آبادی کنٹرول کرنے والے بل کو انتخابی سیاست سے دور رکھنے کی ضرورت... سید خرم رضا

اس بل سے سب سے زیادہ متاثر ملک کے دلت ہوں گے کیونکہ ان کی آبادی بھی زیادہ ہے اور ان کو ریزرویشن میں نوکری کی بھی ضمانت ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی کی علامتی تصویر
خاندانی منصوبہ بندی کی علامتی تصویر
user

سید خرم رضا

اگلے سال فروری-مارچ میں پانچ ریاستوں میں یعنی اتر پردیش، اترا کھنڈ، منی پور، گووا اور پنجاب میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ ان پانچ میں سے چار میں بی جے پی بر سر اقتدار ہے اور پنجاب میں کانگریس کے ہاتھ میں اقتدار کی باگ ڈور ہے۔ ان پانچوں میں سب سے زیادہ اہم اور بڑی ریاست ہے اتر پردیش، اس لئے وہاں سیاست کا بازار بھی کافی گرم ہے۔ پہلے مودی اور یوگی کے اختلافات کی باتیں خوب زوروں پر تھیں۔ اس مسئلہ کو سلجھانے کے لئے جہاں وزیر اعلی یوگی کو دہلی آ نا پڑا، وہیں آر ایس ایس کے اعلی رہنماؤں کو اس معاملہ میں مداخلت کرنی پڑی۔ اس کے بعد ضلع پنچایت اور بلاک پرمکھ کے انتخابات میں دھاندلی اور تشدد کی وجہ سے سرخیوں میں رہا۔

بہر حال کووڈ کی دوسری لہر کے بعد سے یوگی حکومت چاروں اطراف سے مسائل میں گھری ہوئی ہے اور اس کو بخوبی اندازہ ہے کہ عوام میں ریاستی حکومت کی ساکھ گر رہی ہے۔ اسی لئے جہاں ترقیاتی کاموں کی افتتاحی تقریبات کی بارش ہونے والی ہے، وہیں بی جے پی کو اپنے کور ووٹ بینک یعنی ہندو شدت پسندوں کو اپنے سے جوڑے رکھنے کے لئے کوئی مدا ایسا ضروری ہے جس سے ملک کی اقلیتوں یعنی مسلمانوں کو نشانہ بنا کر اپنے ووٹ بینک کو اپنے پیچھے کھڑا رکھا جائے۔ رام مندر، کشمیر اور دیگر مدوں کا ذکر ضرور کیا جاسکتا ہے لیکن اب ان مدوں میں ووٹروں کو راغب کرنے کی پہلے والی صلاحیت باقی نہیں رہی، کیونکہ اب اس میں لگ رہے بدعنوانی کے الزامات کو لے کر بی جے پی بیک فٹ پر ہے۔ اس لئے جس اتر پردیش حکومت نے ریاست کی آبادی کے تعلق سے گزشتہ چار سالوں میں کوئی ذکر نہیں کیا، اس نے انتخابات سے چند ماہ پہلے آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے دوبچوں کی پالیسی کا مسودہ عوام کے سامنے رائے کے لئے پیش کر دیا ہے۔


اس بل میں کسی خاص فرقہ یا ذات کا ذکر نہیں ہے، لیکن بل کا اس وقت لایا جانا سیاست پر مبنی ہے اور اس کو ایسا کر کے پیش کیا جائے گا جیسے مسلمانوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے یہ بل لایا جا رہا ہے، کیونکہ مسلمانوں کی آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس بڑھتی آبادی سے ہندوؤں کو خطرہ ہے۔ اگر اسی رفتار سے مسلمانوں کی آبادی بڑھتی رہی تو ہندو اقلیت میں آ جائیں گے۔ جبکہ یہ سراسر بے بنیاد الزام ہے، لیکن عام ہندو ان جملوں کو حقیقت تسلیم کر کے خوفزدہ ہو جائے گا اور ایک خاص سیاسی پارٹی کے حق میں اپنی رائے دیدے گا۔

موجودہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ریاست میں شرح پیدائش 2.7 فیصد ہے جو 2.1 فیصد ہونی چاہیے اور اگر اس قانون پر صحیح طور پر عمل کیا گیا تو یہ دو فیصد سے بھی کم ہو جائے گی۔ اس پالیسی کا مسودہ عوام کی رائے کے لئے اپلوڈ کر دیا گیا ہے اور اس پر رائے دینے کی آخری تاریخ 19 جولائی ہے۔ جو مسودہ پیش کیا گیا ہے اس میں دو بچوں والے والدین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کچھ مراعات کا ذکر ہے اور زیادہ بچے والے والدین کی حوصلہ شکنی کے لئے کچھ ذکر ہے۔ موٹا موٹی اس میں ذکر ہے کہ جو والدین اس پالیسی پرعمل کریں گے اور ان کے دو ہی بچے ہوں گے تو ان کو سرکاری نوکری، کچھ انتخابات میں امیدوار بننے کی اجازت ہوگی۔ ساتھ میں مفت طبی سہولیات اور دیگر سہولیات ان کو ہی ملیں گی، جبکہ جو اس پالیسی پر عمل نہیں کریں گے ان کو نوکری اور کچھ انتخابات میں امیدوار کا اہل نہیں قرار دیا جائے گا۔ ان والدین پر ٹیکس کی شرح زیادہ ہوگی، مفت طبی سہولیات نہیں ملیں گی اور سرکاری اسکیموں کا فائدہ انہیں نہیں ملے گا۔


دو باتیں یہاں کرنا ضروری ہے کہ جس قانون کا ہم ذکر کر رہے ہیں وہ اس سے پہلے کس ملک میں نافذ ہوا اور اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس کے نقصانات اور فائدے کیا ہیں۔ جہاں تک ہم سے پہلے کسی ملک میں اس کے نفاذ کا تعلق ہے تو وہ 1979 میں چین میں آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک بچے کی پالیسی لاگو کی گئی تھی، جو سال 2015 میں ختم کر کے دو بچوں کی پالیسی میں تبدیل کی گئی اور حال ہی میں اس کو تین بچوں کی پالیسی میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس پالیسی کے نفاذ کے بعد چین میں آبادی ضرور کنٹرول ہوئی، لیکن سماج پر اس کے کچھ مضر اثرت بھی پڑے۔ چین کی آبادی کا بڑا حصہ بوڑھا ہو گیا ہے اور بیک اپ کے طور پر کام کرنے والے نوجوانوں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ ایک بچے پر جہاں بوڑھے ماں باپ کا بوجھ ہے وہیں کام کا بھی بوجھ ہے، جس کی وجہ سے سماجی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے پالیسی کے خوف کی وجہ سے اپنے دوسرے بچے کا اندراج نہیں کرایا، وہ بھی ایک مسئلہ ہوگیا ہے۔ والدین کی تمام تر توجہ ایک بچے کی کامیابی میں لگ گئی اور بچہ سماجی زندگی سے محروم رہ گیا اور اب اس کے سامنے بھی اپنے ماں باپ نہیں بلکہ اپنی زندگی ہے۔ اس طرح کی کئی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے چین نے آبادی کی اپنی پالیسی میں تبدیلی کی۔

ہندوستان کے بڑے شہروں میں نئی نسل پہلے ہی اپنی آزاد زندگی میں بچوں کو کباب میں ہڈی تصور کرتی ہے اور اکثریت کے دو سے زائد بچے نہیں ہیں، جبکہ ایک بڑی تعداد کے ایک ہی بچہ ہے اور ایک خاصی تعداد ان شادی شدہ جوڑوں کی ہے جو بچے چاہتے ہی نہیں۔ شادی کے اداروں پر پہلے ہی لیو ان رلیشن شپ سے کراری ضرب لگ گئی ہے۔ شہروں کی نئی نسل کے لئے پھپو، چچا اور خالہ جیسے رشتہ ختم ہوتے جا رہے ہیں، اسی لئے وہ سوشل میڈیا اور پالتو جانوروں سے رشتہ بڑھا رہے ہیں۔ یہ نئی پالیسی سماجی زندگی کے تانے بانے کو تو نیست نابود کرے گی ہی، ساتھ ہی ریاستوں کی آبادی کے توازن کو بھی بگاڑ دے گی۔


ہندوستان کی دنیا میں جو آج پوچھ ہے وہ اس کی آبادی کی وجہ سے ہے۔ مغرب کی بڑی کمپنیوں کو جہاں سستے مزدور مل جاتے ہیں وہیں اس کمپنی کو تیار شدہ مال بھی اس بڑی آبادی میں کھپ جاتا ہے، یعنی جس آبادی کو ہم لعنت سمجھ رہے تھے وہ کہیں نہ کہیں ہمارے لئے نعمت بھی ثابت ہوئی ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وسائل اور آبادی میں توازن کو برقرار رکھیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت دنیا کا مستقبل ہے کیونکہ کمپیوٹر انسان کا ہر کام کر دے گا، غلطی نہ کے برابر کرے گا اور سب سے بڑی بات نہ تو پلٹ کر جواب دے گا اور نہ ہی اس کو پینٹری، واش روم وغیرہ درکار ہوں گے، لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ کمپیوٹرنما مینیجر، مزدور، ویٹر کام تو انسان کے لئے ہی کریں گے اس لئے انسان تو چاہیے۔ اس لئے ایسے بل لانے سے پہلے صرف آج کے حالات کو ذہن میں نہیں رکھنا چاہیے بلکہ مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے پالیسی بنانی چاہیے۔

ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی شرح پیدائش معمولی زیادہ ضرور ہے لیکن وہ تشویش کا پہلو نہیں ہے، کیونکہ یہ آبادی وہیں زیادہ ہے جہاں ان کو طبی اور دیگر سہولیات دستیاب نہیں ہیں، جہاں یہ سہولیات دستیاب ہیں وہاں ان کی شرح پیدائش کم ہی ہے کیونکہ ان کے اوپر بھی مکان کی قسطیں، اسکول کی فیس، گاڑی کے پٹرول جیسے مسائل ہیں اس لئے وہ اپنی آبادی پہلے ہی اپنے وسائل کے حساب سے پلان کرتے ہیں۔ حکومت کو ہر ہندوستانی کو یکساں سہولیات فراہم کرنے پرزور دینا چاہیے اور ایسے حساس معاملوں کو سیاسی فائدوں کے چشمے سے نہیں دیکھنے چاہیے اور پالیسی مرتب کرتے وقت صرف اور صرف ہندوستان کو ذہن میں رکھنا چاہیے نہ کہ اقلیت اور اکژیتی طبقہ پر مبنی سیاست کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔


آخر میں ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ مسلمانوں کو اس بل سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور سابق الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ اگر اتر پردیش کے مسلمانوں نے اس بل کی حمایت کر دی تو دائیں بازو کی پارٹیاں ہی اس بل کو نہیں لانے دیں گی۔ اس بل سے سب سے زیادہ متاثر ملک کے دلت ہوں گے کیونکہ ان کی آبادی بھی زیادہ ہے اور ان کو ریزرویشن میں نوکری کی بھی ضمانت ہے۔ چند دنوں میں آپ کے سامنے پھر آؤں گا اور مزید گفتگو کروں گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔