی کے انداز میں مزیدار جواب دیے۔ ان سے آئی سی سی ٹی-20 عالمی کپ میں کھیل رہے ہندوستانی ٹیم کے اپنے ساتھیوں کا موازنہ یو اے ای کی مشہور عمارتوں سے کرنے کے لیے کہا گیا تھا، جس پر فن تعمیر میں گریجویشن کی ڈگری لینے کے بعد ملازمت چھوڑ کرکٹ کی دنیا میں آنے والے چکرورتی نے ’برج خلیفہ‘ عمارت کا موازنہ ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی سے کیا۔

چکرورتی نے کہا کہ ’’برج خلیفہ دنیا کی سب سے اونچی عمارت ہے۔ اگر اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ وراٹ کوہلی ہونا چاہیے۔ وہ سب سے بڑے اور ٹیم کے کپتان ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے جتنے رن بنائے ہیں، اس کے حساب سے بھی وہ برج خلیفہ ہی ہونا چاہیے۔‘‘ اسپنر نے مشہور ’برج العرب‘ عمارت کا موازنہ ’کیپٹن کول‘ مہندر سنگھ دھونی کے ساتھ کیا، اس کا ڈیزائن جہاز کے طرز پر کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا ’’یہ سمندر میں درحقیقت ایک پرسکون عمارت ہے، بالکل دھونی کی طرح۔‘‘


ہاردک پانڈیا کی چمکدار ڈریسنگ اسٹائل کو لے کر چکرورتی نے ان کا موازنہ مشہور ’اٹلانٹس ہوٹل‘ کی عمارت سے کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ اٹلانٹس ہونا چاہیے کیونکہ بہت چمکدار کپڑے پہنتے ہیں، جیسے چمکدار ہوٹل ہیں۔ پانڈیا بہت سارے چمکدار کپڑے پہن کر اچھی طرح سے تیار ہونا پسند کرتے ہیں۔‘‘

چکرورتی نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کر کے ہندوستان کے تیز گیندباز جسپریت بمراہ کا موازبہ ’دبئی فریم‘ عمارت سے کی، جو فن تعمیر کا ایک بہترین ڈیزائن ہے، جسے شہر میں کئی بڑی عمارتوں پر ایک چکور فوٹو فریم کی طرح بنایا گیا ہے۔ اس پر چکرورتی نے کہا کہ اس عمارت میں مڈل اسٹمپ غائپ ہے، یہ جسپریت بمراہ ہونا چاہیے۔


علاوہ ازیں رشبھ پنت کا موازنہ چکرورتی نے ’ٹوئسٹی کیئن ٹاور‘ سے کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں رشبھ کا موازنہ کیئن ٹاور سے کرنا چاہوں گا، کیونکہ جب وہ سلاگ سوئپ کھیلتے ہیں تو وہ اسی کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔‘‘ اس کے بعد چکرورتی نے ’مستقبل کا میوزیم‘ عمارت کا موازنہ سوریہ کمار یادو سے کیا۔ انھوں نے کہا کہ جب وہ کھیل کر خود کو ثابت کرتا ہے، تو وہ دیکھنے لائق ہوتا ہے۔

پھر انھوں نے ابوظبی میں ایلڈر ہیڈکوارٹر عمارت کا موازنہ ہندوستان کے تیز گیندباز محمد شامی سے کی۔ انھوں نے کہا کہ ایک پوری طرح سے چمکدار ڈیزائن جو پوری طرح سے اونچائی پر بنا گول اور دیگر سبھی سمت میں گھومتا رہتا ہے ’’جیسے جب وہ گیندبازی کرتے ہیں تو وہ سیم کو سیدھا رکھ کر پھینکنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘


آخر میں چکرورتی نے کہا کہ ’’کیئن ٹاور کے بغل میں ایک اور نئی عمارت بن رہی ہے، یہ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے ایک اور کرکٹر کا کیریر بن رہا ہو۔‘‘ واضح رہے کہ دبئی کی عمارتیں دنیا بھر میں اپنے خاص ڈیزائن اور فن تعمیر کے بہترین نمونے کی شکل میں جانی جاتی ہیں۔ ورون چکرورتی نے جس طرح ہندوستانی کرکٹر کا موازنہ ان عمارتوں کے ساتھ کیا، وہ واقعی دلچسپ رہا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔