جرمنی: نوجوانوں کی تعداد میں ریکارڈ کمی

جرمنی کی مجموعی آبادی میں پندرہ سے چوبیس برس عمر کے افراد کی تعداد پہلی مرتبہ صرف 10فیصد رہ گئی ہے۔ نوجوانوں کی تعداد میں اس ریکارڈ کمی کے ساتھ جرمنی یورپی اوسط عمر سے نیچے چلا گیا ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

Dw

جرمنی کے وفاقی دفتر برائے شماریات کی طرف سے پیر کے روز جاری کردہ تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق سن 1950، جب سے ریکارڈ رکھنے کا سلسلہ شروع ہوا، کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب 15سے 24 برس عمر کے جرمن آبادی کی تعداد اپنی سب سے نچلی سطح کو پہنچ گئی ہے۔

گوکہ مجموعی طورپر جرمن آبادی کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور سن 2021 کے اواخر میں یہ پہلی مرتبہ 83.2 ملین کو پار کرگئی تاہم15 سے 24 برس کے کلیدی عمر گروپ کے شہریوں کی تعداد صرف 10 فیصد ہے۔


ڈیسٹاٹس کے اعدادو شمار کے مطابق جرمنی میں نوجوانوں کی تعداد اور آبادی میں ان کی حصہ داری میں سن 2005 سے ہی مسلسل گراوٹ آرہی ہے، البتہ سن 2015 اس سے مستشنیٰ ہے، لیکن سن 2021 میں یہ اپنی نچلی سطح کو پہنچ گئی۔

اعدادوشمار کے مطابق سن 2021 کے اواخر 15 سے 24 برس کی عمر گروپ کے افراد کی تعداد صرف 8.3 ملین رہ گئی۔


جرمنی کی آبادی کا منظر نامہ

پیر کے روز جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جرمنی میں 15 سے 24 برس گروپ کے نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ سن 1983میں تھی جب یہ مجموعی آبادی کا 16.7 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ جرمنی میں تاہم مختلف صوبوں اور علاقوں میں آبادی کی صورت حال مختلف ہے۔

بریمین میں نوجوانوں کی تعداد 11 فیصد ہے جب کہ مشرقی ریاست برینڈن برگ میں ان کی تعداد 8 فیصد اور سکسونی انہالٹ اور میکلن برگ ویسٹرن پومیرانیا میں سے ہر ایک صوبے میں نوجوانوں کی تعداد صرف 8.3 فیصد ہے۔


یورپی ملکوں کے اعدادو شمار جمع کرنے والے ادارے یورواسٹیٹ کے مطابق جرمنی میں مجموعی آبادی میں نوجوانوں کی حصہ داری اسپین اور آسٹریا کے برابر ہے تاہم جمہوریہ آئرلینڈ سے کم ہے، جہاں نوجوانوں کی تعداد مجموعی آبادی کا 12.6 فیصد ہے۔ یورپی یونین کے ملکوں میں نوجوانوں کی اوسط تعداد 10.6 فیصد ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


;