اسٹیڈیم نہ جانے دینے پر خاتون کی خودکشی کی کوشش

ايران ميں ايک خاتون نے فٹ بال اسٹيڈيم ميں داخلے کی کوشش پر گرفتاری اور پھر ممکنہ سزا کے خوف سے خود کشی کی کوشش کی۔ يہ واقعہ چند ماہ قبل پيش آيا تھا، جس پر ہيومن رائٹس واچ نے ايک رپورٹ جاری کی ہے۔

اسٹیڈیم نہ جانے دینے پر خاتون کی خودکشی کی کوشش
اسٹیڈیم نہ جانے دینے پر خاتون کی خودکشی کی کوشش

ڈی. ڈبلیو

ہيومن رائٹس واچ کی طرف سے آج نو ستمبر کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سحر نامی ايک ايرانی لڑکی نے رواں سال مارچ ميں ملکی دارالحکومت تہران کے ايک فٹ بال اسٹيڈيم ميں داخل ہونے کی کوشش کی۔ آج يہ انتيس سالہ لڑکی ہسپتال ميں ہے اور اس کی حالت تشويش ناک بتائی جا رہی ہے۔ اس پر ’غلط طريقے سے حجاب کرنے‘ کی فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ اسی پر سحر نے کمرہ عدالت کے باہر خود کشی کی کوشش کی اور اسے سنگين نوعيت کی چوٹيں آئيں۔

سن 1981 سے ايران ميں کھيلوں کے اسٹيڈيمز ميں عورتوں کے داخلے پر پابندی عائد ہے۔ نتيجتاً کئی عورتيں مردوں کے لباس ميں اسٹيڈيم جايا کرتی ہيں۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سحر کی حراست اور پھر اس کی خود کشی کی کوشش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ايران کو خواتين کے اسٹيڈيم جانے پر پابندی ختم کرنی چاہيے۔

سحر کی بہن نے ايک ايرانی نيوز ايجنسی کو واقعے کی تفصيلات بيان کرتے ہوئے بتايا کہ سحر اسٹيڈيم کے اندر جانے کی کوشش ميں تھی کہ اسلامی پوليس نے اسے گرفتار کر ليا۔ يہ واقعہ آزادی اسٹيڈيم کے باہر مارچ ميں پيش آيا۔ بہن کے مطابق سحر کو حراست کے بعد ایک حراستی مرکز منتقل کيا گيا جبکہ بعد ازاں اسے ضمانت پر رہائی بھی مل گئی۔ اس نے مزيد بتايا کہ سحر دماغی مرض ’بائی پولر ڈس آرڈر‘ ميں مبتلا تھی اور جيل ميں اس کی حالت مزيد بگڑی۔ جس دن اس نے خود کشی کی کوشش کی، اس دن اسے يہ اطلاع ملی تھی کہ اسے چھ ماہ قيد کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ اس پر سحر نے اسی خوف کے باعث عدالت کے باہر ہی خود کو آگ لگا لی۔ ہيومن رائٹس واچ کی اس بارے ميں نو ستمبر کو جاری کردہ رپورٹ ميں يہ واضح نہيں کہ سحر کی رہائی کب عمل ميں آئی۔

در اصل خواتين کے اسٹيڈيم جانے پر پابندی کوئی باقاعدہ قانون نہيں ليکن حکام اس پر سختی سے عمل کرتے ہيں۔ يہ فيفا کے آئين کی بھی خلاف ورزی کے برابر ہے، جس ميں عورتوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے امتيازی سلوک کو ممنوع قرار ديا گيا ہے۔

ہيومن رائٹس واچ کی مکمل رپورٹ آپ اس ايڈريس پر پڑھ سکتے ہيں: https://www.hrw.org/news/2019/09/09/woman-banned-stadiums-iran-attempts-suicide