فٹ بال :عالمی سیاست اور فیفا کا دوہرا معیار

فیفا پر ناقدین فلسطین اور یوکرین تنازعات میں مبینہ دوہرے معیار، اسرائیل کے خلاف کارروائی سے گریز، سیاسی جانبداری اور غیر جانبدار ساکھ متاثر ہونے کے الزامات عائد کر رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

فٹ بال کی عالمی تنظیم (فیفا) پر فلسطینی اور یوکرینی تنازعات کے حوالے سے دوغلے معیار اپنانے کا سنگین الزام عائد کئے جا رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق، فیفا نے روس پر فوری اور سخت پابندیاں عائد کیں، جبکہ اسرائیل کے خلاف تادیبی کارروائی سے مسلسل گریز کیا جا رہا ہے۔ یہ واضح ہے کہ فیفا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کھیلوں کی سرگرمیوں پر خاموش رہ کر سیاسی جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ مزید برآں، تنظیم کی قیادت پر الزام ہے کہ وہ عالمی سیاست کے زیرِ اثر فٹ بال کو مخصوص ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے بطور آلہ استعمال کر رہی ہے۔ ناقدین کی رائے میں فیفا اپنی غیر جانبدارانہ حیثیت کھو چکی ہے، جس سے اس کے وقار اور ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

کھیل اور عالمی بھائی چارہ

بین الاقوامی کھیلوں کے میدان محض جسمانی مہارت کے مظاہرے کے مقامات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک ایسی ہمہ گیر اور عالمگیر زبان کی حیثیت رکھتے ہیں جو جغرافیائی، سیاسی اور ثقافتی حدود سے بالاتر ہو کر قوموں کو ایک لڑی میں پروتی ہے۔ فیفا ورلڈ کپ جیسے میگا ایونٹس عالمی سطح پر ہم آہنگی، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ فٹ بال، جو کہ دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے، اس میں یہ غیر معمولی صلاحیت موجود ہے کہ وہ شدید سیاسی اختلافات کے باوجود عوام کو ایک پرامن پلیٹ فارم پر اکٹھا کر سکے۔ تاہم، ان بلند بانگ نظریات کے باوجود، کھیلوں کی عالمی تنظیمیں اکثر اپنی سیاسی غیر جانبداری اور دیانتداری کے حوالے سے کڑی تنقید اور عوامی جانچ پڑتال کی زد میں رہتی ہیں۔ حالیہ جیو پولیٹیکل صورتحال نے یہ سوال شدت سے اٹھایا ہے کہ کیا یہ ادارے واقعی غیر جانبدار ہیں یا عالمی سیاست کے زیرِ اثر اپنے ہی ضوابط کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔

روس یوکرین تنازعہ اور فیفا کا ردعمل

کسی بھی عالمی بحران کے دوران بین الاقوامی اداروں کی ساکھ کا دارومدار ان کی فیصلہ کن قوت اور فوری ردعمل پر ہوتا ہے۔ فروری 2022 میں روس اور یوکرین کے درمیان تنازعہ کے آغاز پر فیفا نے غیر معمولی سرعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ثابت کیا کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت کی بھرپور طاقت رکھتا ہے۔ فیفا اور یوئیفا(یو ای ایف اے) نے چند ہی دنوں میں روس کے خلاف جو سخت تادیبی اقدامات کیے، وہ درج ذیل ہیں:


• روسی ٹیموں پر فوری اور مکمل پابندی:روس کی تمام قومی ٹیموں اور فٹ بال کلبوں کو بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت سے غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا۔

• بڑے ٹورنامنٹس سے اخراج:روس کو 2022 کے ورلڈ کپ کوالیفائرز سے باہر نکالنے کے ساتھ ساتھ یورو 2024 اور 2026 کے ورلڈ کپ کی دوڑ سے بھی محروم کر دیا گیا۔

• نئے قوانین کا نفاذ:غیر ملکی کھلاڑیوں اور کوچز کے تحفظ کے لیے خصوصی معاہداتی قوانین متعارف کرائے گئے، جس کے تحت انہیں روسی اور یوکرینی کلبوں کے ساتھ اپنے معاہدے یکطرفہ طور پر معطل کر کے ملک چھوڑنے کی اجازت دی گئی۔

فیفا کے ان اقدامات نے کھیلوں کی دنیا میں ایک ایسی نظیر قائم کی جہاں ایک خودمختار ریاست کے خلاف جیو پولیٹیکل بنیادوں پر فوری کارروائی کی گئی۔ تاہم، یہی فیصلہ کن انداز اس وقت غائب نظر آیا جب نظریں مغربی ایشیا کے دیرینہ تنازعات کی طرف مڑیں۔

فلسطین اسرائیل تنازعہ میں تاخیری حربے

بین الاقوامی قانون اور کھیلوں کی حکمرانی میں "مستقل مزاجی" اور "یکساں اطلاق" کو بنیادی ستون مانا جاتا ہے۔ لیکن فلسطین اور اسرائیل کے معاملے میں فیفا کا طرزِ عمل اس کے اپنے قائم کردہ سابقہ معیارات سے متصادم نظر آتا ہے۔ یہاں فیفا نے روس والی سرعت کے بجائے "تاخیری حربوں" اور سفارتی مصلحت پسندی کا سہارا لیا ہے۔ ذرائع کی روشنی میں فیفا کے اس متضاد رویے کے اہم پہلو یہ ہیں:

• مسلسل التوا اور ٹال مٹول:فلسطین فٹ بال ایسوسی ایشن (پی ایف اے)کی جانب سے اسرائیلی فٹ بال ایسوسی ایشن (آئی ایف اے)کی معطلی کے مطالبات کو بار بار موخر کیا گیا۔ فیفا نے کوئی بھی ٹھوس فیصلہ لینے کے بجائے معاملے کو مبینہ "آزاد قانونی پینلز" کے سپرد کر کے وقت گزاری کی۔

• غیر قانونی بستیوں میں کلبوں کی شمولیت:مقبوضہ مغربی کنارے میں بین الاقوامی قوانین کے خلاف قائم اسرائیلی بستیوں میں موجود فٹ بال کلبوں کو اسرائیلی لیگ کا حصہ بننے دیا گیا، جس پر فیفا نے پی ایف اے کے قانونی اعتراضات کے باوجود خاموشی برقرار رکھی۔

• قانونی پیچیدگی کا لبادہ:فیفا نے اسرائیل پر پابندی لگانے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ بین الاقوامی عوامی قانون کے تحت ان علاقوں کی قانونی حیثیت "انتہائی پیچیدہ" ہے، حالانکہ روس کے معاملے میں ایسی کسی پیچیدگی کو رکاوٹ نہیں بننے دیا گیا۔

روس پر فوری پابندیوں اور اسرائیل کے خلاف برسوں کی خاموشی نے فیفا کی دوغلی پالیسی یا " ڈبل اسٹینڈرڈز" کو پوری دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔

فیفا ایک 'سیاسی آلہ کار'

عالمی اداروں کو ان کے تیار کردہ (مینوفیکچرڈ)بیانیہ سے نکال کر جوابدہ بنانا دانشورانہ تنقید کا بنیادی مقصد ہے۔ سیاسی تجزیہ نگار زیویئر ابو عید نے ’الجزیرہ‘ کے لیے اپنے تجزیے میں فیفا کو ایک آزاد تنظیم کے بجائے ایک "سیاسی آلہ کار" قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فیفا محض طاقتور ممالک کی خارجہ پالیسی کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔ ان کے الفاظ میں "فیفا ایک آزاد کھیلوں کی تنظیم نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایک سیاسی آلہ ہے۔" وہ فیفا کی قیادت، بالخصوص گیانی انفنٹینو پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ ڈال کر انہیں "پاک صاف ظاہر کرنے" (وائٹ واشنگ) کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک فیفا کی مجرمانہ خاموشی درج ذیل نکات سے واضح ہوتی ہے:


1. کھلاڑیوں کے قتل پر خاموشی: فیفا نے اسرائیلی حملوں میں فلسطینی کھلاڑیوں کے قتل اور ان کی معذوری کی مذمت نہیں کی۔ خاص طور پر فلسطینی خواتین فٹ بال ٹیم کی کھلاڑیوں رند حلاونی اور نتالی ابو دعیہ کی گرفتاری پر کوئی احتجاج نہیں کیا گیا۔

2. بنیادی ڈھانچے کی تباہی:غزہ میں فٹ بال اسٹیڈیمز کی منظم تباہی اور کھلاڑیوں کے سفری اجازت ناموں پر اسرائیلی پابندیوں کے خلاف فیفا نے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔

3. انفنٹینو کی سیاسی وابستگیاں: فیفا کے سربراہ نے مسلسل ایسی تقریبات میں شرکت کی جو خالصتاً سیاسی تھیں، جیسے 'ابراہم ایکارڈز' کی دستخطی تقریب اور 'یروشلم پوسٹ' کانفرنس جو بیت المقدس میں مسلمانوں کے قدیم اور مقدس 'مامِلا'قبرستان کی بے حرمتی کر کے بنائی گئی جگہ پر منعقد ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ فروری میں انہوں نے متنازعہ 'بورڈ آف پیس' کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کی۔

یہ حقائق، جن کا تذکرہ زیویئر ابو عید نے ’الجزیرہ‘ میں کیا ہے، فیفا کی ساکھ پر ایک گہرا داغ ہیں اور ادارے کے ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کے متقاضی ہیں۔

کھیلوں میں غیر جانبداری کا تحفظ ناگزیر

بین الاقوامی کھیلوں کے تشخص اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے غیر جانبداری کا تحفظ ناگزیر ہے۔ فیفا کو اپنی ساکھ بچانے کے لیے محض بیانات کے بجائے عملی اصلاحات کرنی ہوں گی۔ اس حوالے سے تین کلیدی اسٹریٹجک تجاویز درج ذیل ہیں:

• ضوابط کا بلا تفریق اطلاق:انسانی حقوق اور سیاسی مداخلت سے متعلق فیفا کے قوانین کا اطلاق تمام رکن ممالک پر یکساں اور بغیر کسی جیو پولیٹیکل دباؤ کے ہونا چاہیے۔ یہ ناقابلِ قبول ہے کہ ایک ملک کے لیے قانون کا معیار کچھ اور ہو اور دوسرے کے لیے کچھ اور۔

• حقیقی طور پر آزاد نگرانی کا نظام: فیفا کو ایسے خودمختار قانونی اور تحقیقاتی پینل تشکیل دینے چاہئیں جو عالمی طاقتوں یا میزبان ممالک کے سیاسی اثر و رسوخ سے مکمل طور پر پاک ہوں۔ موجودہ پینلز، جو فیصلے کرنے کے بجائے التوا کا سبب بنتے ہیں، ان کی جگہ ایک شفاف اور بااختیار عدالتی نظام لایا جائے۔

• قیادت کی سیاسی لاتعلقی: فیفا کی قیادت کے لیے ایک سخت ضابطہ اخلاق ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی ایسی سیاسی تقریب، کانفرنس یا معاہدے کا حصہ نہ بنیں جو کسی تنازعہ میں ایک فریق کی حمایت یا دوسرے کی حق تلفی پر مبنی ہو، تاکہ ادارے کا غیر جانبدارانہ تشخص برقرار رہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگرچہ کھیل اور سیاست کو مکمل طور پر جدا کرنا مشکل ہے، لیکن "کھیل کی روح" کا تحفظ ہر قیمت پر ضروری ہے۔ فٹ بال کو انسانیت کو جوڑنے والے ایک پرامن آلے کے طور پر باقی رکھنے کے لیے فیفا کو اپنی "دوغلی پالیسی" ترک کرنی ہوگی۔ اگر ادارے نے اپنے رویے میں انقلابی تبدیلی نہ لائی، تو وہ تاریخ میں محض عالمی طاقتوں کے ایک سفارتی ہتھیار کے طور پر یاد رکھا جائے گا اور کھیل کا اصل مقصد یعنی عالمی امن ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔